ایران کے جنوب مغربی اور جنوبی علاقوں میں امریکی حملوں کی اطلاعات کے بعد متعدد مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق ایک میزائل حملے میں 2 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران اور عراق کی سرحد کے قریب شلمچہ بارڈر کراسنگ کے علاقے میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق خوزستان، ہرمزگان اور بوشہر سمیت کئی صوبوں کے مختلف علاقوں، جن میں اہواز، ماہشہر، رامشیر، اندیمشک، سیریک اور جاسک شامل ہیں، حملوں کی زد میں آئے۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ بوشہر میں نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب واقع ایک بجلی کے سب اسٹیشن کو بھی نقصان پہنچا، جس کے باعث شہر کے بعض علاقوں میں عارضی طور پر بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایران میں فوجی اہداف کے خلاف اپنی تازہ کارروائی مکمل کر لی ہے۔ بیان کے مطابق کارروائی کا مقصد ایران کی بحری عسکری صلاحیت، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی نگرانی کے مراکز اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانا تھا۔
امریکی بیان میں مزید کہا گیا کہ حالیہ کارروائیاں بحری جہازوں اور تجارتی نقل و حمل کو لاحق خطرات کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں، جبکہ خطے میں دیگر فوجی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔
اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم آزاد ذرائع سے حملوں کے تمام دعوؤں کی مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
