بھارت کی افغان حکومت کو کنٹر ڈیم تعاون کی پیشکش
بھارت نے افغانستان میں دریائے کنڑ پر ڈیم کی تعمیر کے منصوبے میں مدد کی پیشکش کی ہے، جو پاکستان کے علاقے چترال سے نکلتا ہے۔
یہ پیشکش طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے اس حالیہ حکم کے بعد سامنے آئی، جس میں انہوں نے وزارتِ توانائی کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس منصوبے پر فوری کام شروع کرے، چاہے غیر ملکی کمپنیوں کے بغیر مقامی اداروں کے ساتھ ہی معاہدے کیوں نہ کرنے پڑیں۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ بھارت افغانستان کے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان پانی سے متعلق تعاون کی ایک تاریخ موجود ہے، جس کی مثال ہرات میں تعمیر ہونے والا "سلما ڈیم” ہے۔
افغان طالبان نے بھارت کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے۔ قطر میں طالبان کے سفیر سہیل شاہین نے بھارتی اخبار دی ہندو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان اور بھارت کے درمیان تعاون کے کئی امکانات موجود ہیں۔
یاد رہے کہ دریائے کنڑ چترال سے نکل کر تقریباً 482 کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد افغانستان سے گزرتا ہے اور پھر دریائے کابل میں شامل ہو کر دوبارہ پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔
