آپریشن غضب للحق،352 طالبان رجیم اہلکار و خوارج جہنم واصل-پاکستانی مسلح افواج کے آپریشن غضب للحق کے دوران افغان طالبان رجیم کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ کے مطابق اس کارروائی میں 352 طالبان اہلکار ہلاک اور 535 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ آپریشن کے دوران 171 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کی گئیں، جبکہ 130 طالبان چوکیوں کو مکمل طور پر ختم کیا گیا اور 26 چوکیوں پر پاکستان نے قبضہ کر کے قومی پرچم لہرا دیا۔
پاک فوج نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں موثر فضائی اور زمینی کارروائیاں کرتے ہوئے افغان طالبان کے اہم ٹھکانوں، ایمونیشن ڈپو اور ہیڈ کوارٹر تباہ کیے۔ چترال، باجوڑ، پکتیا، قندھار اور ننگرہار میں کارروائیوں کے دوران متعدد پوسٹیں مکمل تباہ ہو گئیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے اپنی پوسٹس چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوئے اور بعض مقامات پر سفید جھنڈے لہرا دیے۔
پاک فوج کی طرف سے کی جانے والی کارروائی میں دو جوان شہید اور تین زخمی ہوئے، تاہم دشمن کی جانب سے کی گئی کواڈ کاپٹر اور گولہ باری کی کوششیں ناکام بنائی گئیں۔ باجوڑ میں افغان طالبان کی شیلنگ سے پانچ شہری زخمی ہوئے جن میں تین خواتین شامل ہیں، جن کا علاج اسپتال میں جاری ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان امن اور علاقائی سالمیت پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا اور قومی سلامتی پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی افواج کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج ملک کے دفاع اور امن کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فوج ان کے قریب ہے اور ہر جارحیت کا بھرپور جواب دے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ افغان طالبان کی جارحیت ناقابلِ برداشت ہے اور انہیں اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔