برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹامر کا مستعفی ہونے کا اعلان-برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹامر نے وزارتِ عظمی اور ملک کی حکمراں جماعت لیبر پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہو نے کا اعلان کردیا ۔
غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق اپنے استعفے کے حوالے سے کیئر سٹارمر کا کہنا ہے کہ وہ نئے پارٹی رہنما کے انتخاب تک وزارت عظمی کے عہدے پر برقرار رہیں گے جبکہ نئے پارٹی کا انتخاب ستمبر تک عمل میں آ سکتا ہے۔
تقریبا دو سال قبل ملنے والی وزارت عظمی کو بچانے کی کوشش کے بجائے انہوں نے خود ہی عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ بی بی سی رپورٹ کے مطابق کیئر سٹامر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ رواں برس مئی میں برطانیہ میں ہونے والے مقامی کونسلز کے انتخابات کے نتائج کے بعد زور پکڑ گیا تھا۔
ان نتائج نے برطانوی سیاست کو لڑکھڑا دیا تھا اور ملک کی حکمران لیبر پارٹی تیسرے نمبر پر رہی تھی۔انتخابات میں مایوس کن کارکردگی کے باوجود کیئر سٹامر نے اس وقت استعفی دینے سے انکار کر دیا تھا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ میں ملک کو افراتفری کی صورتحال میں چھوڑ کر نہیں جائوں گا اور اپنی پانچ سالہ مدت پوری کروں گا۔
تاہم گذشتہ ہفتے میکرفیلڈ کے ضمنی انتخاب میں لیبر پارٹی میں ان کے حریف اور مانچسٹر کے سابق میئر اینڈی برنہم کی کامیابی کے بعد سٹامر پر مستعفی ہونے کا دبا ئوبڑھتا جا رہا تھا۔
ہفتے کے اختتام پر لیبر پارٹی کے سیاستدان بڑی حد تک خاموش رہے جس کے باعث وزیرِ اعظم کو اپنے سیاسی مستقبل پر غور کرنے کا موقع ملا۔ برنہم دارالعوام میں رکنِ پارلیمان کے طور پر حلف اٹھا نے جارہے ہیں
سٹامر کے مستعفی ہونے کا مطلب ہے کہ برطانیہ کو چار برس میں پانچواں نیا وزیرِاعظم ملے گا۔یہ وزیراعظم ایک نئی کابینہ تشکیل دے گا اور نئی پالیسی ترجیحات پیش کرے گا اور ساتھ ہی اپوزیشن جماعتیں غالبا یہ سوال اٹھائیں گی کہ آیا سر سٹامر کے جانشین کو عوامی مینڈیٹ حاصل ہے یا نہیں۔
جولائی 2024 کے دوران برطانیہ کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی کامیابی کے بعد اس کے سربراہ سر کیئر سٹامر ملک کے نئے وزیراعظم بنے تھے۔سٹامر نے چار سال قبل انتہائی بائیں بازو کے خیالات کے حامی جیریمی کوربن کی جگہ لیبر پارٹی کی قیادت سنبھالی تھی۔
لیبر پارٹی ان انتخابات میں فتح کے نتیجے میں 14 برس بعد اقتدار میں آئی اور اس سیاسی جماعت کو بائیں بازو سے مرکز کی جانب لانے کیلئے سٹامر نے کافی کوشش کی تاکہ وہ الیکشن میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے۔
50 کے پیٹے میں پہلی بار برطانوی دارالعوام کا رکن بننے سے پہلے سٹامر نے وکالت کے شعبے میں اپنا نام بنایا تھا تاہم انھیں ہمیشہ سے سیاست میں دلچسپی تھی
اور اپنی جوانی میں وہ بائیں بازو کی سخت گیرسیاست کے حامی تھے۔وہ 1962 میں لندن میں پیدا ہوئے اور ان کا بچپن جنوب مشرقی انگلینڈ میں سری کانٹی میں گزرا۔ ان کی دو بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔
سٹامر نے 2007 میں شادی کی۔ ان کی بیوی وکٹوریہ الیگزینڈر این ایچ ایس کے لیے کام کرتی ہیں جبکہ ان کے دو بچے ہیں۔