رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک کے تحت امریکی فوج کے خطے میں بعض بحری اقدامات اور مبینہ ناکہ بندی کے خاتمے کی بات کی گئی ہے، جبکہ جواب میں ایران ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال کرے گا۔ تاہم اس میں فوجی بحری جہاز شامل نہیں ہوں گے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت اور روٹس کے انتظامات عمان کے تعاون سے ایران کے سپرد کیے جانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اگر 60 دن کے اندر حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابند قرارداد کی شکل دی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ فریم ورک ابھی حتمی نہیں اور ایران کسی بھی اقدام سے قبل ٹھوس اور عملی تصدیق کا مطالبہ کرتا ہے۔