ایران میں جاری کشیدگی کے دوران چھٹی مسلسل رات بھی مختلف علاقوں میں فضائی حملوں اور دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا اور مقامی ذرائع کے مطابق جنوبی ایران کے متعدد شہروں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ بعض اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔
سرکاری میڈیا کے مطابق بندر عباس، بوشہر، اہواز اور جزیرہ قشم سمیت جنوبی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ بعض رپورٹس میں بندر عباس کے مختلف حصوں میں نقصان اور بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں اداروں کا دعویٰ
ایرانی خبر رساں اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ بندر عباس کے قریب ایک کمیونیکیشن ٹاور کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملوں میں چند افراد زخمی بھی ہوئے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
فارس نیوز ایجنسی
فارس نیوز ایجنسی نے بندر خمیر کے علاقے میں ایک پل پر حملے کی اطلاع دی، جبکہ تسنیم نیوز کے مطابق ایرانشہر ایئرپورٹ کے قریب بھی میزائل حملے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے بندر عباس میں تین زور دار دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر دھماکوں کی نوعیت واضح نہیں تھی۔
یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئیں جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران میں نئی فوجی کارروائیوں کے آغاز کی تصدیق کی، تاہم حملوں کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ امریکی حکام کی جانب سے صرف اتنا بتایا گیا کہ کارروائیاں رات گئے شروع کی گئیں۔
گزشتہ چند روز کے دوران زیادہ تر حملے جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں پر مرکوز رہے، تاہم حالیہ کارروائیوں میں ملک کے اندرونی علاقوں تک بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب خلیج فارس میں کشیدگی برقرار ہے۔ کویت کی وزارت دفاع نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو تباہ کیا، جبکہ گرنے والے ملبے سے محدود مادی نقصان ہوا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ادھر آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ عالمی تجارتی جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ امریکی حکام نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کو عارضی صورتحال قرار دیا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ نے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کرتے ہوئے ایسے حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ وزارت نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے سول انفراسٹرکچر کو مزید نشانہ بنایا گیا تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
