ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای محفوظ اور خیریت سے ہیں اور ملک کا نظام پوری طرح فعال ہے۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کا نظام کسی ایک شخصیت کی حکمرانی کا نام نہیں بلکہ ایک منظم اور مضبوط ڈھانچہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں یقین دلا سکتا ہوں کہ ہمارا نظام جدید اور منظم انداز میں کام کر رہا ہے، خدا کا شکر ہے سب محفوظ ہیں۔‘‘
ترجمان کے مطابق ایران کی مسلح افواج جاری جارحیت کے خلاف دفاعی کارروائیاں کر رہی ہیں اور قومی سلامتی کے تحفظ پر مکمل توجہ مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت کی اولین ترجیح اپنے عوام اور سرزمین کا دفاع ہے۔
سفارتی عمل سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ نو ماہ کے دوران دوسری بار سفارت کاری کو سبوتاژ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ جون میں مذاکرات کے دوران، جب چھٹے دور کی بات چیت متوقع تھی، ایران پر حملہ کیا گیا۔ اسی طرح حالیہ دنوں میں بھی ممکنہ معاہدے کے تکنیکی پہلوؤں پر بات چیت کی تیاری جاری تھی کہ اچانک جارحیت شروع کر دی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ عمانی ثالث کی جانب سے پیش رفت کی اطلاع دی گئی تھی اور معاہدہ قریب دکھائی دے رہا تھا، تاہم حملوں نے سفارتی عمل کو متاثر کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران نے ہمیشہ نیک نیتی سے مذاکرات میں حصہ لیا اور وہ مسقط، جنیوا یا کسی بھی مقام پر معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے قیام کرنے کو تیار تھا۔
ایٹمی پروگرام کے حوالے سے انہوں نے مؤقف دہرایا کہ ایران گزشتہ دو دہائیوں سے عالمی برادری کو یقین دلاتا آ رہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کا خواہاں نہیں۔ ان کے مطابق پرامن مقاصد کیلئے جوہری توانائی کا استعمال ایران کا حق ہے اور اس کے برعکس الزامات بے بنیاد پروپیگنڈا ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان نے الزام لگایا کہ امریکہ ایران پر حملوں کیلئے دیگر ممالک کی سرزمین استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم ایران اپنے دفاع کیلئے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔




