میکسیکو،کارٹیل سربراہ کی ہلاکت،9500 فوجی تعینات-میکسیکو میں ایک طاقتور منشیات فروش کی ہلاکت کے بعد بھڑکنے والے تشدد کو روکنے کے لیے حکومت نے ہزاروں اضافی فوجی تعینات کر دیے ہیں۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق وزیر دفاع ریکارڈو ٹریویلا نے بتایا کہ پیر کو مزید 2500 فوجی مغربی علاقوں میں بھیجے گئے، جب کہ اتوار سے اب تک مجموعی طور پر 9500 اہلکار تعینات کیے جا چکے ہیں۔
بدامنی اس وقت شروع ہوئی جب جالیسکو ریاست میں خصوصی افواج کی کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والے منشیات کارٹیل کے سربراہ نیمیسیو اوسیگویرا سروینٹس المعروف “ایل مینچو” حراست میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔ وہ جلیسکو نیو جنریشن کارٹیل کے سربراہ تھے، جسے ملک کی خطرناک ترین مجرمانہ تنظیموں میں شمار کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق مختلف ریاستوں میں پرتشدد واقعات کے دوران میکسیکو نیشنل گارڈ کے کم از کم 25 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ کارروائی میں کارٹیل کے کم از کم چھ مسلح محافظ بھی مارے گئے جبکہ فوج کے تین اہلکار زخمی ہوئے۔
سیکیورٹی سیکریٹری عمر گارشیا ہارفچ کے مطابق ہلاکت کے بعد پھیلنے والی بدامنی میں جیل کا ایک گارڈ، ریاستی پراسیکیوٹر آفس کا ایک اہلکار اور کارٹیل کے تقریباً 30 ارکان بھی مارے گئے۔
صدر کلاڈیا شین بام نے فوجی آپریشن کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں امن و امان کی بحالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ صورتحال پر قابو پانے کے لیے سرگرم ہیں۔
تشدد کے دوران مختلف شہروں میں سڑکیں بلاک کی گئیں، گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا اور متعدد بینکوں و کاروباری مراکز کو آگ لگا دی گئی۔ بعض علاقوں میں شہریوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بیشتر مرکزی شاہراہیں کلیئر کر دی گئی ہیں تاہم متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری بدستور تعینات ہے اور حالات پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔




