پاکستان سے بچوں کی بیرون ملک اسمگلنگ اور ریاستی بے حسی
ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمے کے مطابق 9 جون 2025 کرن سہیل نامی خاتون ایک سال تین ماہ کے زیان کے ساتھ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے موزمبیق جارہی تھی ، خفیہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کرن سہیل جسے بچے کو اپنے ساتھ لے جارہی ہے وہ اس کا اصل بیٹا نہیں ہے، کرن سہیل نے پوچھ کچھ کے دوران اعتراف کیا کہ بچہ اسکا نہیں ہے بلکہ اسی دن یاسمین نامی خاتون نے بچہ ائیر پورٹ پر اسکے حوالے کیا تھا ، کرن سہیل نے اعتراف کیا ہے بچہ اسکا نہیں ہے وہ بس اس اسمگل کرنے کے کام کے لیے استعمال ہورہی تھی ،
بریکنگ نیوز / کراچی
پاکستان سے بچوں کی بیرون ملک اسمگلنگ اور ریاستی بے حسی۔۔۔۔!
کم سن بچے کو بیرون ملک اسمگل کرنے کا ایک اور کیس سامنے آگیا
ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمے کے مطابق 9 جون 2025 کرن سہیل نامی خاتون ایک سال تین ماہ کے زیان کے ساتھ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے… pic.twitter.com/0rUQ7Zuz24— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) December 4, 2025
خاتون کرن نے بتایا کہ سہیل ،فیصل محمود،چاندانی اور محمد اشرف نے بچے کو اسمگل کرنے میں سہولت کاری کی ہے ، دستاویزات سے پتہ چلا کہ بچے کو اسمگل کرکے موزمبیق میں بھاری رقم کے عوض کسی فیملی کے حوالے کیا جائے گا ،خاتون کرن کے شوہر سہیل نے موزمبیق میں بچہ اپنے بوس کو دینا تھا جس کا بیٹا نہیں تھا ،اس مقصد کے بچہ ایک جماعت خانے کی ڈاکٹر سے 10 سے بارہ لاکھ روپے میں لیا گیا تھا۔۔۔۔ دو ملزمان جیل میں اور چار ضمانت ہر ہیں تاہم حیران کن طور ہر بچے کے اصل والدین کون ہیں اس بات کا کئی ماہ گزر جانے کے باوجود سراغ نہیں لگایا جاسکا اور بچہ لاوارث قرار دے کر پرائیویٹ دارالامان میں زندگی گزار رہا ہے، قانونی ماہرین سے جاننے پر معلوم ہوا کہ جس کا کوئی وارث نہیں اسکا وارث کون ہوگا پاکستان میں اہسا قانون ہی نہیں۔۔۔۔




