اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین

پرندوں کے مسکن کی نئی تاریخ:ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف پہلا مورچہ

پرندوں کے مسکن کی نئی تاریخ:ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف پہلا مورچہ

پرندوں کے مسکن کی نئی تاریخ:ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف پہلا مورچہ

 ایسل الہام

ایسل الہام

تحریر: ایسل الہام

موسمیاتی تبدیلی گورننس تجزیہ کار
ایم فل میڈیا اسٹڈیز
impactchroniclesmedia@outlook.com

“جہاں انسان دیواریں اٹھاتا ہے، وہاں پرندے گھونسلے بناتے ہیں اور یہی فرق زمین کو سانس لینے دیتا ہے۔”

جیکب آباد، سندھ کی تپتی دھوپ میں ایک خاموش عمارت کھڑی ہے جسے مقامی لوگ “کبوتروں کا گھر” کہتے ہیں۔ یہ صرف برطانوی دور کی یادگار نہیں، بلکہ ماحولیاتی ہم آہنگی کی ایک زندہ علامت ہے۔ ۱۹ویں صدی کے اواخر میں تعمیر کی گئی یہ عمارت آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے، اور پرندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کی بالائی منزل میں سات قطاریں ہیں، جن میں ہر ایک میں چھتیس مستطیل سوراخ موجود ہیں یعنی کل ۲۵۲ گھونسلے، جو کبوتروں کے لیے بنائے گئے تھے۔

یہ عمارت نہ صرف تعمیراتی مہارت کا نمونہ ہے بلکہ ماحول دوست سوچ کی نمائندہ بھی۔ پکی اینٹوں اور مٹی کے گارے سے بنی یہ ساخت آج بھی پرندوں کو وہ تحفظ فراہم کر رہی ہے جو جدید شہری منصوبہ بندی اکثر نظرانداز کر دیتی ہے۔ 1990–91 میں اس کی جزوی مرمت کی گئی، مگر یہ اب بھی قانونی تحفظ سے محروم ہے جیسے قدرت کی خاموش فریاد، جو سننے والے کانوں کی منتظر ہے۔

اسی تسلسل میں ایک تازہ پیش رفت خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سامنے آئی ہے، جہاں شہر کے مرکز میں قریشی موڑ کے قریب محکمہ جنگلات نے ایک منفرد “چڑیا مینار” تعمیر کیا ہے۔ اس کی تعمیر میں مٹی اور لکڑی کے قدیم طریقے کو اپنایا گیا ہے تاکہ مقامی پرندوں جیسے چڑیاں، طوطے، کبوتر اور فاختائیں کو گھونسلے، پناہ اور خوراک کی جگہ فراہم کی جا سکے۔

رکن قومی اسمبلی فیصل امین گنڈاپور کے مطابق، اس مینار کا تصور انھوں نے ایران کے تاریخی “کبوتر خانوں” سے اخذ کیا، جو صفوی دور میں کبوتروں کے فضلے کو قدرتی کھاد کے طور پر استعمال کرنے کے لیے بنائے گئے تھے۔ ان کبوتروں کے ٹاورز کا ذکر مراکشی سیاح ابن بطوطہ نے بھی کیا، جبکہ تیمور لنگ نے بخارا میں ایسے ڈھانچوں کی تعمیر کے احکامات دیے۔ فرانسیسی مصنف شارڈن نے 16ویں صدی میں ایران کے سفرنامے میں ان کا تذکرہ کیا، اور آج بھی اصفہان اپنے تاریخی کبوتر خانوں کے لیے مشہور ہے۔

ڈی آئی خان کے اس چڑیا مینار کی اونچائی 32 فٹ ہے، اور پرندوں کو گندم و باجرے سے متوجہ کیا جائے گا۔ ضلع فاریسٹ آفیسر امین الاسلام کے مطابق، اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو دیگر شہروں میں بھی ایسے مزید ٹاورز تعمیر کیے جائیں گے تاکہ درختوں کی کمی کے باعث ہجرت کرنے والے پرندوں کو مقامی رہائش اور خوراک فراہم کی جا سکے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کے اس دور میں، جب درجہ حرارت میں اضافہ، بارشوں کا بے ترتیب ہونا، اور قدرتی مسکن کی تباہی عام ہو چکی ہے، ایسے اقدامات نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ پرندے ماحولیاتی نظام کے توازن میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں وہ بیجوں کی تقسیم، کیڑوں کے کنٹرول، اور ماحولیاتی صحت کے اشاریے کے طور پر کام کرتے ہیں۔ شہری علاقوں میں درختوں کی کٹائی، آلودگی، اور کنکریٹ کے جنگل نے پرندوں کے قدرتی مسکن کو شدید متاثر کیا ہے۔

یہ وقت ہے کہ ہم اپنے ماضی کی خاموش عمارتوں سے سبق لیں اور مستقبل کے لیے آواز اٹھائیں۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں، محکمہ جنگلات، وزارت موسمیاتی تبدیلی، اور بلدیاتی اداروں کو چاہیے کہ وہ ان ماڈلز کو وسعت دیں ایسے برڈ ٹاورز اور چبوترے تعمیر کریں جو مقامی وسائل سے بنے ہوں، ماحول دوست ہوں، اور پرندوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوں۔

پرندوں کے لیے گھونسلہ گاہیں بنانا شاید ایک چھوٹا قدم ہو، مگر یہ فطرت کے ساتھ ہماری وابستگی کا پہلا وعدہ ہے۔ یہ گھونسلے صرف پرندوں کے نہیں یہ ہماری اجتماعی یادداشت، ہماری ماحولیاتی بصیرت، اور ہمارے زندہ رہنے کی امید ہیں۔ اگر ہم چاہیں، تو قدرت کے ساتھ جینا صرف