سہیل آفریدی 90 ووٹ لے کر نئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا منتخب
پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار سہیل آفریدی 90 ووٹ حاصل کر کے خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیرِ صدارت ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور ایوان میں پہنچے تو حکومتی ارکان نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا۔
اپنے خطاب میں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وہ سہیل آفریدی کو پیشگی مبارک باد دیتے ہیں، ملک میں قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، اور ان کے بطور وزیراعلیٰ کیے گئے تمام اقدامات ریکارڈ پر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اُس وقت کامیاب ہوتی ہے جب وہ مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب حکومت سنبھالی تو خزانے میں صرف پندرہ دن کی تنخواہیں باقی تھیں، مگر اب صوبے کے مالی حالات بہتر ہو چکے ہیں۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان ملک اور قوم کے لیے قربانی دے رہے ہیں، اور ہم ان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ نے مؤقف اپنایا کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ تاحال منظور نہیں ہوا، اس لیے نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب غیر قانونی ہے۔ ان کے مطابق گورنر نے علی امین گنڈاپور کو وضاحت کے لیے بلایا ہے، لہٰذا انتخابی عمل کو مؤخر کیا جانا چاہیے تھا۔
وزارتِ اعلیٰ کے لیے چار امیدوار میدان میں تھے جن میں پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی، جے یو آئی ف کے مولانا لطف الرحمان، مسلم لیگ ن کے سردار شاہ جہان یوسف اور پیپلزپارٹی کے ارباب زرک شامل تھے۔
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے کل ارکان کی تعداد 145 ہے، وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے لیے 73 ووٹ درکار ہوتے ہیں، جبکہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ارکان کی تعداد 92 ہے۔
سہیل آفریدی کی کامیابی کے ساتھ ہی صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ایک بار پھر مستحکم ہو گئی ہے۔
