آزادکشمیر کی صورتحال کالعدم ایکشن کمیٹی کی پیدا کردہ ہے،لطیف اکبر-آزاد کشمیر کے قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال کالعدم ایکشن کمیٹی کی پیدا کردہ ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آزادکشمیر فیصل راٹھور کالعدم ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر کے گھر گئے اور معاملات حل کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ وزیراعظم نے ایک ہفتے کا وقت بھی مانگا تاکہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کیا جا سکے، تاہم شوکت نواز میر نے اس پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔
چوہدری لطیف اکبر کے مطابق حکومت اور سیاسی جماعتیں مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہیں، اور بلاول بھٹو زرداری نے بھی مذاکرات کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت ایکشن کمیٹی سے بات چیت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالنا چاہیے، اسی طرح ایران اور امریکا کی مثال بھی دی جا سکتی ہے کہ وہ بھی مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ منگل کو اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم اور دیگر ارکان پالیسی بیان دیں گے، جبکہ ن لیگ بھی صورتحال پر مذاکرات کی بات کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو کشمیر کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا موقع نہیں دیا جا سکتا، اور ایکشن کمیٹی سے اپیل ہے کہ وہ بات چیت کے ذریعے حل نکالے۔
دوسری جانب سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد نے کہا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال تشویشناک ہے اور اسے فوری طور پر سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں ٹورازم اور معمولات زندگی متاثر نہیں ہونے چاہئیں اور انتخابی عمل بروقت جاری رہنا چاہیے۔