غزہ جنگ بندی معاہدے کے لیے حماس کے6مطالبات
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کی روشنی میں غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی خواہش ظاہر کی ہے، تاہم کچھ بنیادی شرائط برقرار ہیں۔ حماس کے سینئیر رہنما فوزی برہوم نے کہا ہے کہ مصر میں موجود حماس کے وفد نے مذاکرات کے دوران تمام رکاوٹیں دور کر کے ایسا معاہدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جو غزہ کے عوام کی امنگوں اور انسانی ضروریات کے مطابق ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی معاہدے میں جنگ کے مکمل خاتمے اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے مکمل انخلا کی ضمانت شامل ہونی چاہیے، جو ماضی میں اسرائیل نے مسترد کی ہیں۔
فوزی برہوم نے مزید بتایا کہ حماس کے مطالبات میں مستقل اور جامع جنگ بندی، اسرائیلی افواج کا غزہ سے مکمل انخلا، انسانی و امدادی سامان کی بلا رکاوٹ رسائی، بے گھر فلسطینیوں کی اپنے علاقوں میں فوری واپسی، قیدیوں کا تبادلہ، اور فلسطینی تکنیکی ماہرین کی نگرانی میں غزہ کی تعمیر نو شامل ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ موجودہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جیسا کہ ماضی میں جنگ بندی مذاکرات کو دانستہ طور پر ناکام بنایا گیا۔
خیال رہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدے پر مذاکرات کے لیے گزشتہ روز مصر کے شہر شرم الشیخ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔ اس عمل میں مصری حکام نے ثالثی اور تعاون کی پیشکش کی ہے تاکہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد قائم ہو اور ممکنہ معاہدہ طویل عرصے تک برقرار رہ سکے۔ اس دوران انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مبصر کے طور پر موجود ہیں تاکہ معاہدے میں انسانی ضروریات اور بنیادی حقوق کو یقینی بنایا جا سکے۔
