ایران کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے کہا ہے کہ ایرانی افواج ہر ممکن صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی نئی جنگ کی صورت میں فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ترجمان نے کہا کہ ایران نے جنگ کو کبھی مکمل طور پر ختم نہیں سمجھا اور عارضی خاموشی کے بعد بھی دشمن پر عدم اعتماد کے باعث دفاعی تیاریوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق اسی بنیاد پر نئے اہداف بھی طے کیے جا چکے ہیں۔
بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے دعویٰ کیا کہ جنگ سے قبل انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر تمام یونٹس ہائی الرٹ تھے اور فوری ردعمل کی صلاحیت برقرار رکھی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اصفہان میں مبینہ دراندازی کے دوران زمینی افواج نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے ڈرونز کو نشانہ بنایا، جس کے باعث کارروائی ناکام ہوئی۔
ترجمان کے مطابق جنگ کے دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام نے 170 سے زائد ڈرونز اور 16 لڑاکا طیارے مار گرائے، جبکہ مختلف دفاعی یونٹس نے بھرپور کردار ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی مراحل میں ایرانی فضائیہ نے خطے میں موجود بعض فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔ ترجمان نے ایک امریکی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایک ایف-5 طیارے نے سخت دفاعی نظام عبور کرتے ہوئے امریکی اڈے کو نشانہ بنایا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ایرانی بحریہ نے خطے میں مختلف اہداف پر کروز میزائل اور ڈرون حملے کیے اور امریکی بحری جہازوں کو ایرانی ساحل کے قریب آنے سے روکا گیا، جن میں طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن بھی شامل ہے۔