میر رضا کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی
میر رضا کے کیس میں ابتدائی میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں جسم پر تشدد کے نشانات کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ میر رضا کو گولی پشت کی جانب سے لگی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس سرجن کی جانب سے اٹھائے گئے 14 اہم سوالات کے جوابات بھی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں شامل ہیں۔ دوسری جانب وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم رپورٹ سے مزید اہم شواہد سامنے آتے ہیں تو پولیس ممکنہ طور پر دو روز کے اندر ملزم تک پہنچ سکتی ہے۔
اس سے قبل میر رضا کی قبر کشائی کرکے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس کے بعد میت کی دوبارہ تدفین کردی گئی۔ طبی اور فرانزک ماہرین نے جسم سے مختلف نمونے بھی حاصل کیے جنہیں کیمیائی تجزیے کے لیے متعلقہ لیبارٹری بھجوایا گیا۔
میڈیکل بورڈ نے میر رضا کے والدین کے ڈی این اے نمونے لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ میر رضا کے والد نے قبر کشائی کے عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ اس مرتبہ پوسٹ مارٹم سے تمام حقائق واضح ہوجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آنے والی رپورٹ کو تسلیم کریں گے۔
کیس کی پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کی جانب سے بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں درج بعض نتائج دستیاب تصاویر سے مطابقت نہیں رکھتے۔
ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق عام طور پر گولی کے اخراج کا زخم داخل ہونے والے زخم سے بڑا ہوتا ہے، تاہم اس کیس میں سامنے آنے والے نتائج پر انہیں تحفظات تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاش کی تصاویر اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا تقابلی جائزہ لینے کے بعد کئی سوالات پیدا ہوئے۔
پولیس سرجن نے یہ بھی بتایا تھا کہ میر رضا کے ہاتھ سے گن پاؤڈر کی جانچ نہیں کی گئی اور نہ ہی کرائم سین یونٹ کی جانب سے اس حوالے سے کوئی ٹیسٹ کیا گیا۔ ان کے مطابق جائے وقوعہ اور فرانزک شواہد کا سائنسی بنیادوں پر دوبارہ جائزہ لینا ضروری ہے۔
ڈاکٹر سمعیہ سید نے لاش کی حالت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ جسم کے مختلف حصوں میں ڈی کمپوزیشن کی شرح یکساں نہیں تھی۔ ان کے مطابق اگر لاش کا کچھ حصہ جھاڑیوں میں اور باقی حصہ کھلی جگہ پر ہو تو جسم کے مختلف حصوں میں گلنے سڑنے کی کیفیت مختلف ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ سے خون کی مقدار بہت کم ملنے کی صورت میں زمین کے اندر جذب ہونے والے خون کے شواہد تلاش کرنے کے لیے سائنسی طریقہ کار اختیار کیا جاسکتا ہے۔
کیس میں مزید فرانزک شواہد حاصل کرنے کے لیے کپڑوں کے نمونے بھی تجزیے کے لیے بھجوائے گئے ہیں، جبکہ شرٹ پر گن شاٹ ریزیڈیو کی جانچ کے لیے بھی متعلقہ حکام سے درخواست کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ان ٹیسٹوں سے یہ تعین کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ جسم پر موجود نشانات تشدد کے نتیجے میں آئے یا لاش کی ڈی کمپوزیشن کے باعث پیدا ہوئے۔
میر رضا کیس کی تحقیقات میں پوسٹ مارٹم، فرانزک تجزیے اور دیگر شواہد کی رپورٹس کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حتمی نتیجہ تمام شواہد کے مکمل تجزیے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
