روزانہ قیمتوں کے نظام کے بعد پیٹرول 20 روپے 81 پیسے، ڈیزل 55 روپے 36 پیسے مہنگا-حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین کرنے کے فیصلے کے بعد چند ہی دنوں میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے عوام پر مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق روزانہ قیمتوں کے نئے نظام کے نفاذ کے بعد اب تک پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 20 روپے 81 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 55 روپے 36 پیسے فی لیٹر مہنگا ہو چکا ہے۔
18 جولائی کو جاری کیے گئے نرخوں کے مطابق پیٹرول 5 روپے 44 پیسے اور ڈیزل 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا۔ اس کے بعد 21 جولائی کو پیٹرول کی قیمت میں 35 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی، تاہم اسی روز ڈیزل کی قیمت میں مزید 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا۔
22 جولائی کے لیے پیٹرول 4 روپے 93 پیسے اور ڈیزل 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا، جبکہ 23 جولائی کو پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے اور ڈیزل میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔
اسی طرح 24 جولائی کے لیے جاری کیے گئے نئے نرخوں کے مطابق پیٹرول 4 روپے 40 پیسے اور ڈیزل 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ وفاقی کابینہ نے 17 جولائی کو فیصلہ کیا تھا کہ آئندہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے یومیہ بنیاد پر نئی قیمتوں کا اعلان کر رہی ہے۔ یہ نظام عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے مطابق مقامی قیمتوں کو تیزی سے ایڈجسٹ کرنے کے مقصد سے متعارف کرایا گیا ہے۔
