اہم خبر
ABS24
نیوز
ABS24 News Network

تونسہ ہسپتال میں بچوں پر ری سائیکل شدہ سرنجوں کا انکشاف

👁️ 0 مرتبہ پڑھا گیا
تونسہ ہسپتال میں بچوں پر ری سائیکل شدہ سرنجوں کا انکشاف

لاہور، تونسہ ہسپتال میں بچوں پر ری سائیکل شدہ سرنجوں کا انکشاف، ایچ آئی وی کے سینکڑوں کیسز سامنے آ گئے

 بی بی سی ورلڈ سروس کی ایک خفیہ تحقیق میں تھانسر ہسپتال میں انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں بچوں کے علاج کے دوران ری سائیکل شدہ سرنجوں کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 32 گھنٹے کی خفیہ ویڈیو ریکارڈنگ میں دیکھا گیا کہ ہسپتال کا عملہ ایک ہی سرنج اور دوائی کی ویال کو متعدد بچوں پر بار بار استعمال کر رہا تھا۔ اس دوران نہ تو مناسب صفائی کا خیال رکھا گیا اور نہ ہی دستانے استعمال کیے گئے، جو طبی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 تک صرف ایک سال کے دوران 331 بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے۔ متاثرہ بچوں کے والدین کی بڑی تعداد HIV منفی نکلی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ غیر محفوظ انجیکشنز ہیں۔

ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف
ہسپتال انتظامیہ نے ویڈیو کی صداقت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بہتری آ چکی ہے۔ تاہم رپورٹ میں شامل مقامی ڈاکٹروں اور متاثرہ خاندانوں کے بیانات اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔

ماہرین کی رائے
طبی ماہرین کے مطابق ایک ہی سرنج کو متعدد مریضوں پر استعمال کرنا سنگین جرم ہے اور اس سے مہلک بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پنجاب سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں غیر محفوظ انجیکشنز کی وجہ سے HIV کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔

متاثرہ خاندانوں کا مطالبہ
متاثرہ بچوں کے والدین نے حکومت سے فوری نوٹس لینے، ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے اور تمام سرکاری ہسپتالوں میں محفوظ انجیکشن پالیسی نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ واقعہ پاکستان کے صحت کے نظام میں موجود سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں بنیادی حفاظتی اصولوں پر عمل نہ ہونے کے باعث معصوم بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ رہی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں پر * کا نشان لگا ہوا ہے۔