مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے گرڈ اسٹیشن پر حوثیوں کا حملہ

مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے گرڈ اسٹیشن پر حوثیوں کا حملہ - دونوں جانب سے حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے گرڈ اسٹیشن پر حوثیوں کا حملہ-سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحادی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے 29 ستمبر کو مدینہ منورہ میں بجلی کی تقسیم کے ایک اسٹیشن کو ڈرون سے نشانہ بنایا، جہاں سے مسجد نبویؐ کو بھی بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ دوسری جانب حوثی حکام نے اس الزام کو مسترد کردیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سعودی اتحادی فوج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ ڈرون حملے کے نتیجے میں بجلی گھر کا ایک ٹرانسفارمر بند ہوگیا، تاہم بجلی کی فراہمی کے مجموعی نظام کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔

ترجمان کے مطابق حملہ 29 ستمبر کو صبح تقریباً 5 بج کر 15 منٹ پر کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون کے ملبے کا تکنیکی جائزہ لینے کے بعد حوثیوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ترکی المالکی نے بتایا کہ متاثرہ بجلی گھر سے مسجد نبویؐ کو بھی بجلی فراہم کی جاتی ہے، تاہم وہاں متبادل نظام کے ذریعے بجلی کی فراہمی جاری ہے۔

سعودی اتحادی فوج کے ترجمان نے اس واقعے کو مقدس مقامات کو نشانہ بنانے اور مسلمانوں میں اشتعال پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ حرمین شریفین اور زائرین کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

دوسری جانب حوثیوں کے زیر انتظام خبر رساں ادارے سبا کے مطابق حوثی فوجی ذرائع نے سعودی اتحاد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ حوثی ذرائع کا مؤقف ہے کہ سعودی عرب ان الزامات کے ذریعے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے سے متعلق اپنے سابقہ دعوے پر ہونے والی تنقید سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے تقریباً دو ہفتے قبل دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون مار گرایا ہے، جو شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ سعودی اتحادی فوج نے اس واقعے کو 2017 کے بعد مکہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش قرار دیا تھا، تاہم حوثیوں نے اس الزام کی بھی تردید کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی ثالثی میں 2022 میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان رواں سال جولائی میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے لگی، جس کے بعد دونوں جانب سے حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔