امریکا نے ایران کے خلاف پابندیوں کے دائرے کو مزید وسیع کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو نئی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں کا مقصد مخصوص مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔ محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ ان اداروں یا افراد کے ساتھ کاروباری یا مالی لین دین کرنے والے غیرملکی مالیاتی ادارے اور دیگر فریق بھی ممکنہ پابندیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر ایران نے تاحال کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی تجویز پر متعلقہ حلقوں میں مشاورت اور غور و خوض جاری ہے، جبکہ مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایسے اقدامات شامل ہونے چاہئیں جن سے ملک کو عملی اور قابلِ اعتماد فوائد حاصل ہوں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پابندیوں اور سفارتی رابطوں کے بیک وقت جاری رہنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں، تاہم مذاکراتی عمل مکمل طور پر رکا نہیں ہے۔