ABS24
نیوز
ABS24 News Network
💰 زرمبادلہ
🇺🇸 امریکی ڈالر ₨278.01 🇪🇺 یورو ₨317.37 🇬🇧 پاؤنڈ ₨368.17 🇸🇦 سعودی ریال ₨74.14 🇦🇪 درہم ₨75.70 🇨🇳 چینی یوان ₨40.86

آزاد کشمیر کا 286 ارب روپے کا بجٹ پیش،تنخواہ ،پنشن میں 7 فیصد اضافہ

👁️ 4 مرتبہ پڑھا گیا
آزاد کشمیر کا 286 ارب روپے کا بجٹ پیش،تنخواہ ،پنشن میں 7 فیصد اضافہ

آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیرنے نظر ثانی میزانیہ 2025-26اور تخمینہ میزانیہ 2026-27 آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کر دیا۔ نظر ثانی میزانیہ2025-26کی کل لاگت 2کھرب62ارب 16کروڑ 54لاکھ روپے جبکہ تخمینہ میزانیہ 2026-27کا کل حجم 2کھرب 86ارب روپے ہے۔پیر کے روز آزادجموں وکشمیر قانون سازاسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیرچوہدری قاسم مجیدنے نظرثانی میزانیہ 2025-26 اور تخمینہ میزانیہ 2026-27ایوان میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال2026-27کے لئے مجموعی وصولیوں / آمدن اور اخراجات کا تخمینہ 2کھرب50ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 36ارب روپے لگایا گیا ہے۔ وصولیوں / آمدن کی مد میں محکمہ ان لینڈ ریونیو سے75ارب20کروڑ روپے،لینڈ ریکارڈ اینڈ سیٹلمنٹ سے13کروڑ 25لاکھ روپے ،سٹیمپس سے45کروڑ94لاکھ77ہزارروپے ،اے جے کے ٹرانسپورٹ اتھارٹی5کروڑ55لاکھ روپے ،آرمڈ سروسز بورڈ4کروڑروپے ،لاء اینڈ آرڈر (ایڈ منسٹریشن آف جسٹس) 30کروڑ9لاکھ روپے ،داخلہ (پولیس) 46کروڑ روپے ،جیل خانہ جات27لاکھ50ہزار روپے ،کمیونیکیشن اینڈ روکس 56کروڑ4لاکھ روپے ،تعلیم26کروڑ96لاکھ روپے ،صحت 23کروڑ3لاکھ 12ہزار روپے ،خوراک 82کروڑ30لاکھ روپے ،زراعت88لاکھ روپے ،جنگلی حیات /فشریز 9کروڑ20لاکھ روپے ،لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ4کروڑ24لاکھ روپے ،جنگلات46کروڑ34لاکھ روپے ،بجلی/برقیات18ارب50کروڑ روپے ،پرنٹنگ پریس 87کروڑ6لاکھ روپے ،انڈسٹریز4کروڑ96لاکھ50ہزار روپے ،لیبر50لاکھ روپے ،ابریشم43لاکھ 50ہزار روپے، معدنیات08کروڑ62لاکھ روپے ،سیاحت01کروڑ24لاکھ روپے ،سماجی بہبود 11لاکھ روپے ،مذہبی امور 07کروڑ90لاکھ روپے ،متفرق02ارب 23کروڑ36لاکھ61ہزار روپے ،فیڈرل ویری ایبل گرانٹ 1کھرب46ارب روپے ،واٹر یوزج چارجز02ارب روپے ،لون اینڈ ایڈوانسز01ارب80کروڑ روپے موصول ہونے کا تخمینہ ہے اس طرح کل آمدن کا تخمینہ 02کھرب 50ارب روپے لگایا گیا ہے۔
مالی سال2026-27کے لیے مختلف محکمہ جات کے لیے اخراجات کا تخمینہ جنرل ایڈمنسٹریشن کیلئے 09ارب64کروڑ88لاکھ روپے ،بورڈ آف ریونیوکیلئے02ارب26کروڑ21لاکھ روپے،سٹیمپس کیلئے 4کروڑ89لاکھ روپے ،لینڈریکارڈ اینڈ سیٹلمنٹ06کروڑ 66لاکھ روپے ،ریلیف و بحالیات03ارب 45کروڑ03لاکھ روپے ،پنشن53ارب 50کروڑ روپے ،تعلقات عامہ 44کروڑ32لاکھ روپے ،عدلیہ04ارب 35کروڑ 50لاکھ روپے ،داخلہ؍ پولیس13ارب 20کروڑ54لاکھ روپے ،جیلخانہ جات52کروڑ01لاکھ روپے ،شہری دفاع57کروڑ79لاکھ روپے ، آرمڈ سروسز بورڈ14کروڑ13لاکھ روپے ،مواصلات و تعمیرات عامہ07ارب7کروڑ26لاکھ روپے ،تعلیم 57ارب27کروڑ51لاکھ روپے ،صحت کے شعبہ کیلئے25ارب80کروڑ90لاکھ روپے ،سپورٹس یوتھ اینڈ کلچر و ٹرانسپورٹ23کروڑ62لاکھ روپے ،مذہبی امور38کروڑ32لاکھ روپے ،سماجی بہبود و ترقی نسواں کیلئے 01ارب20کروڑ01لاکھ روپے ،زراعت کیلئے 01ارب48کروڑ74لاکھ روپے ، لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ 01ارب 36کروڑ30لاکھ روپے ،خوراک55کروڑ17لاکھ روپے ، ریاستی تجارت 32ارب61کروڑ06لاکھ65ہزار روپے ،جنگلات،وائلڈ لائف وفشریز02ارب50کروڑ55لاکھ روپے ،کوآپریٹیو01کروڑ85لاکھ روپے ،توانائی و آبی وسائل13ارب36کروڑ34لاکھ روپے ،لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی01ارب31کروڑ24لاکھ روپے ،صنعت،لیبر ومعدنی وسائل 39کروڑ99لاکھ روپے ،پرنٹنگ پریس18کروڑ46لاکھ روپے ،ابریشم18کروڑ26لاکھ روپے ،سیاحت وآثار قدیمہ20کروڑ11لاکھ روپے ،متفرق ( گرانٹس)10ارب62کروڑ34لاکھ35ہزار روپے ، کیپیٹلاخراجات 05ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ اخراجات کے لیے کل 2کھرب50ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔
مالی سال2026-27 میں ترقیاتی اخراجات برائے زراعت و لائیو سٹاک کے لیے 90کروڑ روپے ،سول ڈیفنس؍ سٹیٹ ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کیلئے 10کروڑ روپے ،ترقیاتی ادارہ جات19کروڑ روپے ، تعلیم03ارب 30کروڑروپے ،ماحولیات10کروڑ روپے،جنگلات واٹر شیڈ60کروڑ روپے ،وائلڈ لائف وفشریز02کروڑ روپے ،صحت عامہ04ارب 10کروڑ روپے ، صنعت و معدنیات47کروڑ روپے ،آزادجموں وکشمیر ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی14کروڑروپے ، گورننس؍ متفرق01ارب35کروڑ روپے ،ٹرانسپورٹ15کروڑ روپے ،انفارمیشن اینڈ میڈیا ڈویلپمنٹ09کروڑروپے ،انفارمیشن ٹیکنالوجی55کروڑ روپے ،لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی03ارب20کروڑ روپے ،فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ01ارب70کروڑ روپے ، توانائی و آبی وسائل03ارب30کروڑ روپے ،ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ78کروڑ روپے ، لینڈ ایڈمنسٹریشن اینڈ مینجمنٹ09کروڑ روپے ،سماجی بہبود وترقی نسواں22کروڑ روپے ،سپورٹس اینڈ یوتھ اینڈ کلچر35کروڑ روپے ،سیاحت30کروڑ روپے ،موصلات و تعمیرات14ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔اس طرح کل ترقیاتی اخراجات برائے مالی سال2026-27 کا تخمینہ36ارب روپے لگایا گیا ہے۔
آزادکشمیر کے وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے پیر کے روز آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ آج مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں ایوان کے سامنے حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے مالی سال 2026-27کا تاریخ ساز بجٹ پیش کررہا ہوں۔میرے لیے یہ لمحہ محض آئینی اور انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک تاریخ ساز سعادت بھی ہے ۔ آج مجھے وزیر خزانہ کی حیثیت سے یہ بجٹ ایوان کے روبروپیش کرنے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے تو بے اختیار وہ تاریخی لمحہ یاد آجاتا ہے کہ جب 1990میں میرے والد محترم نے وزیر خزانہ کی حیثیت سے اسی ایوان میں بجٹ پیش کیا تھا جب کے اس وقت کے قائدایوان جناب ممتاز حسین راٹھور تھے ۔قدرت کی یہ دل آویز گردش دیکھیے کے آج ایک پھر جناب وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی سربراہی میں مجھے بطور وزیر خزانہ بجٹ پیش کرنے کی سعادت نصیب ہورہی ہے ۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ریاستی اداروں کے تسلسل ، جمہوری روایات کے استحکام اور عوامی خدمت کے تجدید عہد کی ایک خوبصورت علامت ہے ۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کے اس نے مجھے اپنے بزرگوں کی عوامی خدمت کی روایت کو آگے بڑھانے اور ریاست اور عوام کی خدمت کا عظیم موقع عطا فرمایا ۔یہ بجٹ صرف اعداد شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسے عزم کا اظہار ہے جو عوامی خدمت ، سماجی انصاف اور معاشی ترقی کے سنہری اصولوںپر مبنی ہے۔ جیسا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رہنما شہید ذوالفقار علی بھٹو ، شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور آج کی قیادت نے ہمیں ایک روشن اور عوام دوست پاکستان کا ویژن دیا۔ یہ ویژن ذوالفقار علی بھٹو کی سوچ سے جڑا ہے جس نے غریب مزدور اور کسان کو سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔ یہ اسی مشن کا تسلسل ہے جسے شہید بینظیر بھٹو نے جمہوریت ، برداشت اور عوامی فلاح کے لیے اپنی جدوجہد سے آگے بڑھایا اور جس نے پاکستان میں جمہوری سوچ کو نئی زندگی بخشی۔ آج اسی ویژن کو عملی شکل دینے کا عزم آصف علی زرداری کی قیادت میں مضبوط ہوا۔ جنہوں نے جمہوری تسلسل اور وفاق کی مضبوطی کو اپنی سیاست کا محور بنایا اور یہی سفر بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں آگے بڑھ رہا ہے جو نوجوان نسل ، جدید معیشت اور ترقی پسند پاکستان کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے پر عزم ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کا ویژن واضح ہے’’عوام کی خدمت، غربت میں کمی اور خوشحال آزاد کشمیر کی تعمیر‘‘ یہ ویژن پاکستان پیپلز پارٹی کے بنیادی نظریہ کی عکاسی کرتا ہے جو ہمیشہ سے روٹی،کپڑا اور مکان جیسے بنیادی انسانی حقوق کے گرد گھومتا ہے۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ریاست کی اصل طاقت اس کے عوام ہیں اور جب تک عام آدمی کو ریلیف، روزگار اور بنیادی سہولیات نہیں ملتیں ، ترقی کا سفر مکمل نہیں ہوسکتا۔ یہ بجٹ اسی عزم ، اسی سوچ اور اسی سیاسی فلسفہ کا تسلسل ہے جو نسل درنسل پیپلز پارٹی کی قیادت نے ہمیں دیا ہے۔ ایک ایسا پاکستان اور آزادکشمیر جہاں طاقت کا مرکز عوام ہو ںاور ریاست ان کی خدمت کے لیے ہو۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ جس نے ہمیں عوامی خدمت کا عظیم موقع عطاء فرمایا۔ میں اس موقع پر کشمیری عوام ، شہداء کشمیر ، غازیانِ کشمیر اور مادر وطن پاکستان کے بے مثال تعاون اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جن کی بدولت تحریک آزادی کشمیر آج بھی پوری قوت کے ساتھ جاری و ساری ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ امر تاریخ کے اوراق پر ثبت ہے کہ برادر اسلامی ملک پاکستان نے اپنے قیام سے لے کر آج تک مسئلہ کشمیر کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون اور اپنی قومی ترجیحات کا اولین عنوان قرار دیا ہے۔ پاکستان نے نا صرف سفارتی محا زپر بلکہ اسلامی ، سیاسی اور انسانی بنیادوں پر بھی اہل کشمیر کی بے لوث اعیانت کو اپنا قومی فریضہ سمجھا ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ پاکستان نے ہر عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا ہے اور سیاسی ، سفارتی ، اخلاقی اور انسانی سطح پر ہمیشہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں ، ماورائے عدالت اقدامات ، آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی مذموم کوششوں اور بنیادی آزادی پر عائد قدغنوں کو عالمی ضمیر کے سامنے اجاگر کرنے میں پاکستان نے کلیدی کردار اداء کیا ہے۔ یہ پاکستان ہی ہے جس نےUNOاور دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر کشمیری عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کی آواز کو عالمی ایوانوں تک پہنچایا اور دنیا کو اس امر کی یقینی دہانی کروائی کے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈا پر ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی ایجنڈا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم حکومت پاکستان، پاکستانی عوام او ر افواج پاکستان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہر مشکل وقت میں کشمیری عوام کا ساتھ دیا اور مسئلہ کشمیر کو عالمی ضمیر میں زندہ رکھنے کے لیے ہر سطح پر موثر کردار اداء کیا۔ حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ قومی خودمختاری اور کشمیری عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے پوری قوم متحد اور ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح یکجاء ہے۔اسی قومی وحدت اور استقامت کے طور پر بنیان المرصوص کا تصور ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ بھارت کے آپریشن سندور کے جواب میں پاکستان کی ایمان افروز عسکری قیادت ’’رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن‘‘ کے مصداق دشمن کے مقابلہ میں سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئی۔آپریشن بنیان المرصوص نے ثابت کردیا کہ پاکستان اپنی خود مختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ہماری بہادر مسلح افواج نے اتحاد، استقامت اور حب الوطنی کی ایک روشن مثال قائم کی ۔افواج پاکستان نے جس جرات اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ،وہ پوری قوم کے لیے باعث فخر ہے۔ معرکہ بنیان المرصوص ملکی ، عسکری تاریخ کی وہ عظیم مثال ہے جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ قرآن مجید کی سورۃ صف میں بیان کردہ بنیان المرصوص سے مراد’’ایک ایسی مضبوط اور سیسہ پلائی دیوارہے جس کے اجزاء باہم جڑے ہوںاور جو ہر چیلج کا متحد ہو کر مقابلہ کرے‘‘۔یہ محض ایک عسکری اصطلاح نہیں بلکہ ہمارے نظم، قربانی اور قومی یکجہتی کا استعارہ بن چکا ہے۔ یہ اس امر کی یقین دہانی ہے کہ جب قوم اپنے نظریہ ، اپنے مفادات اوراپنے اصولوں کے دفاع کے لیے متحد ہو جائے تو کوئی طاقت اس کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی۔چوہدری قاسم مجید نے کہا کہ آج میں آپ سے ایسے وقت میں مخاطب ہوں جب ہمارا ملک اہم سیاسی اور سیکیورٹی چیلنجز سے گزر کر سرخرو ہوا ہے ۔الحمد اللہ پاکستا ن ایک مضبوط،متحد اور باوقار قوم کے طور پر ہر مشکل کا مقابلہ کر رہا ہے اور اپنے قومی مفادات کا بھرپور تحفظ کر رہا ہے ۔ پاکستان کو مغربی سرحد پر بھی مختلف چیلنجز کا سامنا ہے ۔پاکستا ن نے افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی میںواضح اور فیصلہ کن برتری ثابت کی ہے ۔اسی طرح خبیر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری مسلح افواج قانون نافظ کرنے والے ادارے اور عوام بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں ۔ انہی شہدا ء اور غازیوں کی قربانیوں کی بدولت پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہم مالی سال2026-27؁ء کا بجٹ ایوان کے سامنے پیش کر رہے ہیں تو یہ امر قابل ذکر ہے کہ دنیا ایک غیر معمولی سیاسی اور معاشی دوراہے سے گزر رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور ایران کے گرد پیدا ہونے والی صورتحال نے عالمی امن ، توانائی کی منڈیوں اور اقتصادی استحکام کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان نے اپنے تاریخی تشخص ، ذمہ دارانہ سفارتکاری اور اصولی موقف کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن، استحکام اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے موثر اور فعال کردار اداء کیا ہے۔ پاکستان نے برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ہر سطح پر اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال پر نہیں بلکہ مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت نے بروقت اور دانشمندانہ فیصلوں کے ذریعہ نا صرف خطہ میں امن کے فروغ کے لیے کوششیں کیں بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ واضح پیغام دیا کہ جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے تعمیری مکالمہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان ہمیشہ امن کا داعی ، مظلوم اقوام کی آوازاور خطہ میں استحکام کا ضامن رہا ہے۔ ہماری مسلح افواج، سفارتی اداروں اور قومی قیادت نے ہر مشکل گھڑی میں دانش ، جرات اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہی اصول اور متوازن خارجہ پالیسی آج پاکستان کو عالمی برادری میں باوقار ،ذمہ دار اور قابل اعتماد ریاست کے طورپر ممتاز کرتی ہے۔اس ضمن میں پاکستان کی عسکری قیادت بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کے حوالہ سے بصیرت افروز قیادت کا مظاہرہ کیا۔ عالمی قائدین کے ساتھ اعلیٰ سطح روابط میں انہوں نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ جنوبی اور مغربی ایشیاء میں امن ، باہمی احترام ، خودمختاری کے اصولوں اور مسلسل سماجی روابط کے بغیر ممکن نہیں۔ اِس نتیجہ خیز سفارت کاری پر صدر مملکت آصف علی زرداری ، وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خصوصی مبارکباد کے مستحق ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ حقیقت کسی توجیح کی محتاج نہیں ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران عوام اور حکومت کے مابین اعتمادکا رشتہ مختلف داخلی اور خارجی عوامل کے باعث کمزور پڑا تھا ۔ ایسے حالات میں موجودہ حکومت نے محض انتظامی معاملات کی انجام دہی پر ہی اکتفانہیں کیا بلکہ حقیقی عوامی حکومت کے تصور کے تحت عوامی خدمت کے تصور کو از سر نو مرتب کرتے ہوئے حکمرانی کے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ ہم نے وقت کی قلت کو اپنی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا بلکہ اسے اپنی کارکردگی ، عزم اور صلاحیتوں کے امتحان کے طور پر قبول کیا ۔ محدود وسائل اور مالیاتی دبائو کے باوجود ہم نے عوامی فلاح و بہبود کو اپنی ترجیحات کا محور بنایا اور ہر فیصلہ میں عوامی مفاد ، شفافیت اور عوامی خدمت کو مقدم رکھا۔ انہوں نے کہا کہ اسی جذبہ خدمت اور احساس ذمہ داری کے ساتھ مالی سال2026-27؁ء کا بجٹ اس معزز ایوان کے روبرو پیش کرنے جارہا ہوں۔میں معزز ایوان کو یہ بتانے میں بھی فخر سمجھتا ہوں کہ آزاد جموں وکشمیر کی تاریخ میں اپنے حجم کا سب سے بڑا بجٹ پیش کرنے جارہا ہوں۔ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی جناب وزیر اعظم کا ویژن ہے۔ انہوںنے کہا کہ آئندہ مالی سال 2026-27ء کا ترقیاتی و غیر ترقیاتی تخمینہ بجٹ کا حجم286ارب روپے رکھا گیا ہے۔موجودہ مالی سال2025-26کا ترقیاتی و غیر ترقیاتی نظر ثانی بجٹ کا حجم262ارب 16کروڑ50لاکھ روپے ہے ۔موجودہ حکومت کی کوششوں اوروفاقی حکومت کی معاونت کے باعث اگلے مالی سال کے لئے23ارب83کروڑ50لاکھ روپے کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ موجودہ حکومت کو عنان اقتدار سنبھالے ہوئے چھ ماہ کا قلیل عرصہ گزرا ہے اور قلیل مالی وسائل کے باوجودمالیاتی نظم و ضبط کو ممکن بنانا اس حکومت کا بڑا کارنامہ ہے ۔موجودہ حکومت نے36ارب روپے کے ترقیاتی فنڈزاگلے مالی سال کے لیے مختص کرکے ترقی کی رفتار کو تیزی بخشی ہے اور پیداواری و سماجی شعبہ جات کو اپنی ترجیحات میں رکھا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ آج مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ میں ایوان کے سامنے حکومت آزادکشمیر کی جانب سے تعلیم کے شعبہ میں ایک تاریخی اور انقلابی اقدام ایجوکیشن پیکج2026کے حوالہ سے گزارشات پیش کروں۔یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عوام کی فکری بالیدگی ، تہذیبی ارتقاء اور معاشی استحکام کا انحصار ان کے نظام تعلیم کے معیار اور وسعت پر ہوتا ہے۔ تعلیم محض درس و تدریس کا نام نہیں بلکہ انسانی شعور کی آبیاری ، فکری ارتقاء کی ضامن اور قومی تعمیر و ترقی کی اساس ہے۔ اسی تناظر میں حکومت آزا دکشمیر نے شعبہ تعلیم کو اپنی ترجیحاتِ اولین میں شامل کرتے ہوئے انتہائی محدود وقت میں ایک ہمہ گیر،دور اندیش اور انقلابی پیکج مرتب کیا جس کا بنیادی مقصد ریاست کے ہر بچے اور نوجوان کو معیاری ، اثری اور مساوی تعلیمی مواقع کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔انہوںنے کہا کہ آزاد جموںوکشمیر میں تعلیمی نظام کی بہتری اور تعلیمی اداروںکو فعال کرنے کے لیے حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے تعلیمی پیکج2026؁ء کی منظوری دی گئی ۔ اس پیکج کے تحت ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پیکج کی مجموعی مالیت 02ارب97کروڑ 90لاکھ روپے ہے۔یہ محض ایک انتظامی انتظام نہیں بلکہ مستقبل کی نسلوں کی علمی، فکری اور اخلاقی تعلیم نو کا ایک ہمہ گیر اور دور رس منصوبہ ہے ۔جس کے تحت تعلیمی نظا م میں بہتری اور وسائل کے موثر انتظام کے لیے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں 1,629آسامیوں کی Rationalizationکی گئی ہے جبکہ طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے 3,308 نئی آسامیوں کی تخلیق عمل میں لائی گئی ہے ۔علاوہ ازیں، 709تعلیمی ادارہ جات کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔300سے زائد ادارہ جات کوStrengthenکیا گیا ہے اور109نئے تعلیمی ادارہ جات قائم کیے گئے ہیں۔اسی طرح ہائر ایجوکیشن میں مبلغ70کروڑ49لاکھ20ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جس سے ریاست بھر کے اداروں میں 726نئی آسامیوں کی تخلیق و اپ گریڈیشن کی گئی تاکہ ریاست کے سکول و کالجز کی ضروریات کو موثر طریقہ سے پورا کیا جاسکے۔ انہوںنے کہا کہ یہ پیکج محض آسامیوں کی تخلیق نہیں بلکہ جامع اصلاحاتی پروگرام ہے جس کے ذریعہ سکول و کالجز میں تدریسی و انتظامی عملہ کی کمی کو پورا کیا جاسکے گا۔ طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات میسر ہوسکیں گی۔ دور دراز علاقوں میں تعلیمی اداروں کو مضبوط کیا جاسکے گا۔ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی ماحول پیدا ہوگا اور تعلیمی معیار اور ادارہ جاتی استعداد میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایجوکیشن پیکج انہی اصلاحاتی اقدامات کا تسلسل ہے جو ریاست کو ترقی، خوشحالی اور علمی برتری کی طرف لے جائیں گی اور یہ پیکج نوجوانوں کے روشن مستقبل اور مضبوط علمی معاشرے کے قیام میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی ترقی، امن اور خوشحا لی کا دارومدار ایک مضبوط ، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس فورس پر ہوتا ہے۔ ایک مضبوط معاشرہ ہی مضبوط معیشت ، موثر حکمرانی اور پائیدار ترقی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ حکومت آزاد کشمیر اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے کہ سیکورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارو ں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔ اس ویژن کے تحت حکومت نے آزادجموںوکشمیر پولیس میں انسداد دہشت گردی کے محکمہ CTDکے قیا م کا تاریخی فیصلہ کیا جو ریاست میں امن و امان کے قیام ، دہشت گردی، انتہائی پسندی اور منظم جرائم کے موثرسد باب کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔حکومت نے کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے لیے473نئی آسامیوں کی تخلیق کی منظوری دے کر اس عزم کا عملی ثبوت دیا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس خصوصی فورس کو جدید تربیت، جدید ٹیکنالوجی ، انٹیلی جنس پر مبنی اوپریشنز اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کیا جائے گا تاکہ یہ ادارہ ہر قسم کے سیکورٹی خطرات سے موثر انداز میں نمٹ سکے۔ یہ اقدام نہ صرف ریاست کے امن و استحکام کو مزید مضبوط بنائے گا بلکہ عوام کے اعتماد میں اضافہ اور سرمایہ کاری کے فروغ میں بھی کلیدی کردار اداء کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر نے ریاست بھر میں امن و امان کے نظام کو مزید موثر، فعال اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے مختلف پولیس تھانوں اور چوکیات کے قیام ، توسیع اور فعالیت کے لیے ضروری افرادی قوت میں نمایاں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے مختلف اضلاع میں قائم اور نو قائم شدہ پولیس ا سٹیشن اور پولیس چوکیات کے لیے نئی آسامیوں کی تخلیق کی منظوری دی ہے۔ یہ اقدام محض عددی اضافہ نہیں بلکہ ریاستی رٹ کے استحکام ، عوامی اعتماد کے فروغ اور انصاف تک فوری رسائی کے واضح تصور کا عملی مظہر ہے۔ انہوںنے کہا کہ مجھے اس معزز ایوان کو یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت نے پولیس شہداء کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی شہداء پیکج کی منظوری دی ہے جس کے تحت شہید پولیس کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کے ورثاء کے لیے یکمشت گرانٹ1کروڑ روپے ، اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور سب انسپکٹر کے لیے1کروڑ25لاکھ روپے ، انسپکٹر تا ڈی ایس پی کے لیے1کروڑ80لاکھ روپے جبکہ ڈی آئی جی اور اس سے بالا تر آفیسران کے لیے 2کروڑ روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، شہداء کے اہل خانہ کو شہید ملازم کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک مکمل تنخواہ ، تمام الائونسز ، سالانہ انکریمنٹ اور نظر ثانی شدہ مراعات کی منظوری جاری رہے گی۔ سرکاری رہائش گاہ برقرار رکھی جائے گی جبکہ ذاتی رہائش کے حصول کے لیے بھی حکومت مالی معاونت فراہم کرے گی۔اس کے علاوہ شہداء کے اہل خانہ کو سرکاری ملازمت کی فراہمی کی سہولت حسب پالیسی برقرار رہے گی۔ اسی طرح دہشت گردی، جرائم کے خلاف کارروائیوں اور قیام امن کے دوران زخمی یا مستقل معذور ہونے والے پولیس آفیسران و اہلکاران کے لیے بھی مالی معاونت اور بحالی کے لیے موثر اور جامع پیکج بنایا گیا ہے تاکہ ان کی خدمات کا بھرپور اعتراف کیا جاسکے۔ یہ حکومت اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ اپنے شہداء کے لہو کی حرمت ، ان کے اہل خانہ کی کفالت اور پولیس فورس کے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ہمارے شہداء صرف اپنے اہل خانہ کے نہیں بلکہ پوری ریاست کے ہیرو ہیں اور ان کی قربانیاں ہمیشہ ہمارے قومی ضمیر کو زندہ رکھیں گی۔ وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے کہا کہ محکمہ پولیس محدود وسائل کے باوجود عوام کے جان و مال کے تحفظ ، امن و امان کے قیام ، جرائم کی روک تھام اور قانون کی حکمرانی کے لیے شب و روز خدمات سر انجام دے رہی ہے۔گزشتہ برس کے دوران محکمہ پولیس نے دہشت گردی، جرائم پیشہ عناصر اور امن و امان کو در پیش مختلف چیلنجز کا کامیابی سے دفاع کیا ہے۔ پولیس افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر عوامی تحفظ کو یقینی بنایا اور کئی مواقع پر عظیم قربانیاں پیش کیں ۔ ہم اپنے شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی قربانیوں کی بدولت معاشرے میں امن قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہ شعبہ صحت میں حکومت نے ایسی دور رس اصلاحات کا آغاز کیا ہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ریاست کے دور افتادہ اور محروم علاقوں تک بنیادوں طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے متعدد بنیادی مراکز صحت کو دیہی مراکز صحت میں ارتقاء دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عوام کو انکی دہلیز تک بہتر طبی سہولیات میسر آسکیں۔ اسی طرح مختلف دیہی مراکز صحت کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں ترقی دی جارہی ہے۔ تاکہ ثانوی درجہ کی طبی سہولیات کو مزید موثر ، منظم اور ہمہ گیر بنایا جاسکے۔ اس ضمن میں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اسلام گڑھ ، میرپور ، چوک صاحباں ،کوٹلی اور تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال خورشید آباد حویلی خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ان ادارہ جاتی اصلاحات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے حکومت نے نو قائم شدہ اور اپ گریڈ شدہ طبی مراکز کے لیے مختلف کیڈر میں نئی آسامیوں کی تخلیق کی منظوری دی ہے تاکہ افرادی قوت کی کمی صحت عامہ کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ حکومت اس حقیقت سے بخوبی آگا ہ ہے کہ جدید طبی نظام کی اساس تربیت یافتہ ، باصلاحیت اورمتحرک طبی افرادی قوت ہے۔ اسی تناظر میں پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کی تخصیصی تربیت اور پیشہ ورانہ استعداد میں اضافہ کے لیے 46.000ملین روپے کے خصوصی وظیفہ پروگرام کی منظوری دی گئی ہے۔ مزید برآں، ہائوس جاب کرنے والے ڈاکٹروں کے وظائف میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے انہیں صوبہ پنجاب میں رائج وظائف کے مساوی کر دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں، چکسواری میں جدید کارڈیک ہسپتال کا قیام، صحت عامہ کے ویژن کا ایک اور درخشاں باب اور شعبہ صحت میں ایک عظیم سنگ میل ثابت ہوگا۔ یہ اقدام صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ یہ اقدامات بروئے کار لانے کے لیے طویل مدت میسر نہ تھی۔ لیکن حکومت نے انتہائی محدود وقت میں غیر معمولی تندہی ، انتظامی بصیرت اور عوامی خدمت کے جذبہ کے ساتھ وہ اہداف حاصل کیے ہیں جو بسا اوقات برسوں میں بھی ممکن نہیں ہو پاتے۔مختصر وقت میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع ، طبی اداروں کی اپ گریڈیشن ، تخصیصی تربیت کے فروغ اور ہائوس آفیسران کے وظائف میں اضافہ اس امر کا واضع اور عملی ثبوت ہے کہ حکومت محض اعلانات پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ آزادکشمیر کی اپنی آمدن کے ذرائع میں نمایاں حصہ محکمہ ان لینڈ ریونیو کاہے ۔یہ امر اطمینان بخش ہے کہ حکومت آزاد کشمیر کے محکمہ ان لینڈ ریونیو نے موجودہ مالی سال میں محصولات کی وصولی کے مقررہ اہداف بڑی حد تک حاصل کر لیے۔ تاہم حکومت اس امر سے پوری طرح آگاہ ہے کہ مالیاتی خودمختاری کے حصول کے لیے محصولات کے نظام میں مزید وسعت ، استعداد اور جدت ناگزیر ہے۔ سال 2025-26؁ء کے دوران محکمہ ان لینڈ ریونیو کو مقررہ اہداف کے حصول میں دشواری کا سامنا رہا ۔ جس وجہ سے گزشتہ سال کی طرح ریونیو کا ہدف حاصل نہیں کیا جاسکا۔ رواں مالی سال کے دوران سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے منظور شدہ بینک پالیسی ریٹس کے مطابق بینک ہاء کی شرح منافع 9سے10فیصد کے درمیان رہی جو گزشتہ سالوں کے مقابلہ میں 50فیصد سے بھی کم ہے۔ مزیدبرآں، بجلی کے ٹیرف میں خاطر خواہ کمی ، تعلیمی سیس اور غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت پر نافذ العمل ٹیکسز کی شرح میں کمی کے باعث مقررہ ریونیو اہداف میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی۔ا ن لینڈ ریونیو کی جانب سے70سے زائد مختلف بزنس Outletsکی 110سے زائد برانچز کو کامیابی کے ساتھ AJK POS Invoicing Systemکے تحتIntegrateکیا جاچکا ہے۔ محکمہ ان لینڈ ریونیوکی جانب سے آزادکشمیرPOS Invoicing Systemکا نفاذ آزاد جموںوکشمیر میں غیر رجسٹرڈ ٹیکس گزاران سے حاصل ہونے والی آمدن میں مزید400فیصد سے800فیصد اضافہ کا باعث بنے گا۔ ان اصلاحات اور انتظامی اقدامات کے ذریعہ آمدہ مالی سال میں اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ میں اس ایوان کو بتاتے ہوئے مسرت محسوس کرتا ہوں کہ حکومت آزاد جموںوکشمیر نے مالی سال2025-26؁ء میں ایک انقلابی اور دور رس اصلاح کا آغاز کرتے ہوئے پہلی مرتب بجٹ میں Climate and Gender Budget Taggingکو متعارف کروایا جس کے تحت ریاست بھر کے 3,910ڈی ڈی اوز میں کیے گئے مالیاتی اخراجات کا جامع اور سائنسی تجزیہ کیا گیا ہے۔یہ کاوش ایک وسیع تر قومی حکمت عملی کا حصہ ہے جسے برطانوی حکومت کے ادارے Foreign Common Wealth & Development Officeکے تعاون سے REMITپروگرام کے تحت عملی جامہ پہنایا گیا۔جبکہ اس ضمن میں Adam Smith InternationalاورAF Fargosan & Companyنے تکنیکی معاونت فراہم کی۔یہ پیشرفت پاکستان کے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ طے شدہ اصلاحاتی ایجنڈے کے اہداف سے بھی ہم آہنگ ہے جس کے تحت موسمیاتی اخراجات کی باقاعدہ شناخت ، درجہ بندی اور رپورٹنگ کو کلیدی پالیسی اقدام قرار دیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ عظیم الشان مشق 261.000ارب روپے کے مجموعی بجٹ پر محیط ہے ۔ جس کے ذریعہ سرکاری مصارف کو موسمیاتی تغیرات اور صنفی مساوات کے اہداف سے ہم آہنگ کرتے ہوئے عوامی مالیاتی نظم و نسق کے بنیادی دھارے میں موثر اور پائیدار انداز میں مزھم کیا گیا ۔اس عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سرکاری وسائل کی تقسیم صرف مالیاتی ضروریات تک محدود نہ رہے بلکہ اسے ماحولیاتی تحفظ، سماجی شمولیت اور صنفی انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آزا دکشمیر اپنی جغرافیائی ساخت اور قدرتی وسائل کے باعث موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے براہ راست متاثر ہونے والے خطوں میں شامل ہے۔ اچانک سیلاب، زمینی تودوں کا گرنا ، گلیشیائی پگھلائو، بے ہنگم بارشیں اور خشک سالی نہ صرف ہماری معیشت بلکہ عوامی زندگی اور بنیادی ڈھانچے کے لیے بھی سنجیدہ خطرات پید ا کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں حکومت نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فریم ورک کے مطابق موسمیاتی اخراجات کی درجہ بندی کرتے ہوئے انہیں تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ یہ تمام اقدامات آزاد جموںوکشمیر کی موسمیاتی تغیراتی پالیسی 2017؁ء کے رہنماء اصولوں کے عین مطابق ہیں۔ اسی طرح صنفی مساوات کے فروغ کے لیے Gender Equality Policy Frameworkکے تحت بجٹ میںGender Equalityفریم ورک کو اپنایا گیا جس کے تحت صحت، معاشی خودمختاری، سماجی تحفظ جیسے شعبہ جات میں خواتین کی ضروریات کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ یہ اقدام در حقیقت ایک ایسے مالیاتی فلسفہ کی بنیاد ہے جس میں ترقی کے پیمانے محض اقتصادی نمو تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کا مقصد انسانی وقار، ماحولیاتی استحکام اور سماجی برابری قرارپاتا ہے۔ حکومت نے اس عمل کو مستقل طور پر ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے Budget Call Circularمیں ضروری ترامیم ، فنانشل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم میں Taggingکے انضمام اور معیاری رہنماء اصولوں کی تدوین جیسے اقدامات بروئے کار لائے ہیں۔انہوںنے کہا کہ قدرتی آفات اور حادثات کے دوران فوری امدادی کارروائیوں کے لیے SDMAاورRescue 1122 کا کردار بہت اہم ہے۔ 2005؁ء کے تباہ کن زلزلہ کے بعد قومی سطح پرنیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ 2008؁ء میں آزاد جموںوکشمیر میں بھی سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔حکومت آزادکشمیر نے قدرتی آفات کے اثرات سے نمٹنے اور ان کو کم کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کیا ہے ۔ سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے تحت سٹیٹ ایمرجنسی اوپریشن سنٹر کا قیام عمل میں لائے جانے کے بعد آزادکشمیر کے دیگر اضلاع میں بھی ایمرجنسی اوپریشن سنٹر ہاء کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے ۔ رواں سال میں ضلع حویلی ، سب ڈویژن اسلام گڑھ و چکسواری میرپور اور چڑھوئی میں ایمرجنسی ریسکیو 1122سٹیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع مظفرآباد، راولاکوٹ، کوٹلی اور میرپور میں واٹر ریسکیو کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، نیشنل ایمرجنسی سنٹر کی طرز پر آزادکشمیر میں سٹیٹ ایمرجنسی سنٹر کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے ۔حکومت آزادکشمیر کی جانب سے قدرتی آفات کی تیاری ، ردِ عمل ، تخفیف اور ریلیف کے لیے معقول فنڈز مختص کیے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار ملک میں موجود ہنر مند نوجوانوں پر ہے۔ اس سیکٹر کی اہمیت اور افادیت کی بنیاد پر حکومت آزادکشمیر نے نظرثانی میزانیہ میں گزشتہ مالی سال2025-26؁ء میں 867.235ملین روپے فراہم کیے ۔ جبکہ آئندہ مالی سال2026-27؁ء میں خاطر خواہ اضافہ کے ساتھ 1128.434ملین روپے کا تخمینہ مرتب کیا گیا ہے تاکہ عصر حاظر کے تقاضوں کے مطابق TVETسیکٹر میں کوالٹی ٹریننگ فراہم کرتے ہوئے نوجوانوں کو مقامی، قومی و بین الاقوامی سطح پر دستیاب روزگار کے مواقع سے مستفید کیا جاسکے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں I.T Mass Literary Programmeکے تحت انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے حال ہی میں ڈویژنل ہیڈکوارٹر پونچھ راولاکوٹ اور مظفرآباد میں سٹیٹ آف دی آرٹExcellence Centerقائم کیے ہیں جس میں طلبہ و طالبات کو جدید آئی ٹی کورسز کروائے جارہے ہیں۔ محکمہ مال کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائز کرنے کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ 13تحصیلوں کے لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا جاچکا ہے جبکہ لینڈ ریکارڈ کی Digitilizationکا عمل تیزی سے جاری ہے۔ مفاد عامہ کے پیش نظر حکومت آزاد کشمیر اگلے مرحلے میں تمام تحصیلوں تک اس منصوبے کی توسیع پر غور کر رہی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے عدلیہ کے تعاون سے عدالت العظمیٰ اور عدالت العالیہ کی آٹومیشن مکمل کر لی ہے۔ آئی ٹی بورڈ نے ریاست بھر میں محکمہ صحت کے تعاو ن سے ٹیلی ہیلتھ سنٹرز کی اجرائیگی کا قیام عمل میں لایا ۔ جس کے پہلے مرحلہ میں16سنٹرز کا آغازکیا گیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ اخوت اسلامی مائیکرو فنانس کے اشتراک سے مالی سال2025-26؁ء میں8105کم آمدنی والے افراد کو بلا سود قرضہ فراہم کیا گیا ہے ۔ مالی سال2026-27؁ء میں ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی اور دیگر ضروری اخراجات کے لیے غیر ترقیاتی میزانیہ میں60.000ملین روپے فراہم کیے جانے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور ریاستی جامعات کو درپیش مالی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت نے مالی سال2025-26؁ء میں1ارب97کروڑ39لاکھ 52ہزار روپے کی گرانٹ فراہم کی ہے۔اس مالی اعانت کا مقصد جامعات کے مالی استحکام کو یقینی بنانا، تدریسی و تخلیقی سرگرمیوں کو تقویت دینا اور علمی و فکری سرمایہ کاری کے آبیاری کے عمل کو جاری رکھنا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ریاست بھر میں منظم ترقی ، جدید اربن پلاننگ اوربنیادی شہری سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے رواں مالی سال کے دوران ترقیاتی اداروں کے لیے مجموعی طور پر 7کروڑ5لاکھ78ہزار روپے فراہم کیے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ لوکل باڈیز کو پنشن کی ادائیگی کے سلسلہ میں مالی سال2025-26؁ء میں کل مبلغ51کروڑ89لاکھ38ہزار روپے اضافی فراہم کیے گئے ہیں۔ چوہدری قاسم مجید نے کہا کہ SERRAکے ملازمین کی تنخواہ کی ادائیگی کے سلسلہ میں مالی سال2025-26؁ء میں 8کروڑ45لاکھ18ہزار روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی اور نظام عدل کی مضبوطی کے ضمن میں حکومت نےAJK Bar Councilکے لیے فراہم کی جانے والی گرانٹ میں اضافہ کرتے ہوئے بار کونسل کے لیےOne Timeگرانٹ میں 1کروڑ روپے فراہم کیے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے آزاد جموںوکشمیر بینک کی مالی پوزیشن کو مستحکم بنانے اور اسے’’ شیڈول بینک ‘‘کا درجہ دینے کے مقصد سے مالی سال2025-26؁ء میں Equity Shareمیں 2ارب90کروڑ روپے فراہم کیے ہیں۔یہ ایوان کے لیے باعث مسرت اور ریاست کے لیے قابل فخر امر ہے کہ BoAJKکو شیڈولڈ بینک کا درجہ دلوانے کے لیے درکار تمام قانونی ، مالیاتی اور ضابطہ جاتی تقاضے حکومت کی جانب سے مکمل کر لیے گئے ہیں اور معاملہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کو ارسال کیا جاچکا ہے۔ انشاء اللہ توقع ہے کہ رواں سال ستمبر تک BoAJKشیڈولڈ بینک کی حیثیت اختیار کرے گا۔ یہ سنگ میل آزادجموں وکشمیر کی مالیاتی تاریخ میں نئے اور روشن باب کا اضافہ کرے گا۔ یہ حکومت کی موثر مالیاتی حکمت عملی کا عملی مظہر ثابت ہوگا اور BoAJKکو ریاست کی ایک مضبوط، قابل اعتماد اور قیمتی مالیاتی اثاثہ کے طور پر مستحکم کرے گا جو سرمایہ کاری ، مالیاتی استحکام ،پائیدار اقتصادی ترقی کے فروغ اورعوام کو بہتر بینکاری سہولیات دینے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں ڈیجیٹل انفراسکٹرکچر کی مضبوطی، مواصلاتی سہولیات کے دائرہ کار میں وسعت اور باالخصوص دور افتادہ علاقوں کو جدید مواصلاتی نظام سے منسلک کرنے کے لیے حکومت نےAJK Universal Service Fund کے لیے 5کروڑ روپے فراہم کیے ہیں۔یہ اقدام معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور عوام کو جدید ٹیکنالوجی سے مستفید کرنے کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہحکومتی پالیسیوں ، ترقیاتی اقدامات، عوامی آگاہی اور موثر عوامی رابطہ کاری کے لیے محکمہ اطلاعات کو رواں مالی سال کے دوران نظر ثانی میزانیہ2025-26؁ء کی مد’’اشتہارات‘‘ میں 3کروڑ روپے اضافی فراہم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مہاجرین1989-90؁ء کی معاشی اعانت کو یقینی بنانے کے لیے ان کے گزارہ الائونس میں خاطر خواہ اضافہ کرتے ہوئے3,500/-روپے سے بڑھا کر6,000/-روپے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میںمحکمہ بحالیات کو 73کروڑ4لاکھ70ہزار روپے اضافی فراہمی عمل میں لائی گئی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ آزاد کشمیر کا موجودہ بجٹ آزاد کشمیر کے عوام کی امنگوں کا ترجمان اور حکومتی ترجیحات کا عکاس ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میزانیہ میں تجویز کی گئی ترجیحات پر مکمل عملدرآمد ،تعمیر و ترقی کے ایسے دور کی بنیاد رکھے گا جس کے اثرات عوام کے لیے خوشحالی اور ترقی کے ضامن ہونگے۔وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے کہا کہ میں اب معزز ایوان کے سامنے 2026-27؁ء کے اہم اعداد و شمار پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں:
نظرثانی میزانیہ 2025-26؁ء
ٹیکس ریونیو 66,000 ملین روپے
(چھیا سٹھ ارب روپے )
i۔ انکم ٹیکس 53,147 ملین روپے
(تریپن ارب چودہ کروڑ سات لاکھ روپے )
ii۔ دیگر ٹیکسز 12,853ملین روپے
(بارہ ارب پچاسی کروڑ تیس لاکھ روپے)
Variable Grant 140,000 ملین روپے
( ایک سو چالیس ارب روپے)
ریاستی محاصل 21,246 ملین روپے
(اکیس ارب چوبیس کروڑ ساٹھ لاکھ روپے)
Water Usage Charges 400 ملین روپے
(چالیس کروڑ روپے)
Capital Receipts (Loan & Advances) 1,500 ملین روپے
(ایک ارب پچاس کروڑ روپے)
Federal/Provincial Investment (Financial)KC 985 ملین روپے
(اٹھانوے کروڑ پچاس لاکھ روپے)
ًً کل آمدن 230,000 ملین روپے
(دو سو تیس ارب روپے )
جاریہ اخراجات 230,000 ملین روپے
(دو سو تیس ارب روپے )
ترقیاتی اخراجات 32,165 ملین روپے
(بتیس ارب سولہ کروڑ چوون لاکھ روپے )
کل نظرثانی میزانیہ 2025-26ء 262,165 ملین روپے
(دو سو باسٹھ ارب سولہ کروڑ پچاس لاکھ روپے )
تخمینہ میزانیہ 2026-27؁ء :
ٹیکس ریونیو 75,200 ملین روپے
(پچہتر ارب بیس کروڑ روپے )
i۔ انکم ٹیکس 60,000 ملین روپے
(ساٹھ ارب روپے )
ii۔ دیگر ٹیکسز 15,200 ملین روپے
(پندرہ ارب بیس کروڑ روپے )
Variable Grant 146,000 ملین روپے
(ایک سو چھییالیس ارب روپے )
ریاستی محاصل 25,000 ملین روپے
(پچیس ارب روپے )
Water Usage Charges 2,000 ملین روپے
(بیس کروڑ روپے )
Capital Receipts (Loan & Advances) 1,800 ملین روپے
(اٹھارہ کروڑ روپے )
ًً کل آمدن 250,000 ملین روپے
(دو سو پچاس ارب روپے )
جاریہ اخراجات 250,000 ملین روپے
(دو سو پچاس ارب روپے )
ترقیاتی اخراجات 36,000 ملین روپے
(چھتیس ارب روپے )
کل تخمینہ میزانیہ 2026-27؁ء 286,000 ملین روپے
(دو سو چھیاسی ارب روپے )
انہوںنے کہا کہ حکومت آزاد جموں و کشمیرنے ریاست کی تعمیر و ترقی کیلئے اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ مالی سال کے لئے 36ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام مرتب کیا ہے۔ جس میںایک ارب روپے کی فارن ایڈ شامل ہے۔ دستیاب وسائل کے خلاف شاہرات ، صحت عامہ ،تعلیم، توانائی و آبی وسائل، لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی، فزیکل پلاننگ و ہاوسنگ، گورننس، زراعت و آبپاشی، انفارمیشن ٹیکنالوجی وغیرہ کے منصوبہ جات پر عملدرآمد کی تجویز ہے ۔ انہوں نے کہا
انشاء اللہ حکومت آزاد جموں و کشمیر دستیاب مالی وسائل کو بہتر اور شفاف طریقہ سے استعمال کرتے ہوئے آزاد کشمیر کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے گی، نیز ترقیاتی سرگرمیوں کے ذریعے لوگوں کو سماجی و پیداواری شعبہ جات کے علاوہ رسل و رسائل کی بہتر سہولیات کی فراہمی ، معاشی ترقی،غربت کے خاتمے اور روزگار کی فراہمی جیسے اہم اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کے علاوہ ان اقدامات سے ریاستی آمدنی میں اضافہ کو یقینی بنایا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کی ترتیب و تدوین میں جاریہ منصوبہ جات کیلئے76فیصد جبکہ نئے منصوبہ جات کیلئے24فیصد فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ مالی سال 2025-26ء کے اختتام تک93منصوبہ جات مکمل کر لئے جائیں گے جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران170منصوبہ جات کی تکمیل کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے آزاد کشمیر کے ترقیاتی میزانیہ برائے مالی سال 2026-27ء کے اہم خدوخال بتاتے ہوئے کہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام 2026-27ء میں سماجی شعبہ جات کیلئے مجموعی طور پر31فیصد ،پیداواری شعبہ جات کیلئے12فیصداور انفراسٹرکچر کے شعبہ جات کیلئے57فیصد مالی وسائل فراہم کئے جانے کی تجویز ہے۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں جاریہ منصوبہ جات کیلئے 26 ارب 28کروڑ روپے سے زائد جبکہ نئے منصوبہ جات کیلئے مجموعی طورپر 8 ارب71 کروڑ روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے۔ جس کے خلاف سماجی، پیداواری اور انفراسٹرکیچرکے حکومتی ترجیحات کے مطابق اہم نوعیت کے منصوبہ جات پرعملدرآمد کیا جائیگا۔جس سے سماجی ، پیداواری اور معاشی ترقی کو فروغ حاصل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کے لیئے671کلومیٹرمیجر و رابطہ سڑکوں کی تعمیر اور 394کلومیٹر میجر و رابطہ سڑکوں کی ری کنڈیشنگ و اپ گریڈیشن کے منصوبہ جات پرعملدر آمدہو رہا ہے نیز 376میٹر سپین آر سی سی پل ہا اور 97میٹر بیلی برج ہاکی تعمیر بھی زیر کار ہے ۔ مالی سال 2026-27میں 330کلو میٹر رابطہ سٹرکات کی بہترگی و پختگی کی تجویز ہے جس کے تحت فی حلقہ 10کلو میٹر سڑکوں کو بہتر بنایا جائے گا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے دوران عوام کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی، مرمتی ، بحالی اور بہترگی کیلئے منصوبہ جات تجویزکیئے گئے ہیں ۔علاوہ ازیں آزاد کشمیر میں بجلی کی ترسیل کو بہتر بنانے کے لئے برقی لوڈ کی تقسیم اور ٹرانسفارمر ز کی مرمتی کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔ نیز چڑھوئی، ارجہ ، تتہ پانی اور کہوٹہ میں نئے گرڈ اسٹیشنز کی تعمیر کے لئے فز یبیلٹی سٹڈی کا منصوبہ شروع کئے جانے کی تجویز ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی ڈویلپمنٹ فنڈکے مالی تعاون سے 22میگا واٹ جاگراںIV- اور 48میگا واٹ شونٹر کے منصوبہ جات پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ نیز 3میگاواٹ پھلاوئی ،2.7میگاواٹ خورشید آباد،1.9میگا واٹ نوشہرہ اور1.2میگا واٹ دچھورمیراںکے منصوبہ جات پر کام جاری ہے۔علاوہ ازیں8میگاواٹ کے 2منصوبہ جات بڈدرہ اور ریالی پر بھی کام کا آغاز آئندہ مالی سال میںکیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گرڈ اسٹیشنز سما ہنی اور سہنسہ کے منصوبہ جات پر کام جاری ہے جبکہ پٹہکہ مظفرآباد، جبی بھمبر اور کہوٹہ حویلی گرڈ اسٹیشنزکے منصوبہ جات پر بھی کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔آئندہ مالی سال کے دوران700ایچ ٹی،577ایل ٹی پولز بمعہ118کلومیٹر لائن اور68ٹرانسفامرز کی تنصیب کاہدف مقرر کرتے ہوئے 30ہزار نئے کنکشنز فراہم کیئے جائیں گے۔ آزاد کشمیر کے ہائیر سیکنڈری سکولز اور ہائی و مڈل سکولز کی عمارات کی تعمیر، اضافی مکانیت اور سہولیات کی بہتر فراہمی کیلئے دوسرے فیز کا آغاز کیا جائے گا۔ آزاد کشمیر میںکالجز کی نئی عمارات کی تعمیرکے منصوبہ جات کے ساتھ ساتھ 159کالجز میں فرنیچر اور سائنس لیب کے سامان کی فراہمی کیلئے منصوبہ جات شامل کئے جانے کی تجویز ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس کی تحقیقاتی استعداد کار بڑھانے کیلئے خدمت مراکز اور سیف سٹی کے منصوبہ جات زیر کار ہیںنیز آزاد کشمیر کی جیل ہا میںموبائل جیمرز اور سی سی ٹی وی کیمرہ کی تنصیب کے منصوبے کا آغاز کئے جانے کی تجویز ہے ۔آئندہ مالی سال میں ضلع حویلی میں جوڈیشل کمپلیکس اور پلندری میں وکلاء کے چیمبرکی تعمیر کے منصوبہ جات تجویز کیئے گئے ہیں۔عوام کو معیاری خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ڈویژنل سطح پر فوڈٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی گئی ہیںجو کہ فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔مزید براںمحکمہ خوراک کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک منصوبہ "Digitalization of Food Department”سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیے جانے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے مختلف ضلعی و تحصیل ہسپتالوں میں ایمرجنسی ادویات کی خرید کیلئے40کروڑ روپے مختص کئے جانے کی بھی تجویز ہے۔ آزاد کشمیر میںرواں مالی سال میںاخوت اسلامک مائیکروفنانس کے اشتراک سے 8ہزار سے زائد افرادجبکہ وزیر اعظم یوتھ لون پروگرام کے تحت 538نوجوانوں کو بلا سود قرضہ جات فراہم کئے گئے ہیں ۔ آئندہ مالی سال 2026-27کے دوران وزیر اعظم یوتھ لون پروگرام کے تحت 2267ہنر مند افراد کو اور اخوت اسلامک مائیکروفنانس کے تحت 30ہزار افراد کو بلا سود قرضہ جات فراہم کئے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27میں دریائے نیلم و جہلم اورملحقہ نالہ جات میں موجود قیمتی دھاتی معدنیات کا تخمینہ لگانے کے لئے منصوبہ شامل کئے جانے کی تجویز ہے۔آئندہ مالی سال کے دوران نظامت اعلیٰ اطلاعات اور پریس کلبز کی اراضی اور انفرا سٹرکچر کے تحفظ و بہترگی کے منصوبہ جات شامل کئے جانے کی تجویز ہے ۔آئندہ مالی سال کے دوران عوام کو سہولت فراہم کرنے اور ریاستی آمد ن میں خاطر خواہ اضافہ کے لئے E-Stampingکے نظام کو متعارف کروائے جانے کی تجویز ہے ۔ آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں آئی ٹی ایکسیلنس مراکز قائم کئے جا رہے ہیں تاکہ بے روزگار نوجوانوں کوتربیتی سہولیات فراہم کی جاسکیں جس سے خود روزگاری کے مواقع میسر آسکیں گے نیز آزاد کشمیر کی تحصیلوں میں لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن اور ٹیلی ہیلتھ مراکز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظفرآباد شہر میں سالڈویسٹ مینجمنٹ کے منصوبہ کے آغاز کے بعدآئندہ مالی سال میں کوٹلی شہر میںبھی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور سولر لائٹس کی تنصیب کے لیے منصوبہ شروع کیے جانے کی تجویز ہے ۔ مزید براں مظفرآبادشہر میںSlaughter House کی تعمیر کامنصوبہ بھی آئندہ مالی سال میں تجویز شدہ ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیئے مالی سال 2026-27ء میںشعبہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے تحت مختلف تحصیل ہا میں واٹر سپلائی سکیمزکی تعمیر کے علاوہ ضلعی واٹر سپلائی سکیمز کی بہترگی کے منصوبہ جات تجویز شدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال 2026-27 ء کے دوران آزاد جموں و کشمیر میں تحصیل کی سطح پر دفتری مکانیت کی تعمیر ، الیکشن کمیشن آفس ، KIM بلاک، محکمہ مالیات و ان لینڈ ریونیو کی عمارات کی تعمیرکے منصوبہ جات کے علاوہ سرکاری عمارات کی مرمتی و بہترگی کے منصوبہ جات تجویز کیے گئے ہیں نیز مظفرآباد میں ٹریفک کی روانی/ پارکنگ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے پارکنگ پلازہ کی تعمیر کا منصوبہ بھی تجویز کیا گیا ہے۔آزاد کشمیر کی جی ڈی پی(GDP) اور لینڈ یوز/ لینڈ کور کا اندازہ لگانے کے لیے آئندہ مالی سال2026-27 میں منصوبہ جات شروع کرنے کی تجویزہے جوکہ مستقبل کی پلاننگ میں معاون ثابت ہوں گے ۔مالی سال 2026-27 میںا سپیشل ایجوکیشن سنٹر باغ اور نیلم ، چائلڈ پروٹیکشن یونٹ میرپور اور کوٹلی ، اور خواتین پربڑھتے ہوئے تشدد کے تدارک کے لیے جینڈر فورمز کے قیام کے منصوبہ جات تجویز کیے گئے ہیں۔مالی سال 2026-27 میں علی خان چغتائی سپورٹس اسٹیڈیم ہٹیاں بالا، پوٹھہ بینسی میرپور اور ڈماس ضلع کوٹلی کی تعمیر اور خان اشرف خان اسپورٹس کمپلیکس راولاکوٹ میں کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنے کے منصوبہ جات تجویز کیے گئے ہیں۔آزاد کشمیر میں حادثات سے بچائو اور محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے تینوں ڈویژن ہا میں گاڑیوں کی جانچ پڑتال اور کمپیوٹرائزڈ فٹنس سر ٹیفکیٹ کی اجرائیگی کا نظام شروع کیا جا رہا ہے۔ آزاد کشمیر میں زرعی ترقی کو فروغ دینے کے لئے کسانوں کو اعلی معیار کے ایک لاکھ پھل دار پودہ جات فراہم کئے جائیں گے نیز کسانوںمیں نقد آور فصلات متعارف کروانے کے لئے ادرک ، ہلدی اور سویابین کے نمائشی پلاٹس لگائے جائیں گے۔علاوہ ازیں زراعت کو روایتی سے جدید سائنسی طرز پر ڈھالنے اور کسانوں کی آگاہی اور تکنیکی مددکے لئے ریاست میں پہلی بار زرعی ہیلپ لائن کے قیام کامنصوبہ بھی تجویز ہے۔ مزید برآں زیتون کے با غات اور شہد کی مکھیوں کی افزائش کا منصوبہ بھی تجویزشدہ ہے۔آزاد کشمیر میں 600اچھی نسل کی گائے کی خریدکے لئے کسانو ں کو فی کس 2لاکھ روپے کی گرانٹ فراہم کیے جانے کی تجویز ہے نیز نادار/بیوہ خواتین کے لئے 70ہزار مرغیاں دیئے جانے کی بھی تجویز ہے۔وزیر خزانہ نے بتایاکہ آئندہ مالی سال کے دوران آزاد کشمیر ٹیوٹا (TEVTA)کے زیر انتظام تقریبا14ہزار نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کی جائے گی۔ نیز لائن آف کنٹرول سے ملحقہ علاقوں کے ادارہ جات میں فنی تربیت کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔آئندہ مالی سال 2026-27 میںباقی اضلاع کی طرز پر ضلع نیلم میں بھی ریسکیو 1122سینٹرکا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ترقیاتی ادارہ جات مظفرآباد ، باغ ، راولاکوٹ ، کوٹلی او رمیرپور کی حدود میں سڑکوں ، پارکس کی تعمیر اور شہروں کی تزئین و آرائش کے منصوبہ جات پر کام کیا جا رہا ہے ۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں شعبہ رسل و رسائل کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ شعبہ رسل و رسائل میں محکمہ شاہرات کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام2025-26 میں نظر ثانی میزانیہ 15ارب روپے ہے جبکہ آئندہ مالی سال 2026-27ء میںشعبہ رسل و رسائل کیلئے14ارب روپے مختص کئے جانے کی تجویز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں سڑکیں شہری اور دور افتادہ دیہی علاقہ جات کے لیئے رسل و رسائل کا واحد ذریعہ ہیں ۔ معیاری سڑکوں کی فراہمی ، معیار زندگی میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔کسی ریاست میں سڑکوں کا مربوط نظام روزگار، جدید سفری سہولیات کی فراہمی، حادثات کی روک تھام اور کھیت سے منڈی تک زرعی و غذائی اجناس کی بروقت ترسیل کو یقینی بناتاہے۔ ریاست بھر میں یکساں طورپر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ سڑ کات کی تعمیر اور ٹریفک حجم کو مد نظر رکھتے ہوئے سڑکوں کا ڈیزائن اور مطابقاً تعمیرآزا د حکومت ریاست جموں و کشمیر کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان ترجیحات کے مطابق اہم سڑکوں کی تعمیر/ریکنڈ یشننگ اور کئی بڑی شاہرات کی اپ گریڈیشن کے علاوہ رابطہ سڑکوں اور پل ہا کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے۔رواں مالی سال میں103.6کلومیٹر سڑکوں کی تعمیرکا کام مکمل ہو نے جا رہاہے۔انہوں نے کہا کہ قابل ذکرمنصوبہ جات میں ضلع کوٹلی میںسرساوہ بلوچ روڈاورکوٹلی تتہ پانی روڈ تکمیل کے مراحل میں ہیں جبکہ دریائے پونچھ پر گل پورکے مقام پر نئے RCCپل کی سکیم منظور شدہ ہے۔ میرپور میںڈبل لین شاہرا ہ منگلا تا صاحب چک کی تعمیرکے علاوہ پپلی پل پر کام جاری ہے۔ضلع بھمبر میں جھنڈالا پیر گلی روڈپارٹ 1 و پارٹ2 کے علاوہ سہلر پل کے منصوبہ جات تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ اسی طرح ضلع سدھنوتی میں پلندری کلہ روڈ، منگ چھلاڑ روڈ اور بلوچ سرساوہ روڈ پر کام جاری ہے۔ضلع پونچھ میں چورا گلی و سون منجاڑی روڈ(پارٹ I وII ) پر کام جاری ہے جبکہ اپ گریڈیشن آف کھائی گلہ تولی پیر لسڈنہ روڈ کا کام اس سال مکمل کر لیا جائے گا ۔ضلع باغ میں بھونٹ چوک کوپرا ، چترا بڑی باڑی روڈ ، ویمن یونیورسٹی سدھن گلی روڈ پر کام جاری ہے۔ضلع حویلی میں کالا مولا روڈ تکمیل کے مراحل میں ہے جبکہ لسڈنہ شیرو ڈھارا و لسڈنہ محمود گلی پارٹ I ٹینڈرنگ کے مراحل میں ہیں۔ ضلع مظفرآباد میں رتی ڈھیری پل کے علاوہ چھتر کلاس ڈنہ روڈ و شہید گلی روڈ پر کام تیزی سے جاری ہے۔ضلع جہلم ویلی میں کومی کوٹ شکریاں روڈ کی تعمیراور لیپا کرناہ روڈ کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ مزید براںضلع نیلم میں اٹھمقام تا تائوبٹ روڈ پرمرحلہ وار کام جاری ہے۔ جبکہ کنڈل شاہی کٹن روڈ پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ علاوہ ازیں سڑکوں کی بحالی کے لیے ضروری مشینری کی خرید کا عمل جاری ہے جس سے دوران مون سون و برف باری سڑکوں کو ٹریفک کے لیے رواں رکھنے میں آسانی ہو گی۔انہوں نے کہا شعبہ رسل و رسائل میںموجودہ حکومت کی ترجیحات کے مطابق رواں مالی سال میںحلقہ جات کی ضرورت کے مد نظر 30کلومیڑ سڑکیں فی حلقہ کے منصوبہ جات منظور کیے گئے جن کے تحت نئی سڑکوں کی تعمیر کے علاوہ پرانی سڑکوں کی بہترگی و کشادگی کی سکیمیں بھی شامل ہیں ۔ ان کے علاوہ دیگر جاریہ رابطہ سڑکوں کے منصوبہ جات پربھی تیزی سے کام جاری ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا موجودہ حکومت کی ترجیحات اور عوامی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے آئندہ مالی سال 2026-27ء میں فی حلقہ10کلومیٹر رابطہ سڑکوں کی سکیم ہاء شامل کیے جانے کی تجویز ہے جن کا تخمینہ لاگت 7 ارب92کروڑ روپے ہے۔علاوہ ازیںرواں مالی سال کے دوران مرکزی شاہرات کی ریسرفسنگ کی سکیم ہاء(500کلومیٹر) کے خلاف حکومتی ترجیحات کے مطابق منظور شدہ منصوبہ جات پر عمل درآمد جاری ہے۔ جبکہ بقیہ کو نئے مالی سال میں شامل کیئے جانے کی تجویزہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران شعبہ رسل و رسائل میں مجموعی طور 103.6کلومیٹر سڑکوں کو پختہ کیا گیاہے۔ آئندہ مالی سال میں 671کلومیٹرسڑکوں کی تعمیر جبکہ 394.4 کلومیٹر سڑکوں کی ریکنڈیشنگ و اپ گریڈیشن عمل میں لائی جائے گی نیز 375.5میٹر سپین RCCپل اور97میٹربیلی پل ہا کی تعمیر کی جائے گی۔مزید براں نارتھ زون میں پلوں کی بحالی و مرمتی کا جاریہ منصوبہ مکمل کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں محکمہ زراعت ، امور حیوانات وآبپاشی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ مالی سال2025-26 کے نظرثانی ترقیاتی میزانیہ میںمحکمہ زراعت /امورِ حیوانات /آبپاشی / ESMA کے لئے 47کروڑ45لاکھ روپے مختص کئے گئے جب کہ آئندہ مالی سال 2026-27ء میں زراعت، لائیوسٹاک، آبپاشی اور اسما کے ترقیاتی میزانیہ میں90کروڑ روپے کی خطیر رقم تجویز کی گئی ہے ۔ شعبہ کراپس اینڈ ہارٹیکلچرکے لیے مالی سال2025-26 کے نظر ثانی ترقیاتی میزانیہ میںاس شعبہ میں 09کروڑ98لاکھ روپے کے اخراجات عمل میں لائے گئے جن سے زیتون کے 21ہزار سے زائد اعلیٰ اقسام کے پودہ جات باغات کی صورت میں لگائے گئے۔ برادر ملک چین کے تعاون سے بھمبر میں محکمانہ زرعی نرسریز میں جدید آبپاشی نظام کی تنصیب عمل میں لائی جاچکی ہے۔ ٹشو کلچر لیبارٹری کو جدید پیمانوں پر استوار کرنے کے بعد بہتر پیداوار ی اقسام کے بیجوں کی تیاری کی جائیگی ۔ ڈڈیال کے عوام اور سیاحوں کی تفریح کے لیے دھینگل ، ضلع میرپور میں پارک کا جاریہ تعمیراتی کام آئندہ مالی سال میں مکمل کر لیا جائیگا۔انہوںنے کہا آمدہ مالی سال2026-27میں حکومتی ترجیحات اور ریاستی و علاقائی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے 42کروڑ روپے مختص کئے جانے کی تجویز ہے جس سے شراکتی بنیادوں پر 01لاکھ پودہ جات باغات کی صورت میںلگائے جائیں گے۔ منافع بخش کاشت کاری کے فروغ کے لیے 200ایکڑسے زائد رقبہ پر ادرک، ہلدی اور سویابین کے نمائشی پلاٹس لگائے جائیں گے۔ مجوزہ نئے منصوبہ جات میں گندم کی اعلیٰ پیداوار ی اقسام کے فروغ، زیتون کے باغات کے قیام، مگس بانی کے ساتھ ساتھ تفریح گاہوں کی بہتری بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں زراعت کو روایتی سے جدید سائنسی طرز پر ڈھالنے اور کسانوں کی آگاہی اور تکنیکی مددکے لئے ریاست میں پہلی بار زرعی ہیلپ لائن کے قیام کامنصوبہ بھی تجویز ہے۔امورِ حیوانات کے لیے مالی سال 2025-26کے نظر ثانی ترقیاتی میزانیہ میںاس شعبہ میں25کروڑ40لاکھ روپے کے اخراجات عمل میں لائے گئے۔ 10کروڑ روپے کی سبسڈی پر مشتمل 02 ہزار اعلیٰ نسل کی گائے کی خرید کا منصو بہ کامیا بی سے مکمل کر لیاگیا۔ اس منصوبہ کے تحت فی کسان گائے کی خریداری کے لیے 50 ہزار روپے دئیے گئے۔ بھرپور عوامی ردِ عمل اور مطالبہ کے پیشِ نظر ایک الگ منصوبہ کے تحت یہ رقم 02لاکھ روپے تک بڑھا دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ آ ئندہ مالی سال 2026-27 میں شعبہ ہذا کے لیے20کروڑ روپے مختص کیئے جانے کی تجویز ہے جس کے خلاف نادار/بیوہ خواتین میں 70 ہزار مرغیوں کی تقسیم کے منصوبہ پر عمل درآمد جاری رہے گا ۔علاوہ ازیں مویشیوں کی اعلیٰ جینیاتی افزائش اور امورِ حیوانات کے تحقیقی مرکز کی بحالی کے نئے منصوبہ جات تجویز کئے گئے ہیں۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ محکمہ آبپاشی و سمال ڈیمز کے زیر انتظام رواں ما لی سال 2025-26 کے نظر ثانی ترقیاتی میزانیہ کے خلاف10کروڑ99لاکھ ر وپے سے زائد کے اخراجات عمل میں لائے گئے۔ اس رقم سے کھڑی ایریگیشن چینل کی بحالی، فزیبلٹی سٹڈی بھمبر ڈیم اور د فتری مکانیت کے منصوبہ جات پر کام جاری رہا۔ مزید برآں وفاقی حکومت کے زیر کار آبپاشی سہولیات کے پروگرام کے نامکمل اہداف کی تکمیل کے لئے منصوبہ بھی رواں مالی سال میں ترقیاتی پروگرام کا حصہ بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال 2026-27ء میں محکمہ آبپاشی کے ترقیاتی میزانیہ میں26کروڑ روپے کی رقم تجویز کی گئی ہے۔جس کے تحت زرعی اراضی کے تحفظ کے لیے فلڈ پروٹیکشن بند کی تعمیر اور بارانی پانی کو جمع کر کے آبپاشی کے استعمال نیز زرعی ضروریات کے لیے نالہ چھمبر سے پانی کی ترسیل کے منصوبہ جات شامل کیئے جانے کی تجویز ہے ۔انہوںنے کہا کہ ایکسٹینشن سروسز مینجمنٹ اکیڈمی (اسما) گڑھی دوپٹہ میں طلبا و طالبات کے تدریسی و تربیتی عمل کو بہتر بنانے کے لئے رواں مالی سال کے نظر ثانی ترقیاتی میزانیہ کے خلاف 01کروڑ07لاکھ روپے سے زائد کے اخراجات عمل میں لائے گئے ۔ آئندہ مالی سال میں اس ادارہ کے لیئے02کروڑ روپے مختص کیئے جانے کی تجویز ہے جس سے ESMAکو جدید خطوط پر استوار کرنے کا منصوبہ تجویزکیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں آزاد جموں وکشمیر ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹرنینگ اتھارٹی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ا ٓزاد جموں وکشمیر ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹرنینگ اتھارٹی کو مالی سال 2025-26ء امیں 17کروڑ 50لاکھ روپے مختص کیے گئے جن کی مد د سے 2 جاریہ منصوبہ جات مکمل کیے جا رہے ہیں۔جبکہ آزادکشمیر میں لائن آف کنٹرول سے ملحقہ علاقوں میںقائم 10 فنی تربیتی اداروں پر کام جاری رہے گا۔ مالی سال 2026-27ء میں 14کروڑ روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے ۔ عصر حاضر میں فنی تربیت کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے نوجوان نسل کو بہتر روزگار/کاروبار کے مواقع فراہم کرنے اور فنی تعلیم کے حصول کیلئے مختلف ٹریننگ سنٹرز میں جدید مشینری اور آلات مہیا کیے جانے ، کوٹلی میں ہولاڑ کے مقام پرفنی تربیتی ادارے کے قیام ، محکمہ کی استعداد کار میں اضافہ ، جدید فنون میں تربیت فراہم کرنے اور موجودہ لیبارٹریز میں فنی آلات کی فراہمی کے نئے منصوبہ جات تجویز کیے جارہے ہیں۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہشعبہ شہری دفاع و ڈیزاسٹرمینجمنٹ کے لیے مالی سال 2025-26 ء کے نظرثانی شدہ میزانیہ میں01 ارب11کروڑ 93 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جن سے مظفرآباد، میرپور ،راولاکوٹ اور کوٹلی میں واٹر ریسکیو سروسز کے قیام کے منصوبہ کو کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے۔ واٹر ریسکیو سروسز سنٹر کے اجراء سے ان اضلاع میں جہاں واٹر باڈیزکی موجودگی کے باعث جانی و مالی نقصانات کا احتمال ہے ، سے بچنے میں مدد مل رہی ہے۔آئندہ مالی سال 2026-27ء میںاس سیکٹرکے لیے10 کروڑ روپے کی رقم مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔ تجویز کردہ رقم سے ضلع نیلم میں ریسکیو1122سنٹر کا قیام عمل میں لایا جائے گا علاوہ ازیں آزاد کشمیر بھر میں ایمرجنسی آپریشن سنٹرز کی بحالی کے منصوبہ پر بھی عمل درآمد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2005ء کے زلزلہ سے متاثرہ 65سکولوں کی تعمیر نو کیلئے حکومت پاکستان نے رواں مالی سال میں ایک ارب روپے کی خطیر رقم فراہم کی ہے جس سے ان ادارہ جات کی تعمیر نو کی تکمیل کی جائیگی۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایارواں مالی سال میں 05 ترقیاتی ادارہ جات کے لیے نظر ثانی میزانیہ میں 26 کروڑ 56 لاکھ روپے کے اخراجات عمل میں لائے گئے۔ آئندہ مالی سال2026-27میںترقیاتی ادارہ جات کے07جاریہ منصوبہ جات کے علاوہ حکومتی ترجیحات اور عوامی ضروریات کے مطابق 08نئے منصوبہ جات پر عملدرآمد کے لیئے19کروڑ روپے مختص کیئے جانے کی تجویز ہے۔ جن کے ذریعے پانچوں ترقیاتی ادارہ جات مظفرآباد ، باغ، راولاکوٹ، کوٹلی اور میرپورکی حدود میں سڑکوں کی تعمیر، ادائیگی معاوضہ اراضی ، شہروں کی تزین و آرائش کا کام کیئے جانے کی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں تعلیم کے شعبہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ایلیمنٹری وسیکنڈری ایجوکیشن کے لیے نظرثانی سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26ء میں اس شعبہ کیلئے 38کروڑ91لاکھ ر وپے مہیا کیے گئے جس سے 20 پرائمری اور30مڈل سکول ہا کی عمارات اور06سکول ہاکے ہمراہ واشرومز کی تعمیر مکمل کی گئی ، جبکہ ضلعی بنیادوں پر منظور شدہ دس نئے منصوبہ جات کے تحت 429 تعلیمی ادارہ جات کے ہمراہ نئی عمارات کی تعمیر، تزئین و آرائش، چار دیواری، صاف پانی وغیرہ کی فراہمی کا کام شروع کر دیاگیاہے۔ علاوہ از یں 300مڈل سکول ہا میں جدید طرزِ تدریس سے آراستہ کلاس رومزکے قیام پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال 2026-27میںشعبہ ہذا کے لیے 01 ارب 98کروڑ روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے جس میں 50کروڑ روپے کی بیرونی امداد بھی شامل ہے ۔ حکومتی ترجیحات اور عوامی ضروریات و فلاح و بہبود کے لیے آزادکشمیر کے تما م اضلاع میں تعلیمی ادارہ جات کی بہتری کے دوسرے فیزز کو شامل کرنے کی تجویز ہے۔ مزید برآں اسلامی ترقیاتی بنک کے مالی تعاون سے آئوٹ آف سکول چلڈرن کیلئے منظور کردہ منصوبہ کے تحت زیورِ تعلیم سے محروم 60ہزار بچوں کی خواندگی کے لئے 135 پرائمری سکولوں کی تعمیر اور اساتذہ کی تربیت پر کام کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ شعبہ ہائیر ایجوکیشن کے لیے نظر ثانی سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26کے تحت شعبہ ھذا کے لئے01 ارب 05کروڑ 25لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔ اس رقم سے آزاد کشمیر کے 06انٹر،06ڈگری اور 02پوسٹ گریجویٹ کالجز کے ہمراہ نئی عمارات اور 44کالجز کے ہمراہ ٹائلٹ بلاکس کی تعمیر کا کام جاری ہے ۔جبکہ کالج ٹیچرز کی استعدادِ کار بڑھانے کے لئے کالج ٹیچر زٹریننگ انسٹیٹیوٹ کا قیام عمل میں لایاجا چکا ہے۔ آزا د کشمیر کے طلباء و طالبات کو سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے کالجز و یونیورسٹیز کو نئی بسوں کی فراہمی کے چوتھے فیز پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026-27میں ہائر ایجوکیشن کے لیے 1 0 ارب 32کروڑ روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز ہے۔ اس رقم سے بوائز انٹر کالج نگدر ضلع نیلم اور بوائز انٹر کالج گوئی ضلع کوٹلی کے منظور کردہ منصوبہ جات پر کام کا آغاز کیا جائے گا جبکہ بقیہ آٹھ اضلاع میں نئے کالجز کی تعمیر کے ساتھ ساتھ طلبا کی تعداد اور محکمانہ ضرورت کے پیشِ نظر گورنمنٹ ماڈل ڈگری کالج منڈھول اور گورنمنٹ ماڈل سائنس کالج باغ کی عمارات کی تعمیر کے نئے منصوبہ جات بھی تجویزکئے گئے ہیں۔ 159کالجز میں فرنیچر اور 59 کالجز میں سامان سائنس لیبارٹریز کی فراہمی کو نئے منظور شدہ منصوبہ کے تحت یقینی بنایا جائے گا۔ کیڈٹ کالج مظفرآباد میں اضافی رہائشی و تعلیمی سہولیات کی فراہمی، یونیورسٹی برائے خواتین باغ ، نیلم کیمپس AJKیونیورسٹی کے ہمراہ چار دیواری کی تعمیر اور حویلی یونیورسٹی کہوٹہ کے لیے ایڈمن بلاک کی تعمیر عمل میں لائی جا رہی ہے جبکہ کوٹلی یونیورسٹی کی چاردیواری کی نئی ترقیاتی سکیم تجویز کی گئی ہے۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے توانائی و آبی وسائل سیکٹر کے شعبہ برقیات کے بارہ میں بتایا کہ رواںمالی سال2025-26ء کے نظرثانی ترقیاتی میزانیہ میں محکمہ برقیات کے منصوبہ جات کے لیے کل 01ارب 42کروڑ60لاکھ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔ مختص شد ہ رقم کے خلاف مجموعی طور پر2261 ا یچ۔ٹی ‘ ایل۔ٹی پولز، 70 کلومیٹر HT/LT لائنز اور 40 ٹرانسفارمرز کی تنصیب کی گئی ہے علاوہ ازیں 2 گرڈا سٹیشنز سماہنی ضلع بھمبر و سہنسہ ضلع کوٹلی میں سول ورکس کا کام تکمیل کے مراحل میں ہے جبکہ ان گرڈ اسٹیشنز کے الیکٹریکل میٹر یل کی خرید بھی عمل میں لائی گئی ہے۔ اس طرح 22ہزارسے زائد بجلی کے کنکشن کی فراہمی کے اہداف حاصل کئے جاچکے ہیں جس سے آزاد کشمیر میں تقریبا1لاکھ 5ہزارکی آبادی بجلی کی بہتر فراہمی سے مستفید ہوئی ہے۔ اب تک آزاد کشمیر بھر میں مجموعی طور پر تقریبا 96.50 فیصد صارفین کو بجلی کے کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ مالی سال2026-27ء کے ترقیاتی میزانیہ میں محکمہ برقیات کے لیے 01ارب 30کروڑروپے کے فنڈز مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔آئیندہ مالی سال کے دوران جاریہ منصوبہ جات پر عملدرآمد سے700 ایچ۔ٹی پولز اور 577 ایل ٹی پولز، 60کلومیٹرHT ، 58 کلومیڑ LT لائنز اور68 ٹرانسفارمرزکی تنصیب عمل میں لائی جائے گی اور30 ہزار نئے کنکشن فراہم کیے جائیں گے نیز سہنسہ اور سما ہنی گرڈا سٹیشنز کے پاور ٹرانسفارمر و بقیہ الیکٹریکل میٹر یل کی خرید کی جائے گی جبکہ پٹہکہ، جبی اور کہوٹہ گرڈ اسٹیشن کے سول ورکس کا آغاز کیا جائے گا جس سے آزاد کشمیر کی مزید 01 لاکھ 14ہزار آبادی بجلی کی بہتر فراہمی سے مستفید ہو سکے گی ۔علاوہ ازیں آئندہ مالی سال میں نئے گرڈا سٹیشن چڑھوئی ضلع کوٹلی ، ارجہ ضلع باغ ، تتہ پانی ضلع کوٹلی اور باغ کہوٹہ ٹرانسمیشن لائن کی فیزیبلٹی سٹڈی کی تجویز ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ محکمہ برقیات کو جدید خطوط پر چلانے، سروس ڈیلیوری میں بہتری اور برقیاتی نظام میں پائیداری لانے کیلئے مالی سال 2026-27ء میں مربوط ، موثر اور جامع پالیسی کے تحت ایسے منصوبہ جات شامل کئے جانے کی تجویز ہے جن کے تحت آزاد کشمیر بھر میں نئے گرڈ اسٹیشنز کی تعمیرکے لئے فزیبلٹی سٹڈیز ، پرانے ٹرا نسفارمرز کی تبدیلی اور اوور لوڈ ٹرانسفارمر ز کا لوڈ تقسیم کئے جانے کے لئے نئے ٹرانسفارمرز کی تنصیب کی جانی ہے ۔
شعبہ پاورڈویلپمنٹ آرگنائزیشنکی تفصیل بتاتے ہوئے انہوںنے کہا کہ پن بجلی کے قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے کیلئے حکومت آزاد کشمیر کی خصوصی کاوشوں کے نتیجہ میں آزاد کشمیر میں آبی وسائل کے ذریعے تقریباً 9397 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے 102 منصوبہ جات کی نشاندہی ہوچکی ہے۔ آزاد کشمیر میں پاور ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام 26 پن بجلی گھروں سے87 میگاواٹ بجلی پیداہورہی ہے۔ جبکہ واپڈا کے زیر نگرانی 02 بجلی گھروں سے 2069 میگاواٹ اور پرائیویٹ سیکٹرز میں قائم بجلی گھروں سے 1055 میگاواٹ بجلی کی پیدا وار ہورہی ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ روا ں مالی سال 2025-26 کے میزانیہ میں اس سیکٹر کے لئے مجموعی طور پر01 ارب 08کروڑ 61 لاکھ روپے کے اخراجات عمل میں لائے گئے ۔مختص شدہ رقم سے 500 کلوواٹ پٹھیالی اور 500 کلوواٹ ہڑیالہ کے سول ورکس کا 100 فیصد کام مکمل کیا جاچکا ہے اور 3 میگاواٹ پھلاوئی ، 2.71 میگاواٹ خورشیدآباداور 1.95 میگاواٹ نوشہرہ کے منصوبہ جات پر تعمیراتی کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔مزید براں دو بڑے منصوبہ جات 48 میگاواٹ شونٹراور 22 میگاواٹ جاگراں – IV پربرادراسلامی ملک سعودی عرب کے تعاون سے کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال 2026-27 میں حکومتی ترجیحات اور عوامی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے ترقیاتی میزانیہ میں پاورڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے نئے و جاریہ منصوبہ جات کے لئے02 ارب مختص کیے جانے کی تجویز ہے جس میں 50 کروڑ روپے کی بیرونی امداد بھی شامل ہے۔مختص شدہ رقم سے جاریہ منصوبہ جات پر ترجیح بنیادوں پر کام کیے جانے کی تجویز ہے جن میں 79 میگاواٹ کے 10 منصوبہ جات شامل ہیں۔ علاوہ ازیں مالی سال 2026-27 میں 8 میگاواٹ پن بجلی کے دو منصوبہ جات 4.96 میگاواٹ بڈدرہ اور 3.3 میگاواٹ ریالی پر CDWP حکومت پاکستان کی منظوری کے بعد تعمیرکا آغاز کیا جائے گا۔ متذکرہ بالا منصوبہ جات کے مکمل ہونے سے ریاستی آمدن میں قابل ذکر اضافہ کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں لوڈشیڈنگ کا بھی خاتمہ بھی ممکن ہو سکے گا۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے پیش نظرقدرتی ماحول کا بچائو بین الاقوامی سطح پر اولین ترجیح اختیار کرچکا ہے ۔ پاکستان بشمول آزادکشمیران ماحولیاتی و موسمیاتی مضر اثرات سے متاثر ہونے والے سر فہرست دس غیر محفوظ ممالک میں شامل ہے۔یہی وجہ ہے کہ آزاد جموں وکشمیر کی حکومت کی ترجیحات میں قدرتی ماحول کا بچائو اولین ترجیح رکھتا ہے ۔ آزادکشمیر کے خوبصورت قدرتی ماحول کے بچائو کے لیئے حکومت ہر ممکن وسائل فراہم کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے نظرثانی شدہ ترقیاتی میزانیہ میںماحولیات سیکٹر کیلئے04 کروڑ 30 لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے۔ یہ رقم محکمہ کی استعداد کار کو بڑھانے، ماحولیاتی مانیٹر نگ نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ماحولیاتی آلودگی اور کلائیمیٹ چینج کے حوالہ سے آگاہی اور تربیت سے متعلق اقدامات پر خرچ کی گئی ہے۔ جبکہ آئندہ مالی سال 2026-27کے سالانہ ترقیاتی میزانیہ میںشعبہ ہذا کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیئے جانے کی تجویز ہے۔ جس کے تحت آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں پینے کے پانی ، ندی نالوں ، ہوائی آلودگی اور گاڑیوں سے نکلنے والی گیسوں اور دھوئیں سے ماحول پر پڑنے والے اثرات کی جانچ پڑتال ، مانیٹرنگ ولیگل سپورٹ اور ماحولیاتی بیس لائن سٹڈیزو آگاہی کے منصوبہ جات پر کام شروع کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایاجنگلات / واٹر شیڈ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام2025-26 کے نظر ثانی ترقیاتی میزانیہ میں جنگلات سیکٹر کیلئے 63کروڑ20لاکھ روپے سے زائد فنڈز فراہم کیے گئے ہیں ۔ جس کے تحت ترقیاتی میزانیہ کے خلاف تعینات آفیسران /اہلکاران کو تنخواہوں کی ادائیگی کے علاوہ سابقہ قائم شدہ کلوژرزکے تحفظ پر مامور 878 بیلداران کو بالمقطع ماہوار تنخواہ کی ادائیگی کی جارہی ہے۔ آزاد کشمیر بھرکے جنگلات میں آگ کی روک تھام کے لیے جاریہ منصوبہ کے تحت 90کلو میٹر فائر بریک لائنز قائم کی جا رہی ہیں جبکہ 400 کلو میٹر سڑکوں سے آتش گیرموادکی صفائی کا کام بھی جاری ہے۔مزید براں آتش زدگی کی صورت میں قیمتی انسانی جانوں کو آگ سے بچانے کے لیے فائر فائیٹر لباس کے ساتھ ساتھ فائر فائٹنگ آلات خرید کرنے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال 2026-27 میںجنگلات / واٹر شیڈ سیکٹر کے لیے 60کروڑ روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔جس میں سے 44کروڑ روپے7 عدد جاریہ منصوبہ جات پر خرچ کیے جانے کی تجویز ہے جبکہ16کروڑروپے نئے منصوبہ جات کے لیے تجویز کئے گئے ہیں۔جاریہ منصوبہ جات کے خلافUp-Scaling Green Pakistan Program (UGPP) پر عملدرآمد کرنے والے عملہ کو تنخواہوںکی ادائیگی اور سابقہ کلوژرز/ شجرکاری کردہ رقبہ جات کی حفاظت پر مامور بیلداران کو تنخواہ کی ادائیگی کے علاوہ 500 ایکڑ رقبہ پر چراگاہوں کی ترقی کے اقدامات کئے جائیں گے اور بنک روڈ مظفرآباد اور بھمبر کے مقامات پر فارسٹری کمپلیکس کی تعمیرکے علاوہ جنگلات کو آگ سے بچائو کے لیے ضروری اقدامات بھی اٹھائے جائیں گئے ۔ علاوہ ازیں آزادکشمیربھر میں رقبہ جنگلات کے تحفظ کے لئے رقبہ جنگلات ومال کی حدود پر3000سے زائد برجیات نصب کروائی جائیں گئی۔موسمیاتی تغیرات کے خلاف ابتدائی طور پر آزادکشمیر کے 9 اضلاع کی 13 یونین کونسلز میں WFP کے اشتراک سے مختلف ترقیاتی امور سر انجام دئیے جائیں گئے۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایاکہ گورننس سیکٹر میں شامل قانون و انصاف ، جیل خانہ جات / پولیس اور تحفظ خوراک کے جاریہ منصوبہ جات کی بروقت تکمیل حکومتی ترجیحات میںشامل ہے تا کہ عوام تک گڈ گورننس کے اثرات کو بروقت اور پُر اثر طریقے سے پہنچایا جا سکے۔ اس سیکٹر میں مالی سال 2025-26؁ء میں 18 جاریہ منصوبہ جات کے لیے نظر ثانی میزانیہ میں 85کروڑ 66 لاکھ روپے سے زائد کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔جن میں سے06 منصوبہ جات رواں مالی سال کے دوران مکمل کیے جا رہے ہیںجبکہ بقیہ جاریہ 12منصوبہ جات کے لیے آئندہ مالی سال 2026-27 ؁ء میں 01 ارب 19 کروڑ 20 لاکھ روپے مختص کیے جانے کی تجویزہے جبکہ 07 نئے منصوبہ جات کے لیے 15کروڑ80 لاکھ روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔ جن میں تعمیر جوڈیشل کمپلکس حویلی، سنٹرل پولیس آفس کی نئی عمارت کی تعمیر، تعمیر پریڈ گرائونڈ و بیرکس ہا پولیس لائن مظفرآباد اور مختلف جیل ہا میں موبائل جیمرز اورCCTVکیمرہ جات کی تنصیب کے منصوبہ جات شامل ہیں۔ مجموعی طور پر اس سیکٹر کو اگلے مالی سال 2026-27؁ء میں01 ارب35 کروڑ روپے دئیے جانے کی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے خوارک کے بارہ میں اپنی بجٹ تقریر میں بتایاکہ عوام کو معیاری اور ملاوٹ سے پاک غذائی اجناس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے محکمہ خوراک نے آزاد جموں و کشمیر کے 3 ڈویژنل ہیڈ کوارٹرزمیں موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کیں جو کہ فعال ہو چکی ہیں۔ رواں مالی سال کے نظر ثانی ترقیاتی میزانیہ کے تحت 01کروڑ 50لاکھ روپے کے اخراجات عمل میں لائے گئے۔ مزید برآں ایک ترقیاتی سکیم مالیتی 41کروڑ19لاکھ روپے کے تحت اسلام آباد میں گندم ذخیرہ کرنے کی گنجائش کو مزید بہتر بنانے کے لیے گودام کی تعمیر عمل میں لائی جائیگی جس کے لیے آئندہ مالی سال میں 15کروڑ روپے مختص کیئے گئے ہیں۔علاوہ ازیں آئندہ مالی سال2026-27 میںمحکمہ خوراک کے لیے30 کروڑ روپے کی رقم مختص کرتے ہوئے محکمہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک منصوبہ "Digitalization of Food Department”سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہمحکمہ صحت عامہ کے لئے رواں مالی سال کے نظر ثانی میزانیہ میں مبلغ2 0ارب 22کروڑ 89 لاکھ روپے مختص کیے گئے جبکہ آئیندہ مالی سال 2026-27 کے لئے مبلغ04ارب 10کروڑ روپے مختص کئے جانے کی تجویز ہے ۔رواں مالی سال کے دوران موجودہ حکومت نے ضلعی ہسپتالوں میںچوبیس (24)گھنٹے مفت ایمر جنسی ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا۔اس سہولت سے ہر سال تقریباً 10لاکھ مریض مستفید ہو رہے ہیں۔ اس پروگرام کو آئندہ مالی سال2026-27 کے دوران بھی جاری رکھے جانے کی تجویز ہے۔اس کے علاوہ تعمیر رورل ہیلتھ سنٹر بیٹھک اعوان آباد، قیام 200بستر جنرل ہسپتال ) بشمول ایم سی ایچ اینڈ آئی Phase-II ) راولاکوٹ، فراہمی طبی سازوسامان برائے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال منگ ،میٹرنل نیو بورن اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر (MNCH) پروگرام، خرید اراضی و تعمیر بائونڈری وال ہمراہ ضلعی ہسپتال بھمبر اورمرمت تزئین و آرائش اولڈ سرجیکل بلاک ایمز مظفرآباد کے منصوبہ جات کو رواں مالی سال 2025-26میں مکمل کر لیا گیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران 10 بستر رورل ہیلتھ سینٹرحاجی صحبت علی ضلع سدھنوتی ،اپگریڈیشن 250 بستر ضلعی ہسپتال میرپوربطور 500 بستر ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال میرپور،قیام تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال چکار، تعمیر ڈاکٹر ونرسز ہاسٹل و بائونڈری وال ہمراہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال حویلی، تعمیر بائونڈری وال و خرید اراضی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ممتاز آباد ضلع حویلی، خرید اراضی کڈنی ٹرانسپلانٹ سنٹر و BHU میانی بانڈی مظفرآباد، CMH مظفرآباد کی مرمت ، تزئین و آرائش ، فراہمی طبی آلات کارڈیک سرجری ہسپتال مظفرآباد اور آزاد کشمیر کے ضلعی ہسپتالوں/ سی ایم ایچ ہا میں میڈیکل و ایمرجنسی آلات کی فراہمی کے منصوبہ جات پر عمل درآمد جاری رہے گا۔مزید برآں تعمیر رورل ہیلتھ سینٹربیرپانی ضلع باغ، 150بستر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال پلندری، تعمیر 30 بستروارڈہمراہ20 بسترتحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال پٹہکہ ضلع مظفرآباد اور فراہمی طبی سازو سامان برائے ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال میرپورکے منصوبہ جات کو بھی آئندہ مالی سال 2026-27میں مکمل کرلیاجائے گا۔علاوہ ازیں آزاد کشمیر کے تحصیل ہسپتالو ں میں آپریشن تھیٹرز اور نرسری یونٹس کے قیام اورتعمیر او پی ڈی بلاک و انفراسٹرکچر عباس انسٹیٹیو ٹ آف میڈیکل سائنسز مظفرآباد کے منصوبہ جات پر عملدرآمد جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال 2026-27کے دوران محکمہ صحت عامہ کے لئے مبلغ 04ارب10 کروڑ روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے ۔ عوام کی صحت اور علاج معالجہ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے ترقیاتی منصوبہ جات کے لئے مبلغ 81کروڑ 80لاکھ روپے مختص کئے جانے کی تجویز ہے ۔نئے مجوزہ منصوبہ جات میںتعمیر/توسیع 200 بستروارڈ ہمراہ ضلعی ہسپتال کوٹلی، کشمیر انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی میرپور کی بہترگی، 200 بستر جنرل ہسپتال(MCH and Eye) ضلع پونچھ کی بقیہ تعمیراتی کام کی تکمیل ، تعمیرTHQ ہسپتال ممتاز آباد وغیرہ شامل ہیں۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ شعبہ صنعت وتجارت کو مالی سال2025-26ء کے نظرثانی ترقیاتی میزانیہ میں16کروڑ71لاکھ روپے فراہم کیے گئے جسکے تحت صنعت کاری کے فروغ،محکمہ صنعت کی صلاحیت میں اضافہ کے منصوبہ جات کے علاوہ آزاد کشمیر میں اخوت مائیکروفنانس کے اشتراک سے 8105 افراد کو بلاسود قرضہ جات کی فراہمی اور وزیر اعظم یوتھ لون پروگرام کے تحت آزادکشمیر میں 538 ہنر مند افراد کو 05لاکھ سے 20 لاکھ روپے تک کے بِلاسود قرضہ جات فراہم کیے گئے۔اِس کے علاوہ جاریہ منصوبہ جات ضلع نیلم میں روبی کی تلاش و تحقیق، عوامی شعبہ میں سرمایہ کاری کیلئے 6جہتی پتھر کے معدنی ذخائر کی فزیبلٹی سٹڈی،معدنی ذخائر کی تلاش و تحقیق کے آلات کی فراہمی کے منصوبہ جات مکمل کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں شعبہ صنعت وحرفت کے تحت ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے آمدہ مالی سال 2026-27ء کے بجٹ میں اِس سیکٹر کے لیے47کروڑ روپے مختص کیئے جانے کی تجویز ہے۔اِس رقم سے آزادکشمیر میں گھر یلو اور کمرشل سلنڈر اور سونے کے خالص پن کو یقینی بنانے والے منصوبہ جات شامل ہیں ۔آزاد کشمیر میں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے وزیر اعظم یوتھ لون پروگرام اور اخوت مائیکروفنانس کے اشتراک سے دیے جانے والے بِلاسود قرضہ جات کی سکیمیں بھی مالی سال 2026-27ء میں جاری رہیں گی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اِسکے علاوہ آزاد کشمیر میں کمپنی ، فرم کی رجسٹریشن اور صنعتی پلاٹس کی الاٹمنٹ کے عمل کو آن لائن کرنے، مقامی صنعتوں کے فروغ اور آزادکشمیر میں دریائے نیلم و جہلم اور ان سے ملحقہ نالہ جات سے برآمد ہو سکنے والی قیمتی دھاتی معدنیات کا تخمینہ لگانے والے نئے منصوبہ جات بھی تجویز کیے جا رہے ہیں۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ محکمہ تعلقات عامہ آزاد کشمیر کے اندر تعمیر و ترقی ، گڈگورننس اور انصاف کی فراہمی کیلئے کی جانے والی کوششوںکو پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر بھرپور انداز میں اجاگر کر رہا ہے – محکمہ تعلقات عامہ نے اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے ان مقاصد کے حصول کیلئے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں بالخصوص ڈیجیٹل میڈیا کے رولز اور پالیسی بنا کر پاکستان بھر میں دیگر صوبوں پر برتری حاصل کی – مالی سال2025-26 ء میں محکمہ تعلقات عامہ کو07کروڑ 19 لاکھ روپے فراہم کیئے گئے جبکہ مالی سال 2026-27 ء میں 09کروڑ روپے فراہم کیئے جانے کی تجویز ہے۔انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال میں 02 نئی ترقیاتی سکیم ہا کے تحت آزادکشمیر میںڈی جی پی آر کے ضلعی دفاتر اور زیریں دفاتر کوجدید میڈیا ٹیکنالوجی کے ذریعے اپڈیٹ کیا جائے گا۔علاوہ ازیں ڈی جی پی آر اور پریس کلبز کی اراضی و انفراسٹرکچر کے تحفظ و بہتری کے منصوبہ کا آغاز کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایاکہ حکومت آزاد کشمیردور حاضر میں سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ جات میں جدت اور فروغ پر توجہ مرکوز کیئے ہوئے ہے۔رواں مالی سال 2025-26ء میں اس سیکٹرکو34کروڑ45لاکھ روپے فراہم کیئے گئے جس کے تحت آزادکشمیرمیں مختلف محکمہ جات جن میں بورڈ آف ریونیو کے لینڈ ریکارڈ ، زیریں عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی خود کاری کے علاوہ ڈومیسائل و ریاستی باشندہ سر ٹیفکیٹ کی آٹومیشن اور سیکرٹریٹ کے تمام دفاتر میں E-Office و بائیو میٹرک حاضری کے منصوبہ جات اور ریاست کے تمام اضلاع میںآئی ٹی ایکسیلینس سنٹرزکے قیام کے منصوبہ جات پر بھی عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27ء کے سالانہ ترقیاتی میزانیہ میں شعبہ ہذا کے لیے55 کروڑ روپے کی رقم مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔رواں مالی سال میں 02 نئی ترقیاتی سکیم ہا کے تحت آزادکشمیر میں E-Stamping کے طریقہ کار کو متعارف کروایا جائے گا اور ٹیلی ہیلتھ کے تحت تمام اضلاع میںسنٹرز قائم کئے جائیں گئے تاکہ عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات انکی دہلیز پر حاصل ہوسکیں۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں لینڈ ایڈمنسٹریشن اینڈ مینجمنٹ کے حوالہ سے بتایا کہمالی سال 2025-26ء میں سب سیکٹر بحالیات کے لیے نظر ثانی شدہ میزانیہ میں 12کروڑ 95 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کیے گئے ۔ جس کے تحت ’’ خرید اراضی برائے موجودہ مہاجرکیمپ ہا برائے مہاجرین1989ء ومابعد ‘‘ کو مکمل کر لیا گیا ہے۔ لینڈایڈمنسٹریشن اینڈ مینجمنٹ کے ذیلی سب سیکٹرز بحالیات اور لینڈ ایڈمنسٹریشن اینڈ مینجمنٹ کے لیے اگلے مالی سال 2026-27 ء میں 09کروڑروپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے ۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہمحکمہ لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی آزادکشمیر کے دیہی علاقوں میں مجموعی طو رپر 83 فیصدآبادی کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ذریعہ لوگوںکے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مصروف عمل ہے ۔محکمہ لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کے تحت روبہ عمل منصوبہ جات میں کچی و پختہ دیہی رابطہ سڑکیں ، معلق پُل ہا ،پینے کے صاف پانی کی فراہمی، صحت و صفائی کے منصوبہ جات ، پرائمری سکولز و صحت کے مراکز کی عمارات ،کھیلوں کے میدان ، ماڈل قبرستان و جنازہ گاہوں کی تعمیر سمیت دیگر بنیادی ضروریات کے منصوبہ جات شامل ہیں۔موجودہ حکومتی پالیسی اورحکمت عملی کے مطابق منصوبہ جات کی نشاندہی سے تکمیل کے مراحل تک مقامی آبادی کی شرکت کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ نظرثانی ترقیاتی میزانیہ برائے مالی سال 2025-26ء میں محکمہ لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کے لیے04ارب87 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔جب کہ مالی سال2026-27ء میں جاریہ و نئے منصوبہ جات کے لیے03ارب20 کروڑ روپے کی رقم مختص کئے جانے کی تجویز ہے ۔آئندہ مالی سال کے دوران محکمہ لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کے ترقیاتی میزانیہ میں نئے پی سی ون منصوبہ جات جن میں کوٹلی شہر میں سالڈ ویسٹ منیجمنٹ اور سولر لائٹس کی تنصیب اور مظفرآباد شہر میں ذبحہ خانہ کی تعمیر شامل ہیں کے لئے مجموعی طور پر 10کروڑ 10لاکھ روپے کی رقم مختص کیئے جانے کی تجویز ہے۔ علاوہ ازیں ایک ارب روپے کی لاگت سے رواں مالی سال میں پل ہا کی تعمیرو مرمتی کے منصوبے کیلئے بھی آئند ہ مالی سال میں 49کروڑ 22لاکھ روپے کی خطیر رقم مختص کیئے جانے کی تجویز ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ محکمہ لوکل گورنمنٹ کے تحت نان پی سی ون مدات مثلاً تعمیر و مرمتی محکمانہ عمارات‘ سو شل سیکٹر پروگرام،کمیونٹی انفراسٹرکچر پروگرام اور لوکل کونسل ہا کے لیے امدادی پروگرام جیسی مدات کے تحت مالی سال 2025-26 ء میں مختلف نوعیت کے عوامی فلاح و بہبودکے منصوبہ جات پر عملدرآمد کیاجا رہا ہے۔اگلے مالی سال 2026-27 ء میں بھی ان مدات کے تحت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبہ جات کے لیے 02 ارب 47کروڑ روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایاکہ فزیکل پلاننگ و ہائوسنگ سیکٹر حکومت کی متعین کردہ ترجیحات کے مطابق جملہ سرکاری محکمہ جات اور اداروں کی دفتری اور رہائشی مکانیت کی ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے جامع منصوبہ بندی کے تحت عملدرآمد کر رہا ہے۔ نظر ثانی میزانیہ2025-26 میں فزیکل پلاننگ و ہائوسنگ سیکٹر کے لیے مجموعی طور پر01 ارب25 کروڑ09 لاکھ روپے مختص کیئے گے۔ جبکہ آئندہ مالی سال2026-27 کے لیے 01 ارب70 کروڑ فراہم کیئے جانے کی تجویز ہے۔ رواں مالی سال میں فزیکل پلاننگ و ہائوسنگ کے08 منصوبہ جات مالیتی01 ارب81 کروڑ 68 لاکھ روپے مکمل کیئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رواںمالی سال کے نظر ثانی میزانیہ 2025-26 میںگورنمنٹ ہائوسنگ کے جاریہ منصوبہ جات کے لیے70 کروڑ 34 لاکھ روپے مختص کیئے گئے۔جن میں سے04 منصوبہ جات مالیتی79کروڑ 69 لاکھ روپے رواں مالی سال مکمل کیئے گئے۔آئندہ مالی سال 2026-27 میں 15 جاریہ منصوبہ جات کے لیے 66 کروڑ50لاکھ روپے مختص کیئے جانے کی تجویز ہے۔ جبکہ نئے منصوبہ جات تحصیل دفاتر لیپہ ضلع جہلم ویلی ، شاردہ ضلع نیلم، بیرپانی ضلع باغ، ممتاز آباد ضلع حویلی، ہجیرہ ضلع پونچھ، تعمیر پارکنگ پلازہ مظفرآباد ، تعمیر فکیلٹی و ایڈمن بلاک KIM مظفرآباد،تعمیر الیکشن کمیشن آفس مظفرآباد، تعمیر دفاتر محکمہ مالیات و ان لینڈ ریونیو مظفرآباد ، تعمیر رہائشی مکانیت سرکاری ملازمین وتحصیل دفاتر محکمہ پی ڈبلیو ڈی و برقیات تحصیل ہیڈکوارٹر چڑہوئی ضلع کوٹلی اور گورنمنٹ عمارات کی فرنشنگ ، مرمتی و بہترگی کے لیے 18 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیئے جانے کی تجویز ہے۔ وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے کہا کہ عوام کو صاف پانی کی فراہمی حکومت آزاد کشمیر کی اولین ترجیح ہے ۔رواںمالی سال کے نظر ثانی میزانیہ 2025-26میںاس سیکٹر کے19 جاریہ منصوبہ جات کے لیے53 کروڑ 93 لاکھ روپے مختص کیئے گئے۔جن میں سے04 منصوبہ جات مالیتی01 ارب 01 کروڑ 98 لاکھ روپے رواں مالی سال مکمل کیئے گے ہیں۔ آئندہ مالی سال میں 15جاریہ منصوبہ جات کے لیے 73کروڑ روپے جبکہ نئے منصوبہ جات جن میں بقیہ کام واٹر سپلائی سکیم وسیوریج سسٹم مظفرآبادسٹی ، واٹر سپلائی سکیم تحصیل ہیڈکواٹرپٹہکہ ضلع مظفرآباد ،راولاکوٹ کی موجودہ واٹر سپلائی سکیم کی بہترگی ،واٹر سپلائی سکیم تحصیل ہیڈکوارٹربیرپانی اورریٹرہ ضلع باغ ، واٹر سپلائی سکیم ڈھوںگلیاں ، چکسواری ،خالق آباد ضلع میرپور ، بہترگی موجودہ واٹر سپلائی سسٹم اولڈ اینڈ نیو میرپور سٹی کے لیے09 کروڑ روپے مختص کیئے جانے کی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایاکہ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے شعبہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ میںمالی سال2025-26 کے جاریہ منصوبہ جات کے خلاف24کروڑ 44لاکھ روپے کے اخراجات عمل میں لائے جا رہے ہیں۔جس کے تحت آزادکشمیر میں پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA)آزادکشمیر کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کے علاوہ شعبہ لینڈیوز پلاننگ کے زیر انتظام مختلف محکمہ جات جن میں زراعت،صنعت و حرفت،جنگلات،اسٹیٹ ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی ،تعمیرات عامہ، لوکل گورنمنٹ ،ضلعی انتظامیہ ،ماحولیات ،تعلیم اور صحت عامہ شامل ہیں کے شعبہ جاتی نقشہ جات/ رپورٹس تیار کر کے ان سرکاری ادارہ جات کو مہیا کیئے جا رہے ہیں۔مزید یہ کہ آئندہ مالی سال کے دوران شعبہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے تحت محکمہ حسابات کی کمپیوٹرائزیشن کے لئے بھی ایک منصوبہ روبہ عمل ہے اس کے علاوہ ٹیکس کے حصول اور نظام کوبہتر اور مزید موثر کئے جانے کے لیے بھی ایک سکیم زیر تکمیل ہے اسطرح ان منصوبہ جات کی اجرائیگی سے محکمہ جات کی استعدادِ کار اور صلاحیت میں بہتری اور عوام کو بہتر سہولیات بہم پہنچانے کے لئے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ میںسالانہ ترقیاتی پروگرام 2026-27میںجاریہ اورنئے منصوبہ جات کے لئے78کروڑ روپے کے فنڈز مختص کئیے جانے کی تجویز ہے۔جس کے تحت آزادکشمیر کی جی ڈی پی ، لینڈ یوز/لینڈ کور کا اندازہ لگانے اور پراجیکٹ پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کی خودکاری کے منصوبہ جات کو شامل کیے جانے کی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایاسماجی بہبود وترقی نسواں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت آزاد کشمیرخواتین کی ترقی اور معاشرے کے محروم اور پسماندہ طبقات بالخصوص بیوہ ،بے سہارا ، اور نا مساعد حالات کی شکار خواتین ،یتیم بچیوں کی فلاح و بہبو د،نوجوانوں ، بوڑھوں اور معذور افراد کے حقوق کے تحفظ ،ان کی فلاح وبہبود اور بحالی کے لئے مصروف عمل ہے۔ محکمہ سماجی بہبود کیلئے رواں مالی سال 2025-26میں02کروڑ 15 لاکھ روپے فراہم کیئے گئے۔جس کے خلاف سوشل پروٹیکشن پروگرام،چائیلڈ پروٹیکشن پروگرام اور محکمہ کے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے منصوبہ جات پر عمل درآمدکیا جا رہا ہے۔محکمہ سماجی بہبود کے لیئے مالی سال2026-27ء میں 11کروڑروپے مختص کیئے جانے کی تجویز ہے۔محکمہ سماجی بہبود میں آئندہ مالی سال کے لیے چندنئے منصوبہ جات کی تجویزہے۔جن میں ـتعمیر ہاسٹل بلڈنگ ہمراہ نیشنل اسپیشل ایجوکیشن سینٹر مظفرآباد،تعمیربلڈنگ ڈائریکٹریٹ سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ،قیام سپیشل ایجوکیشن سینٹرز باغ و نیلم اور قیام چائلڈ پروٹیکشن یونٹ میرپور و کوٹلی شامل ہیں۔ انہوںنے کہا کہ محکمہ ترقی نسواں موجودہ حکومت کے بنیادی منشور کے تحت خواتین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کے ساتھ انہیں معاشی طور پر مستحکم ومضبوط کرنے ، بااختیار بنانے اور ان کے بنیادی حقوق سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کے لئے اقدامات کررہا ہے۔شعبہ ہذا کے لیئے مالی سال 2025-26ء کے دوران 05کروڑ83لاکھ روپے فراہم کیئے گئے ۔محکمہ ہذا مختلف ترقیاتی منصوبہ جات کے تحت خواتین کے لئے موجودہ وقت کے تقاضوںکے مطابق جدید فنون پر مشتمل مختلف ٹریڈز میں تربیتی کورسز کا اہتمام، خواتین کے حقوق کے تحفظ اور آگاہی کے لئے ستم زدہ خواتین کی مکمل بحالی اور آباد کاری کو یقینی بنانا اور ان مراحل کے دوران مفت رہائش، قانونی اور طبی امداد و خوراک فراہم کر رہا ہے ۔ شیلٹر ہومزکی سہولت سے ہر سال تقریبا 200 خواتین مستفید ہو رہی ہیں-انہوں نے کہا کہ محکمہ ترقی نسواں کے لئے مالی سال 2026-27ء میں 11کروڑ روپے مختص کیئے جانے کی تجویز ہے۔ محکمہ ترقی نسواں میں آئندہ مالی سال کے لیے منصوبہ ” قیام جینڈر فورمز ” شامل کئے جانے کی تجویز ہے تاکہ خواتین پر بڑھتے ہوئے تشدد کا تدارک کیا جا سکے۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایاکہ محکمہ ا سپورٹس، یوتھ اینڈ کلچر نوجوانوں کو صحت مندانہ سرگرمیوں کے یکساں مواقع میسر کرنے کے لیے آزادکشمیرکے شہری علاقوں میں اسپورٹس سٹیڈیم اورا سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کے علاوہ دیہی علاقوںمیں کھیل کے میدان تعمیر کرنے کے لیے مختلف ترقیاتی سکیموں کے تحت کام جاری رکھے ہوئے ہے ۔نظر ثانی سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26 کے تحت اِس سیکٹر کے لیے 22کروڑ 88لاکھ روپے مختص کیے گئے۔اس رقم سے مظفرآباد اور ڈڈیال کے اسٹیڈیمز میںاضافی سہولیات کے منصوبہ جات کی تکمیل کی گئی۔ تعلیمی ادارہ جات کے ہمراہ میدان اور کمیونٹی گراونڈز کے پہلے فیز پر بیشتر کام مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے فیز کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔ علاوہ ازیں ضلع حویلی میں پہلے اسپورٹس اسٹیڈیم کی تعمیر کے منصوبہ کا آغاز بھی کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27کے لیے35کروڑ روپے کی مجوزہ رقم سے آزاد کشمیربھر میں منی گراونڈز کی فراہمی ،علی خان چغتائی اسٹیڈیم ہٹیاں بالاکے ساتھ ساتھ ڈماس اور پوٹھہ بینسی کے نئے اسٹیڈیمز کی تعمیر ،اسپورٹس کمپلیکس راولاکوٹ کی اپگریڈیشن اور ڈڈیال میں قومی کھیل ہاکی کے فروغ کے سلسلہ میںسنتھیٹک ٹرف کی تنصیب کے منصوبہ جات شامل کیے جانے کی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایاکہ حکومت آزاد کشمیرسیاحت کے شعبہ کو تر جیحی بنیادوں پر وسائل فراہم کر رہی ہے ۔تاکہ ریاست کی معیشت کومضبوط بنیادوں پر استوارکیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاحوں کو بہتر سفری ، اقامتی اور تفریحی سہولیات کی فراہمی کی غرض سے سیاحت کے شعبہ کو موثر صنعت میں تبدیلی کیلئے حکومت آزادکشمیر نہایت مربوط اور منظم حکمتِ عملی کے ساتھ عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26ء کے دوران سیاحت و آثار قدیمہ کے لیئے 02کروڑ 90لاکھ روپے فراہم کیئے گئے جس کے تحت آزادکشمیر میں حکومتی ترجیحات کے مطابق محکمہ سیاحت کے موجودہ اثاثہ جات کی سہ فریقی تحقیق کروائے جانے کے ساتھ ساتھ آزادکشمیر کے خوبصورت سیاحتی مقامات کی ماسٹر پلاننگ کے لیے مشاورتی خدمات کے حصول کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27ء کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شعبہ سیاحت کے فروغ کیلئے 30کروڑروپے کی رقم مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔جس کے تحت جاریہ منصوبہ جات میں مظفرآباد قلعہ کی مرمتی و بحالی ، سیاحتی مقامات کی تزئیں و آرائش، محکمہ سیاحت کی استعدادکار بڑھانے اور موجودہ اثاثہ جات کی سہ فریقی تحقیق کروائے جانے کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کے خوبصورت سیاحتی مقامات کی ماسٹر پلاننگ کے لئے مشاورتی خدمات کے حصول کو یقینی بنایا جائیگا ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہمالی سا ل 2026-27ء میں اس سیکٹر کے لئے04 نئے منصوبہ جات لاگتی 19کروڑ روپے شامل کئے جانے کی تجویز ہے جن پر عملدرآمد کیلئے 06کروڑ روپے مختص کیئے جانے کی تجویز ہے جس کے تحت گرین اور پائیدارٹورازم ، مرکزی ٹورسٹ ریسٹ ہاوسز کی مرمت ،نالہ ماہل باغ اور نالہ کائیں راولاکوٹ واٹر باڈیز کی فزیبلیٹی اور آثار قدیمہ کے اثاثہ جات کی بحالی و حفاظت کے منصوبہ جات پر عملدرآمد کیا جائیگا۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایاکہ آزاد کشمیر میں ٹرانسپورٹ سیکٹرکی ترقی و بہتری کے لیے آمدہ سالانہ ترقیاتی پروگرام 2026-27ء میں15کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔جس سے عوام کو بہتر اور محفوظ سفری سہولیات فراہم کرنے کی غرض سے آزاد کشمیر میں پبلک سروس ٹرانسپورٹ کی کمپیوٹرائزڈ چیکنگ کے بعد فٹنس سرٹیفیکیٹ کے اجراء کے لیے سکیم تجویز کی جارہی ہے۔

وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اپنی بجٹ تقریر میں جنگلی حیات و ماہی پروری کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ مالی سال2026-27 میں محکمہ وائلڈ لائف و فشریز کے لیے02کروڑ روپے مختص کیئے جانے کی تجویز ہے جس کے تحت محفوظ رقبہ جات کے انتظام وانصرام کو سائنسی بنیادوں پراستوار کرنے، حیاتیاتی تنوع کی حفاظت اور مقامی لوگوں کی شراکت سے مچھلیاں پالنے جیسے مختلف منصوبہ جات شامل کئے جانے کی تجویز ہے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے حوالہ سے اپنی بجٹ تقریر میںوزیر خزانہ چوہدری قاسم مجیدنے کہا کہ سرکاری ملازمین کسی بھی حکومت میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ حکومت اپنی مالی مشکلات کے باوجود ملازمین کے معاشی حالات بہتر بنانے کے لئے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے تنخواہ اور پنشن میںکیے جانے والے اضافہ کے مطابق حکومت آزادکشمیر بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں اضافہ کا اعلان کرتی ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں پر * کا نشان لگا ہوا ہے۔