ٹکٹ نہ ملنے پر سردار تنویر الیاس ناراض،پیپلز پارٹی سے علیحدگی کا امکان-آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے آئندہ انتخابات سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کو اہم سیاسی چیلنج کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے کی قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق سردار تنویر الیاس پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر شدید تحفظات رکھتے ہیں اور اسی معاملے پر انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں سے مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر مشاورت شروع کر دی ہے۔
اطلاعات ہیں کہ انہوں نے وسطی باغ، پاچھیوٹ اور اپر نیلم سے انتخابی ٹکٹ کی خواہش ظاہر کی تھی۔ پارٹی قیادت کی جانب سے نیلم اور پاچھیوٹ کے حوالے سے مثبت اشارے دیے گئے، تاہم وسطی باغ سے کسی اور امیدوار کو میدان میں اتارنے پر زور دیا گیا، جس کے باعث معاملات حتمی شکل اختیار نہ کر سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی مذاکرات میں وسطی باغ سے ٹکٹ دینے پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا تھا، لیکن آخری مرحلے میں فیصلہ تبدیل کر دیا گیا۔ بعد ازاں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی منظوری سے جاری ہونے والی امیدواروں کی فہرست میں سردار تنویر الیاس کا نام شامل نہیں تھا۔
سیاسی ذرائع کے مطابق ٹکٹوں کی تقسیم اور حلقوں کے انتخاب پر اختلافات ہی اس صورتحال کی بنیادی وجہ بنے۔ اگر ان کے مطالبات کے مطابق ٹکٹ نہ ملا تو وہ پیپلز پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔
ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی نے سردار تنویر الیاس کو دوبارہ اپنی جماعت میں شامل ہونے کی پیشکش کر رکھی ہے۔ یاد رہے کہ وزارت عظمیٰ سے علیحدگی کے بعد وہ پہلے بھی استحکام پاکستان پارٹی کا حصہ بنے تھے، تاہم بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔
سیاسی حلقوں کی نظریں اب سردار تنویر الیاس کے آئندہ فیصلے پر مرکوز ہیں، جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ جلد اپنے سیاسی مستقبل سے متعلق اہم اعلان کر سکتے ہیں۔