اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین

پوٹن نے تیسری عالمی جنگ شروع کر دی،روکنا ضروری ہے،زیلنسکی

پوٹن نے تیسری عالمی جنگ شروع کر دی،روکنا ضروری ہے،زیلنسکی

یوکرین کے صدر وولوڈیمیر زیلنسکی نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن تیسری عالمی جنگ کا آغاز کر چکے ہیں اور انہیں روکنا ناگزیر ہے۔

کیف میں حکومتی صدر دفتر میں دیے گئے انٹرویو میں زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین شکست سے بہت دور ہے اور وہ جنگ کو فاتحانہ انداز میں ختم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے مجوزہ جنگ بندی دراصل یوکرین کے لیے ایک تزویراتی پسپائی ہوگی، کیونکہ ماسکو ان علاقوں پر قبضہ چاہتا ہے جہاں روس دسیوں ہزار فوجیوں کی قربانیوں کے باوجود مکمل کنٹرول حاصل نہیں کر سکا۔

زیلنسکی نے کہا، “مجھے یقین ہے کہ پوٹن نے اسے پہلے ہی شروع کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کتنے علاقے پر قبضہ کر سکتا ہے اور اسے کیسے روکا جائے۔ روس دنیا پر ایک مختلف طرزِ زندگی مسلط کرنا چاہتا ہے اور لوگوں کی اپنی مرضی کی زندگی بدلنا چاہتا ہے۔”

روسی مطالبات کے تحت یوکرین سے مشرقی ڈونیٹسک کے تقریباً بیس فیصد حصے سمیت جنوبی علاقوں خیرسون اور زاپوریزہیا میں مزید زمین چھوڑنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اس پر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یہ محض زمین نہیں بلکہ لاکھوں یوکرینی شہریوں کو چھوڑ دینے کے مترادف ہوگا، جو معاشرے میں تقسیم پیدا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایسی رعایت روسی صدر کو وقتی طور پر مطمئن کر سکتی ہے، لیکن ماسکو کو دوبارہ طاقت حاصل کرنے کے لیے صرف ایک وقفہ درکار ہے۔ زیلنسکی کے مطابق روس مستقبل میں دوبارہ جنگ چھیڑ سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں کہا تھا کہ یوکرین کو مذاکرات کی میز پر جلد آنا چاہیے۔ مغربی سفارتی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ممکنہ جنگ بندی کے لیے علاقائی رعایتیں ناگزیر ہو سکتی ہیں۔

تاہم زیلنسکی نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا، “ہم یوکرین کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ہم ہار نہیں مانیں گے۔” ان کے مطابق حقیقی فتح کا مطلب نہ صرف معمول کی زندگی کی بحالی ہے بلکہ 1991 کی سرحدوں کی واپسی اور عالمی انصاف کا قیام بھی ہے۔

زیلنسکی نے زور دیا کہ یوکرین کے پاس فی الحال اتنے وسائل اور ہتھیار نہیں کہ فوری طور پر تمام مقبوضہ علاقے واپس لے سکے، اور اس میں مغربی شراکت داروں کا کردار کلیدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوٹن کو روکنا صرف یوکرین نہیں بلکہ پوری دنیا کی ذمہ داری ہے۔