مواد پر جائیں
تازہ ترین
انٹرنیشنل

سربیا میں انتخابات سے قبل طلبہ تحریک کی بڑی ریلی،ہزاروں افراد شریک

تحریر: muhammadaamiraa49@gmail.com پڑھنے کا وقت: 2 منٹ 1
سربیا میں انتخابات سے قبل طلبہ تحریک کی بڑی ریلی،ہزاروں افراد شریک
سربیا میں انتخابات سے قبل طلبہ تحریک کی بڑی ریلی،ہزاروں افراد شریک

سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں حزب اختلاف کی طلبہ تحریک کے ہزاروں حامیوں نے پارلیمانی انتخابات سے قبل بڑی ریلی نکالی، جس میں موجودہ حکومت کے خلاف احتجاج اور بدعنوانی کے خاتمے کے مطالبات کیے گئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، طلبہ تحریک کے حامی جمعرات کو وسطی بلغراد میں جمع ہوئے۔ یہ تحریک صدر الیگزینڈر ووچک کی جماعت سربیئن پروگریسو پارٹی (ایس این ایس) کی طویل حکمرانی کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ملک میں قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کے لیے اتوار کو ووٹنگ شیڈول تھی۔

طلبہ کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک نے 2024 میں نووی سڈ ریلوے اسٹیشن پر چھت گرنے کے واقعے کے بعد زور پکڑا تھا، جس میں 16 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حادثے کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا اور مظاہرین نے مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات اور حکومتی احتساب کا مطالبہ کیا۔

طلبہ تحریک بدعنوانی کے خلاف کارروائی اور حادثے کی شفاف تحقیقات کو اپنے اہم مطالبات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ اس کے امیدواروں کی فہرست میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جن کا تعلق تعلیمی شعبے سے ہے یا جو روایتی سیاست سے باہر سمجھے جاتے ہیں۔

دوسری جانب صدر الیگزینڈر ووچک نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے طلبہ تحریک پر تنقید کی اور الزام لگایا کہ اس کے پیچھے غیر ملکی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے اپنے حامیوں پر زور دیا کہ وہ انتخابات میں حصہ لے کر اپنی جماعت کی حمایت کریں۔

انتخابات سے قبل سربیا کی سول سوسائٹی تنظیموں نے انتخابی ماحول پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق انتخابی مہم کے دوران دھمکیوں، گرفتاریوں، حملوں، سرکاری وسائل کے مبینہ غلط استعمال اور میڈیا کے غیر مساوی ماحول سے متعلق خدشات سامنے آئے ہیں۔ تاہم انتخابی نتائج کے بارے میں واضح پیش گوئی ممکن نہیں، کیونکہ ملک میں قابلِ اعتماد آزادانہ رائے عامہ کے جائزے محدود ہیں۔

طلبہ تحریک کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد کا مقصد ملک میں بدعنوانی کا خاتمہ، شفاف انتخابات اور حکومتی جواب دہی کو یقینی بنانا ہے۔ انتخابی نتائج سے یہ واضح ہوگا کہ ووٹرز نے حکومت اور طلبہ تحریک کے مؤقف پر کس حد تک اعتماد کا اظہار کیا۔

شیئر کریں:واٹس ایپایکسٹیلیگرام

اپنی رائے لکھیں