مذاکرات کا دوسرا دور ختم،طالبان کو دہشتگردی روک تھام کیلئے جامع پلان پیش کردیا۔ ترکیے کے شہر استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور میں پاکستان نے دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق جامع پلان طالبان قیادت کے حوالے کردیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات کا دوسرا دور 9 گھنٹے سے زائد جاری رہا، جس کی میزبانی ترکیے کے اعلیٰ حکام نے کی۔ مذاکرات میں پاکستان نے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کو اپنا بنیادی نکتہ قرار دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کالعدم ٹی ٹی پی کو کسی نئی جگہ منتقل کرنے کی افغان طالبان کی تجویز مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف ٹھوس اور فیصلہ کن کارروائی پر زور دیا۔ افغان وفد پاکستان کی تجاویز پر غور کر رہا ہے۔
مذاکرات کے تین روز تک جاری رہنے کا امکان ہے، جن میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات اور دوطرفہ تعاون کے طریقہ کار پر مزید بات چیت ہوگی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 19 اکتوبر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کے پہلے دور میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور افغان وزیر دفاع ملا یعقوب کی ملاقات ہوئی تھی، جس میں فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔