مظفرآباد/راولاکوٹ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر نے ملک دشمن اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔ کمشنر پونچھ ڈویژن، محکمہ اعلیٰ تعلیم، اور محکمہ برقیات کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ احکامات کے مطابق، کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے راولاکوٹ دھرنے اور دیگر غیر قانونی کارروائیوں میں مالی و نظریاتی معاونت فراہم کرنے والے ملازمین کو فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی شروع کر دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، کمشنر انتظامیہ پونچھ ڈویژن کی جانب سے ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ مظفرآباد کو ارسال کیے گئے مراسلے میں، ڈپٹی کمشنر سدھنوتی کی رپورٹ کی روشنی میں متعدد ایسے حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کی نشان دہی کی گئی ہے جو کالعدم تنظیم JAAC کی مالی معاونت اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ حکومت نے ان حاضر سروس ملازمین کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کرتے ہوئے تنخواہوں کی بندش اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن فوری طور پر ضبط کرنے کے لیے متعلقہ محکموں کو باقاعدہ احکامات جاری کر دیے ہیں۔
دوسری بڑی کارروائی میں، نظامت اعلیٰ تعلیم (کالجز) مظفرآباد کے حکم نامہ کے تحت، گورنمنٹ بوائز انٹر کالج ملوٹ (ضلع باغ) کے نائب قاصد مسٹر وقاص گلزار کو ملازمت سے فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ ان پر آزاد جموں و کشمیر ایفی شنسی اینڈ ڈسپلن رولز 1977 کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ناظم تعلیم کالجز مظفرآباد ڈویژن، راجہ محمد فیاض خان کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 15 دن کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں، دفتر چیف انجینئر برقیات پونچھ (راولاکوٹ) نے ہجیرہ آپریشن ڈویژن میں تعینات میٹر ریڈر مسٹر خواجہ ارشد کو فوری طور پر نوکری سے معطل کر دیا ہے۔ مذکورہ ملازم کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حالیہ ریاست مخالف سرگرمیوں اور دھرنے میں براہِ راست ملوث پائے گئے، جس کے بعد آزاد جموں و کشمیر سول ملازمین رولز 1977 کے تحت ان کے خلاف یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔
آزاد کشمیر انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ریاست کے امن و امان کو سبوتاژ کرنے اور قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔ سرکاری خزانے سے تنخواہیں اور مراعات حاصل کر کے ریاست کے خلاف کام کرنے والے ملازمین کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ تمام اضلاع میں ملوث دیگر سرکاری ملازمین کا ڈیٹا بھی مرتب کیا جا رہا ہے جن کے خلاف جلد سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔