تین سالہ بچی کلثوم کے قتل کے مقدمے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت-قائد آباد کے علاقے میں تین سالہ بچی کلثوم کے قتل کے مقدمے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق کمسن بچی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ موت کی حتمی وجہ جاننے کے لیے مزید طبی اور کیمیائی تجزیاتی رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
پولیس سرجن کے مطابق مختلف نمونے محفوظ کر لیے گئے ہیں، جن کی جانچ مکمل ہونے کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ واقعے کے بعد پولیس نے اغوا، جنسی تشدد اور قتل کی دفعات کے تحت نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
مقدمے کے متن کے مطابق بچی گزشتہ روز گھر کے باہر کھیلنے گئی تھی لیکن واپس نہ لوٹی۔ اہل خانہ نے اپنی مدد آپ کے تحت تلاش شروع کی، تاہم کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود اس کا سراغ نہ مل سکا۔
بعد ازاں محلے کے افراد نے اہل خانہ کو اطلاع دی کہ ایک کمسن بچی کی لاش آٹے کی بوری میں بند حالت میں گلی کے اندر سے ملی ہے۔ بچی کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کے انتقال کی تصدیق کر دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی شناخت و گرفتاری کے لیے مختلف شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق کیس کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔