بہادر آباد میں ایم کیو ایم کارکن آمنے سامنے، ہاتھا پائی کے بعد فائرنگ
کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی دفتر بہادر آباد میں اجلاس کے دوران کارکنوں کے دو گروپوں کے درمیان ہونے والا تنازع شدت اختیار کر گیا، جس کے بعد ہاتھا پائی اور مبینہ فائرنگ کے واقعے میں متعدد کارکن زخمی ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق یومِ آزادی کی تقریبات کی تیاریوں کے سلسلے میں کارکن بہادر آباد مرکز میں جمع تھے کہ اسی دوران دو گروپوں کے درمیان تلخ کلامی شروع ہوگئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا اور بعد ازاں مبینہ طور پر دونوں جانب سے فائرنگ بھی ہوئی۔
اطلاعات کے مطابق ایک درجن سے زائد کارکن زخمی ہوئے، جن میں سے بعض کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم زخمیوں کی حتمی تعداد کے حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تنازع اجلاس کے دوران پیدا ہونے والی بدنظمی کے باعث شروع ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ سینئر قیادت کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر ایک گروپ کے کارکن مشتعل ہوگئے، جس کے بعد کشیدگی بڑھتی چلی گئی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری ایم کیو ایم پاکستان کے بہادر آباد مرکز پہنچ گئی اور صورتحال کو قابو میں لینے کے لیے اقدامات کیے گئے۔
تاحال ایم کیو ایم پاکستان کی مرکزی قیادت کی جانب سے واقعے پر باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ پولیس واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔
