ایران میں امریکی حملوں پر اقوام متحدہ: وائٹ ہاؤس کا جنگی جرائم سے انکار

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ ایران میں امریکی حملے جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول کو بھی نشانہ بنایا۔ وائٹ ہاؤس نے جنگی جرائم کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ نے ایران میں امریکی حملوں کی تفصیلات جاری کی ہیں، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان کارروائیوں میں جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے دوران شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق اور جنگ کے عالمی قوانین کا احترام کریں۔ رپورٹ میں شہریوں کی حفاظت اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

تاہم، وائٹ ہاؤس نے اقوام متحدہ کی رپورٹ میں لگائے گئے جنگی جرائم کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے مطابق تھیں اور ان کا مقصد امریکی مفادات اور خطے میں اپنے اتحادیوں کا دفاع کرنا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے مزید کہا کہ وہ تمام الزامات کی جانچ پڑتال کرے گا لیکن فی الحال انہیں بے بنیاد قرار دیتا ہے۔ امریکی دفاعی اداروں نے بھی حملوں کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اہداف عسکری نوعیت کے تھے۔

یہ واقعہ عالمی سطح پر شدید بحث کا باعث بن رہا ہے، جہاں کئی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایران اور امریکہ دونوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات علاقائی استحکام کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتے ہیں اور وسیع تر تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔