بھارت نے دوبارہ جارحیت کی تو پہلے سے سخت جواب ملے گا-وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے جنگ سے متعلق حالیہ بیانات دراصل ماضی کی ناکامیوں کا ردعمل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر پاکستان کے خلاف کسی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا پہلے سے زیادہ مؤثر اور سخت جواب دیا جائے گا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اپنے خلاف کسی بھی قسم کی پراکسی کارروائی یا دہشت گرد سرگرمی برداشت نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی عبوری حکومت کو اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ بھارت مختلف ذرائع سے آزاد کشمیر میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے متعلق بعض اشتعال انگیز بیانات بھارتی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ بیرون ملک موجود کچھ عناصر بھی اس بیانیے کو تقویت دینے میں مصروف ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام آج بھی پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے بھارتی دباؤ اور مظالم کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے اور ان کا حوصلہ بلند ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیری عوام کی حمایت کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول قومی سلامتی اور ملکی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔