غزہ سے انخلاء کی تجویز پر نیتن یاہو شدید دباؤ میں
غزہ سے انخلاء کی تجویز پر نیتن یاہو شدید دباؤ میں-غزہ جنگ کے حوالے سے ممکنہ معاہدے نے اسرائیل کے اندر سیاسی اختلافات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مجوزہ معاہدے میں اسرائیلی فوج کے غزہ سے مرحلہ وار انخلاء اور علاقے کا انتظام ایک فلسطینی انتظامیہ کے حوالے کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اس معاہدے سے مطمئن ہے، تاہم اسرائیلی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اسرائیلی فوج اپنی موجودہ پوزیشنز سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
اسرائیل میں کئی سیاسی حلقے غزہ سے فوجی انخلاء کی مخالفت کر رہے ہیں۔ سخت گیر رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ حماس کے خلاف کارروائیاں جاری رہنی چاہئیں، جبکہ بعض حلقے کسی بھی ایسے معاہدے کو اسرائیل کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے مجوزہ معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کے خلاف مہم جاری رہنی چاہیے۔ سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر حماس کی عسکری اور سیاسی طاقت ختم نہیں ہوتی تو جنگ کے مقاصد حاصل نہیں ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو کو اس وقت کئی محاذوں پر سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ انہیں ایک طرف اپنی دائیں بازو کی اتحادی جماعتوں کو مطمئن رکھنا ہے جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کو بھی برقرار رکھنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو مکمل فوجی انخلاء کے معاملے پر محتاط رویہ اختیار کر سکتے ہیں کیونکہ یہ اقدام ان کی سیاسی حکمت عملی اور اتحادیوں کے مؤقف سے متصادم سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اگر اسرائیل معاہدے پر عملدرآمد سے پیچھے ہٹتا ہے تو امریکا کی جانب سے ناراضی کا امکان موجود ہے، جس کے دونوں ممالک کے تعلقات پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
