نان فائلرز کے لیے اے ٹی ایم ٹرانزیکشنز پر اضافی ٹیکس اور بینک چارجز میں اضافہ
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نان فائلرز کے لیے بینک ٹرانزیکشنز پر اضافی ٹیکس کی وصولی شروع کر دی ہے۔ اس کے تحت نان فائلرز سے بینکوں سے رقم نکلوانے پر 0.6 فیصد کی کٹوتی کو بڑھا کر 0.8 فیصد کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، بینکوں نے بھی اے ٹی ایم کارڈ فیس، ایس ایم ایس الرٹ فیس اور دوسرے بینک کے اے ٹی ایم استعمال کی فیس میں اضافہ کیا ہے، جس سے صارفین اور بینک عملے کے درمیان تنازعات میں اضافہ ہوا ہے۔ بینکوں نے ون لنک سے شیڈول چارجز پر نظر ثانی کے لیے رابطہ کر لیا ہے۔
نئے چارجز کے مطابق:
- دوسرے بینک کے اے ٹی ایم استعمال کی فیس 18 روپے سے بڑھا کر 34 روپے فی ٹرانزیکشن کر دی گئی ہے۔
- اے ٹی ایم کارڈ فیس میں 700 روپے اضافہ کیا گیا ہے۔
- ایس ایم ایس الرٹ سروس فیس 800 روپے اضافے کے ساتھ 2,000 روپے کر دی گئی ہے۔
- کیش کاونٹر کے ذریعے 20,000 روپے نکلوانے پر نان فائلرز سے 522 روپے کٹوتی ہوگی۔
- اے ٹی ایم کے ذریعے رقوم نکالنے کی یومیہ حد اسٹینڈرڈ ڈیبٹ کارڈ کے لیے 25,000 سے 50,000 روپے، پریمئم کارڈ کے لیے 500,000 روپے، اور فارن ڈیبٹ کارڈ کے لیے 200 سے 500 ڈالر کے برابر مقرر کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ، انٹرنیشنل اے ٹی ایم کے ذریعے رقم نکلوانے پر فیس کا انحصار بینک کے طریقہ کار پر ہوگا۔ نئے ٹیکس ریٹ اور چارجز کے بعد صارفین اور بینک انتظامیہ کے درمیان جھگڑے شروع ہو گئے ہیں، جس کے باعث بینکوں نے شیڈول چارجز پر نظرثانی کے لیے ون لنک سے رجوع کر لیا ہے۔
وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ یہ اقدام نقد معیشت کو منظم اور ٹیکس کلیکشن کو فروغ دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے، تاہم صارفین کے لیے بینکنگ لین دین میں آسانی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔




