اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین

تعلیم اورسیاسی شعور پاکستان کامستقبل کس سمت جا رہا ہے؟

تعلیم اورسیاسی شعور پاکستان کامستقبل کس سمت جا رہا ہے؟

تعلیم اورسیاسی شعور پاکستان کامستقبل کس سمت جا رہا ہے؟

تحریر: سیدہ زہرا فاطمہ

پاکستان جیسے جمہوری ملک میں تعلیم اور سیاسی شعور کا تعلق ایک دوسرے سے نہایت گہرا اور فیصلہ کن ہے۔ قوموں کی ترقی کا دار و مدار اس بات پر ہوتا ہے کہ ان کے افراد کتنے باشعور، ذمہ دار اور باخبر ہیں۔ اگر تعلیم کسی قوم کو ترقی کی بنیاد فراہم کرتی ہے تو سیاسی شعور اسے اس ترقی کی سمت دیتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں یہ دونوں طاقتیں ایک دوسرے کا ساتھ دے رہی ہیں یا ہم اب بھی لاعلمی، جذباتیت اور غیر ذمہ دار رویوں کے درمیان الجھے ہوئے ہیں؟تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا یا امتحان پاس کرنا نہیں، بلکہ سوچنے، سمجھنے اور بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں تعلیمی نظام ابھی تک امتحان پاس کرنے تک محدود ہے، زندگی سمجھنے تک نہیں۔ ہمارے نصاب میں وہ پہلو بہت کم ہیں جو طلبہ کو معاشرتی اور سیاسی معاملات پر غور و فکر کرنے کی ترغیب دیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل تعلیم یافتہ تو ہے مگر باشعور نہیں۔ وہ سیاست کے نعروں سے تو واقف ہے مگر سیاسی عمل کے بنیادی اصولوں سے لاعلم ہے۔
سیاسی شعور کسی بھی معاشرے میں جمہوریت کی بنیاد ہے۔ جب عوام یہ سمجھنے لگیں کہ ان کی رائے، ووٹ اور فیصلہ ملک کے مستقبل پر اثر انداز ہوتا ہے، تب ہی جمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔ پاکستان میں سیاسی شعور ابھی تک محدود طبقے تک ہے۔ اکثریت ووٹ ڈالتی ہے مگر اپنے فیصلے کے اثرات کو نہیں سمجھتی۔ امیدوار کا انتخاب کارکردگی کے بجائے زبان، برادری یا تعلق کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ نتیجتاً جمہوریت ایک نعرہ تو بن جاتی ہے مگر نظام نہیں۔پاکستان میں سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کو سیاست سے الگ کر دیا گیا ہے۔ طلبہ یونینز پر پابندی نے نوجوانوں کو سیاسی تربیت کے بنیادی پلیٹ فارم سے محروم کر دیا۔ ایک پوری نسل اختلافِ رائے، بحث و مباحثہ اور فیصلہ سازی کے عمل سے ناواقف رہ گئی۔ جب یہی نسل عملی سیاست میں آتی ہے تو وہ دلیل کے بجائے جذبات پر انحصار کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے بیشتر سیاستدان کتاب سے زیادہ قبیلے اور علم سے زیادہ تعلق کو ترجیح دیتے ہیں۔
پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو کسی بھی قوم کے لیے ایک طاقتور سرمایہ ہے۔ لیکن افسوس کہ یہی طبقہ سب سے زیادہ غیر سیاسی اور غیر متحرک ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے معلومات تو فراوانی سے فراہم کی ہیں مگر سمت کا تعین نہیں کیا۔ سیاسی شعور کی کمی نے سوشل میڈیا کے نعروں کو حقیقت پر غالب کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دلیل کی جگہ وائرل ہونے نے لے لی ہے، اور سوچنے کے بجائے شور زیادہ سنائی دیتا ہے۔اگر پاکستان کو مضبوط اور باشعور ملک بنانا ہے تو ہمیں تعلیم اور سیاست کے درمیان حائل دیوار کو گرانا ہوگا۔ نصاب میں شہری اور سیاسی تعلیم کو لازمی بنایا جائے، طلبہ یونینز کو مثبت انداز میں بحال کیا جائے اور اساتذہ کو سیاسی و سماجی تربیت کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں۔ نوجوانوں کو صرف ووٹر نہیں بلکہ فیصلہ ساز شہری کے طور پر تیار کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں تعلیم یافتہ مگر غیر باشعور نسل مستقبل کی سمت طے کرے گی۔ اگر ہم نے تعلیم کو صرف روزگار کا ذریعہ سمجھا اور سیاسی تربیت کو غیر ضروری سمجھا، تو ترقی کی منزل ہم سے ہمیشہ دور رہے گی۔ لیکن اگر ہم نے تعلیم کے ساتھ شعور کو لازم کر لیا تو یہی نوجوان کل کے رہنما ہوں گے جو اقتدار کے لیے نہیں بلکہ انصاف، مساوات اور خدمت کے لیے سیاست کریں گے۔پاکستان کا مستقبل اسی وقت روشن ہوگا جب ہماری نئی نسل تعلیم کے ساتھ سیاسی فہم بھی حاصل کرے گی۔ جب وہ کتاب سے علم اور معاشرے سے سچائی سیکھے گی۔ سیاست برائی نہیں، اگر اسے نیت، علم اور دیانت کے ساتھ کیا جائے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو صرف تعلیم نہیں بلکہ وہ فہم دیں جو قوموں کی تقدیر بدل دیتی ہے۔
جیسا کہ کہا گیا ہے تعلیم انسان کو جیتنا سکھاتی ہے، مگر سیاسی شعور اسے یہ سکھاتا ہے کہ جیتنا کیوں ضروری ہے۔