پاکستان مکہ معاہدے کا پابند،سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار

 پاکستان مکہ معاہدے کا پابند،سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار-بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملے کو ناکام بنانے کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

پاکستان مکہ معاہدے کا پابند،سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار-دفترِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر نے کہا ہے کہ پاکستان مکہ معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل طور پر کھڑا ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب میں مقاماتِ مقدسہ پر حوثی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی تشویشناک اور قابلِ افسوس قرار دیا ہے۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ انہوں نے سعودی مسلح افواج کی جانب سے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملے کو ناکام بنانے کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

سجاد حیدر کے مطابق پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورتحال کا گہری تشویش کے ساتھ جائزہ لے رہا ہے، جبکہ خطے میں حوثی حملوں کے بعد سامنے آنے والی نئی صورتحال اور اس کے ممکنہ اثرات پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔ پاکستان نے رواں ہفتے مشرق مغرب پائپ لائن پر ہونے والے حملے کی بھی مذمت کی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے وسیع تر اثرات پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں اور اسلام آباد صورتحال میں مزید بگاڑ سے بچنے کے لیے پیش رفت کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے۔

لبنان کے وزیر داخلہ احمد حجار کے حالیہ دورۂ پاکستان کے حوالے سے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان سزا یافتہ افراد کے تبادلے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے بھارتی بحریہ کی حالیہ کارروائی پر بھی پاکستان کا سخت احتجاج ریکارڈ کرانے سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق بھارتی ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کرکے پاکستانی بحری جہاز کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر شدید احتجاج کیا گیا۔

سجاد حیدر نے کہا کہ بھارتی بحری جہاز نے پاکستانی بحری جہاز کے قریب انتہائی جارحانہ انداز میں نقل و حرکت کی، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں کے درمیان ٹکر ہوئی۔ پاکستان کے مطابق بھارتی بحری جہاز کا یہ طرزِ عمل بین الاقوامی قانون اور 1991ء کے دوطرفہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی کارروائی کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت بین الاقوامی قوانین اور دوطرفہ معاہدوں کی مکمل پاسداری کرے۔ پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی میں بھی بھارتی وزارتِ خارجہ کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرائے گا۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کی اشتعال انگیز کارروائیوں کا نوٹس لیا جائے۔ بھارت کو جنوبی ایشیا میں مزید کشیدگی اور عدم استحکام کا باعث بننے والی غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں سے گریز کرنا چاہیے۔