امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نے عراق کو امریکی ڈالرز کی ترسیل معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جسے خطے میں اہم سفارتی اور معاشی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس اقدام کے ساتھ ساتھ امریکا نے عراقی فوج کے ساتھ سکیورٹی تعاون کے کئی پروگرام بھی عارضی طور پر منجمد کر دیے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، کیونکہ واشنگٹن خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا چاہتا ہے۔
مزید برآں امریکی محکمۂ خزانہ نے ایک کارگو طیارہ بھی روک لیا، جس میں تقریباً 50 کروڑ ڈالر مالیت کی امریکی کرنسی موجود تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات کا مقصد مالی نگرانی کو سخت بنانا اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کی روک تھام ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے سے امریکا اور عراق کے تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی میں بھی اضافہ متوقع ہے۔