اسرائیلی کارروائیوں پر لبنان میں وائٹ فاسفورس کے استعمال کا دعویٰ
اسرائیلی کارروائیوں پر لبنان میں وائٹ فاسفورس کے استعمال کا دعویٰ-لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فوج کی حالیہ کارروائیوں کے حوالے سے مقامی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض مقامات پر وائٹ فاسفورس گولے استعمال کیے گئے، جس کے نتیجے میں زیتون کے باغات اور صنوبر کے جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی۔
لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب یارون، ہارون اور بنت جبیل سمیت کئی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نبطیہ الفوقہ کے نواحی علاقے میں فضائی حملہ بھی کیا گیا، جبکہ ایک ڈرون کی جانب سے بیوت الصیاد کے مقام پر صوتی بم گرائے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔
اسرائیلی حکام نے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا، نہ ہی وائٹ فاسفورس کے استعمال کی تصدیق یا تردید کی ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق وائٹ فاسفورس ایک انتہائی آتش گیر مادہ ہے، جس کے استعمال پر بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت سخت شرائط عائد ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ شہری آبادی یا رہائشی علاقوں میں اس کا استعمال سنگین انسانی خطرات پیدا کر سکتا ہے اور ایسے حالات میں یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر گزشتہ کئی ماہ سے کشیدگی برقرار ہے، جہاں وقفے وقفے سے فضائی حملوں، ڈرون کارروائیوں اور سرحدی جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
