فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو کی تقریر پر بڑا واک آؤٹ
فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو کی تقریر پر بڑا واک آؤٹ
فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو کی تقریر پر بڑا واک آؤٹ-اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے آغاز پر متعدد ممالک کے وفود نے احتجاجاً اجلاس ہال سے واک آؤٹ کردیا، جس کے باعث ہال کا بڑا حصہ خالی نظر آنے لگا۔
نیتن یاہو کے خطاب کیلئے روسٹرم پر پہنچتے ہی بڑی تعداد میں مندوبین اپنی نشستوں سے اٹھ کر باہر چلے گئے۔ اس موقع پر ہال میں احتجاج، نعرے بازی اور تالیاں بھی سنائی دیں، جبکہ بعض اسرائیلی حامیوں نے عبرانی زبان میں اسرائیل کی حمایت میں نعرے لگائے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے واک آؤٹ کرنے والے مندوبین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’’اخلاقی بزدل‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اگر ہال میں موجود کسی اور شخص کو ان کی بات پسند نہیں تو وہ بھی باہر جا سکتا ہے۔
نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کا دفاع کیا اور ایران سمیت خطے کے مختلف معاملات پر اسرائیلی مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے غزہ میں اسرائیل کے خلاف عائد کیے جانے والے نسل کشی کے الزامات کو بھی مسترد کیا۔
رپورٹس کے مطابق فلسطینی مشن کی جانب سے رکن ممالک کے وفود سے نیتن یاہو کے خطاب کے موقع پر اجتماعی واک آؤٹ کی اپیل کی گئی تھی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر نے اجلاس کے دوران متعدد مرتبہ نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
نیتن یاہو کا یہ خطاب ایسے وقت میں ہوا جب غزہ میں جاری جنگ اور فلسطینی شہریوں کی صورتحال پر اسرائیل کو عالمی سطح پر شدید سفارتی تنقید کا سامنا ہے۔
