اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ آپریشن غضب للحق میں اب تک 274 خوارج ہلاک جبکہ 400 زخمی ہو چکے ہیں، دشمن کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری ہیں۔
پاک افغان کشیدگی کے تناظر میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 21 اور 22 فروری کی شب دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور اس حوالے سے وزیرِاعظم کو بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر ایکشن لیا اور دہشت گردی کے مراکز کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران 73 پوسٹیں تباہ کی گئیں جبکہ 18 پر قبضہ کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کی گئیں۔ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 22 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور دہشت گرد اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے 12 جوان شہید، 27 زخمی جبکہ ایک لاپتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ دفاع وطن کے لیے ہر دم تیار ہیں اور دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو وہی جواب دیا گیا جس کے وہ مستحق تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ سبی، ایبٹ آباد اور نوشہرہ میں ڈرون حملوں کو ناکام بنایا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر پاکستان کے کسی بھی حصے میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا تو دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے لیے کہیں بھی جائے پناہ نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ دشمن کی جانب سے خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کا پروپیگنڈا بے بنیاد ہے، افواج پاکستان نے پیشہ ورانہ انداز میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مؤثر جواب اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلح افواج مکمل طور پر چوکس ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے ہر واقعے میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر پوری قوم متحد ہے، تمام سیاسی جماعتیں اس معاملے پر یکسو ہیں اور نیشنل ایکشن پلان اسی قومی اتفاق رائے کا مظہر ہے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا پولیس کے جوانوں کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ فرنٹ لائن پر ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں اور قوم انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مفادات کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی کمزوری نہیں دکھائی جائے گی۔
