پینٹاگون میں بڑی کارروائی،جنرل بریٹ سلویا عہدے سے ہٹا دیے گئے-امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون میں اہم عہدے پر تعینات لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا کو مبینہ طور پر خفیہ معلومات ذرائع ابلاغ تک پہنچانے کے الزام میں عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کے مطابق پینٹاگون کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بریٹ سلویا کو سنگین بدعنوانی کے الزامات کے تحت عہدے سے برطرف کیا۔ حکام کے مطابق تحقیقات میں یہ الزام سامنے آیا کہ جنرل سلویا نے ایران اور یوکرین کی جنگوں سمیت دیگر معاملات سے متعلق خفیہ معلومات میڈیا کو فراہم کیں۔
عہدیدار کے مطابق اس معاملے میں فوری کارروائی کی گئی ہے جبکہ جاری تحقیقات محکمہ انصاف کو بھی بھیج دی گئی ہیں۔ تاہم، جنرل سلویا پر عائد الزامات کی آزادانہ تصدیق اور تحقیقات کے حتمی نتائج تاحال سامنے نہیں آئے۔
بریٹ سلویا گزشتہ 11 ماہ سے جوائنٹ اسٹاف میں ڈائریکٹر برائے حکمت عملی، منصوبہ بندی اور پالیسی کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ امریکی فوجی نظام میں یہ شعبہ جے فائیو (J-5) کہلاتا ہے اور اسے طویل المدتی فوجی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے حوالے سے اہم حیثیت حاصل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس سے قبل ایک ذریعے نے بتایا تھا کہ سلویا کو قیادت کا اعتماد کھونے کے باعث عہدے سے ہٹایا گیا، تاہم بعد میں پینٹاگون کے ایک سینئر عہدیدار نے ان کی برطرفی کی وجہ مبینہ طور پر خفیہ معلومات افشا کرنے کو قرار دیا۔
جوائنٹ اسٹاف نے ابتدا میں سلویا کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے اور ان کے خاندان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا، لیکن بعد میں یہ بیان واپس لے لیا گیا۔ نئے بیان میں کہا گیا کہ ابتدائی مؤقف معاملے کے تمام حالات کی درست عکاسی نہیں کرتا تھا، اس لیے جاری کارروائی کے احترام میں مزید تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔
بریٹ سلویا کی برطرفی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے دور میں متعدد اعلیٰ فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹایا گیا یا انہیں قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینا پڑی۔ ان میں جوائنٹ اسٹاف کے سابق ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل جوزف میک گی اور لیفٹیننٹ جنرل ڈگلس سمز بھی شامل ہیں۔





