خلیج عدن کے قریب صومالی قزاقوں کے ایک آئل ٹینکر پر حملے کے بعد اغوا شدہ پاکستانی عملے کے ایک رکن کا دل دہلا دینے والا آخری آڈیو پیغام سامنے آ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق صومالی قزاقوں نے آئل ٹینکر کو اغوا کر لیا تھا جس پر 11 پاکستانی ملاح سوار تھے۔ اغوا شدہ عملے میں شامل پاکستانی ملاح امین کا اپنے والد کے نام آخری صوتی پیغام سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے۔
آڈیو میں امین اپنے والد سے کہتے ہیں:
“ابو، عائشہ اور بچوں کا خیال رکھیے گا… مجھے مارنے کے لیے لے جا رہے ہیں! ابو، مجھ سے جو غلطی ہوئی معاف کر دیں۔”
آڈیو میں ملاح کی آواز میں شدید خوف، بے بسی اور اپنے اہل خانہ کے لیے گہری فکر واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔
یہ واقعہ تقریباً 21 اپریل 2026 کے قریب پیش آیا۔ حکام کے مطابق پاکستانی عملے کی محفوظ بازیابی کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں سے رابطہ کیا جا رہا ہے اور کوششیں جاری ہیں۔ سندھ کے گورنر نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ اغوا شدہ عملے کو ہر صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر سمندری سفر کے دوران پاکستانی ملاحوں کو درپیش سنگین خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر شہریوں کی جانب سے عملے کی فوری رہائی کے لیے دعائیں اور مطالبات جاری ہیں۔