وعدوں سے عمل تک:COP30 میں پاکستان کی اخلاقی قیادت-جب دنیا ترقی کی دوڑ میں آسمانوں کو چھونے کے خواب دیکھ رہی تھی، تب زمین کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔ بیلیم، برازیل میں منعقدہ اقوامِ متحدہ کی تیسویں ماحولیاتی کانفرنس (COP30) میں پاکستان کی آواز گویا ایک صدا تھی جو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے آئی، ایک ایسی آواز جو نہ صرف اپنے زخم دکھا رہی تھی بلکہ مرہم رکھنے کا راستہ بھی سجھا رہی تھی۔
اس عالمی اجلاس میں پاکستان نے محض ایک شریک ملک کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک باوقار اور بااصول آواز کے طور پر شرکت کی۔ موسمیاتی انصاف کے لیے آواز بلند کرتے ہوئے پاکستان نے دنیا کو یاد دلایا کہ موسمیاتی بحران کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے، جس کا سامنا ترقی پذیر اور کمزور ممالک روزانہ کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔
پاکستان کا مؤقف واضح اور دوٹوک تھا: موسمیاتی مالیات کو خیرات نہیں بلکہ انصاف کے اصولوں پر استوار کیا جائے۔ موجودہ مالیاتی ڈھانچے نہ صرف ناکافی ہیں بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ناقابلِ رسائی بھی ہیں۔ پاکستان نے زور دیا کہ موسمیاتی مالیات کو قرض کی بجائے بلا مشروط گرانٹس کی صورت میں فراہم کیا جائے، اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو ایک حق کے طور پر تسلیم کیا جائے، نہ کہ کسی احسان کے طور پر۔
پاکستان کی توجہ کا مرکز Loss and Damage فنڈ کا فوری فعال ہونا اور اس میں شفافیت اور تیز رسائی کو یقینی بنانا تھا۔ پاکستان نے مطالبہ کیا کہ اس فنڈ تک رسائی کے لیے ایک ایسا نظام وضع کیا جائے جو قومی سطح پر تسلیم شدہ اداروں کے ذریعے فوری امداد اور بحالی کو ممکن بنائے۔ 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے بعد پاکستان کو اس فنڈ کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہے، جب لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ پاکستان کے لیے یہ فنڈ محض ایک پالیسی کا آلہ نہیں بلکہ ایک زندگی بخش سہارا ہے۔
کانفرنس میں پاکستان نے اپنے ماحولیاتی اقدامات کو بھی بھرپور انداز میں پیش کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے پاکستان پویلین کا افتتاح اس بات کا مظہر تھا کہ پاکستان کی صوبائی حکومتیں بھی موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عملی اقدامات کر رہی ہیں۔ گرین پنجاب پروگرام، الیکٹرک ٹرانسپورٹ، اور ابتدائی وارننگ سسٹمز جیسے منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان محدود وسائل کے باوجود اپنے عوام اور ماحول کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے۔
پاکستان نے COP30 کو علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے بھی استعمال کیا۔ جنوبی ایشیا اور تھرڈ پول خطے میں گلیشیئرز، دریا اور موسمیاتی خطرات مشترک ہیں۔ پاکستان نے گلیشیئر مانیٹرنگ، دریائی نظام کے انتظام، اور غذائی تحفظ جیسے شعبوں میں علاقائی اشتراک کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ مؤقف اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ موسمیاتی خطرات سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے، اور اجتماعی بقا کے لیے اجتماعی حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔
ایک اور اہم پہلو بچوں اور نوجوانوں کے حقوق کو قومی ماحولیاتی پالیسیوں میں شامل کرنے کا عزم تھا۔ پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے نیشنل ایڈاپٹیشن پلانز میں بچوں اور نوجوانوں کی ضروریات کو مرکزی حیثیت دے گا، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر انہی طبقات پر پڑتا ہے جو اس بحران کے ذمہ دار نہیں۔
پاکستان نے محض مطالبات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عملی اقدامات کی جانب بھی پیش رفت کی۔ Loss and Damage فنڈ کے ابتدائی مرحلے میں دو منصوبے پیش کیے گئے، جن کا مقصد سماجی انفراسٹرکچر کی بحالی اور زراعت، پانی اور کمیونٹی نظام میں لچک پیدا کرنا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان صرف باتیں نہیں کر رہا بلکہ عمل کے لیے تیار ہے۔
COP30 میں پاکستان کی شرکت ایک یاد دہانی تھی کہ قیادت صرف طاقت سے نہیں، بلکہ اخلاقی جرات، سچائی اور عمل سے جنم لیتی ہے۔ پاکستان نے دنیا کو آئینہ دکھایاایسا آئینہ جس میں وعدے کافی نہیں، عمل کی ضرورت ہے۔ اب وقت ہے کہ عالمی برادری اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھے، اور موسمیاتی انصاف کو صرف ایجنڈا نہیں بلکہ عمل کا حصہ بنائے۔ کیونکہ پاکستان نے تو اپنا فرض ادا کر دیا ہے اب دنیا کی باری ہے۔
تحریر: ایسل الہام
موسمیاتی تبدیلی گورننس تجزیہ کار
ایم فل میڈیا اسٹڈیز
impactchroniclesmedia@outlook.com




