اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین

وہ کاغذ جو درختوں کا مقروض نہیں:ریت میں چھپی روشنی

وہ کاغذ جو درختوں کا مقروض نہیں:ریت میں چھپی روشنی

وہ کاغذ جو درختوں کا مقروض نہیں:ریت میں چھپی روشنی

ایسل الہام
ایم فل میڈیا اسٹڈیز،
موسمیاتی گورننس تجزیہ کار
impactchroniclesmedia@outlook.com

جب دنیا ماحولیاتی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے، اور ہر طرف درختوں کی چیخیں، پانی کی پیاس، اور موسموں کی بے ترتیبی سنائی دیتی ہے، چین نے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جو صحرا کی خاموشی کو انقلاب میں بدل سکتا ہے۔ تیانجن انسٹیٹیوٹ آف کیمیکل ٹیکنالوجی کے محققین نے ایسا “ریت کاغذ” تیار کیا ہے جو نہ درخت مانگتا ہے، نہ پانی، بلکہ صحرا کی ریت اور پودوں سے حاصل شدہ قدرتی بائنڈرز سے جنم لیتا ہے۔ یہ ایجاد صرف ایک تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ ایک فکری بغاوت ہے جو بنجر زمین کو امکانات کی سرزمین بنا دیتی ہے۔1

 

روایتی کاغذ سازی ایک ایسی صنعت ہے جو ہر صفحے کے پیچھے کئی درختوں کی قربانی اور ہزاروں لیٹر پانی کی پیاس چھپائے بیٹھی ہے۔ ہر ٹن کاغذ کے لیے تقریباً 20 درخت اور 30,000 لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔ یہ صنعت نہ صرف جنگلات کو نگلتی ہے بلکہ دریاؤں کو زہر آلود کرتی ہے۔ چین کا “ریت کاغذ” اس ظلم سے انکار ہے یہ نہ درختوں کا محتاج ہے، نہ پانی کا۔ یہ کاغذ پانی سے محفوظ، پھٹنے سے مزاحم، اور قابلِ ری سائیکل ہے۔ چین نے گوبی اور ٹینگر صحرا کے قریب اس کی پیداوار بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے، جہاں ریت اب صرف خاک نہیں بلکہ خواب بن چکی ہے۔.

یہ بھی پڑھیں:۔ https://abs24news.com/3168/

کاغذ کو اکثر پلاسٹک کا ماحول دوست متبادل سمجھا جاتا ہے، مگر اس کی تیاری خود ایک ماحولیاتی تضاد ہے۔ جنگلات کی کٹائی، کاربن کے اخراج، اور پانی کی قلت یہ سب اس “دوستی” کو سوالیہ نشان بنا دیتے ہیں۔ جنگلات صرف سبز نہیں، سانس ہیں؛ وہ کاربن جذب کرتے ہیں، حیاتیاتی تنوع کو سہارا دیتے ہیں، اور بارشوں کے نظام کو سنوارتے ہیں۔ ان کی کٹائی موسمیاتی تبدیلی کو تیز کرتی ہے۔ چین کا “ریت کاغذ” اس تضاد کا جواب ہے۔ یہ جنگلات پر دباؤ کم کرتا ہے، پانی بچاتا ہے، اور صنعتی فضلہ کو محدود کرتا ہے۔ یہ دائرہ کار معیشت کی ایک روشن مثال ہے، جہاں بظاہر بے کار مواد ریت کو قیمتی مصنوعات میں بدلا جاتا ہے۔

پاکستان کے صحرا تھر، چولستان، اور خاران اکثر نظر انداز کیے جاتے ہیں، حالانکہ ان میں ترقی کی وہ چنگاری چھپی ہے جو پورے ملک کو روشن کر سکتی ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، بے ترتیب بارشوں، اور صحرا زدگی کے خطرات کے پیش نظر، ہمیں زمین، پانی، اور صنعت کے بارے میں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ کیا ہمارے صحرا موسمیاتی موافقت کے تجربہ گاہ بن سکتے ہیں؟ کیا پاکستانی تحقیقی ادارے چین کے ساتھ مل کر اسی نوعیت کی ریت سے بنی مصنوعات تیار کر سکتے ہیں؟ کیا ہم روزگار پیدا کر سکتے ہیں، جنگلات کی کٹائی کم کر سکتے ہیں، اور ان علاقوں کو قومی ترقی کا حصہ بنا سکتے ہیں؟ ان سوالات کا جواب وژن، پالیسی، اور سرمایہ کاری میں چھپا ہے۔ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، ہائر ایجوکیشن کمیشن، اور صوبائی حکومتوں کو اس جدت کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔ انہیں تحقیق کے لیے فنڈز فراہم کرنے ہوں گے، گرین اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی، اور صحرا کی معیشت کو قومی منصوبہ بندی میں شامل کرنا ہوگا۔

یہ صرف کاغذ کی کہانی نہیں، یہ مٹیریل وژن کی کہانی ہے۔ چین کا “ریت کاغذ” ایک وسیع تحریک کا حصہ ہے
پتھر سے بنا کاغذ، مشروم سے بنا چمڑا، الجی سے تیار شدہ پلاسٹک، اور بانس سے بنی اشیاء۔ یہ جدتیں روایتی استخراجی صنعتوں کو چیلنج کرتی ہیں اور قابلِ تجدید متبادل پیش کرتی ہیں۔ آخر میں، یہ امکانات کی وہ کہانی ہے جو کمی کو طاقت میں بدلتی ہے، فضلے کو دولت میں ڈھالتی ہے، اور صحرا کو پائیداری کے انجن میں تبدیل کرتی ہے۔ یہ وہ کہانی ہے جو پاکستان کو بھی لکھنی چاہیے ۔ایسے کاغذ پر جو زمین کو نقصان نہ پہنچائے، بلکہ اس کی سانسوں کو سہارا دے۔