اقوام متحدہ کی جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق کانفرنس میں امریکا اور ایران کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔
کانفرنس کے آغاز پر دونوں ممالک کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے کردار پر شدید اختلافات سامنے آئے۔ یہ اجلاس چار ہفتوں تک جاری رہنے کا امکان ہے اور اس دوران مزید کشیدگی کی توقع کی جا رہی ہے۔
تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب کانفرنس کے 34 نائب صدور میں ایران کو شامل کیا گیا، جو نامزدگی غیر وابستہ تحریک کی جانب سے دی گئی تھی۔ اس تحریک میں 121 ترقی پذیر ممالک شامل ہیں۔
امریکا کو اس معاملے پر آسٹریلیا اور متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل رہی، جبکہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے بھی اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ دوسری جانب روس نے ایران کو ہدف بنانے کی مخالفت کی۔
امریکی نمائندے نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو حیرت ہے کہ ایک ایسا ملک جس پر معاہدے سے عدم تعاون کے الزامات ہیں، اسے کانفرنس کا نائب صدر بنا دیا گیا ہے۔
ویانا میں اقوام متحدہ کے لیے ایران کے سفیر رضا نجفی نے امریکی مؤقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی ہیں۔