مولانا فضل الرحمان نےحکومت میں شمولیت سے انکارکر دیا ہے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت موجودہ حکومت کا حصہ نہیں بنے گی اور اپوزیشن میں رہتے ہوئے اپنا سیاسی کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی اقتدار کے حصول کے بجائے آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہو چکا ہے اور انتخابی نتائج عوامی رائے کے بجائے بیرونی اثرات کے تحت مرتب کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں عام انتخابات کے نتائج مسترد کیے گئے تھے، تاہم آج انہی متنازع نتائج کی بنیاد پر ملک میں حکومت قائم ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے موجودہ حکومت کو عوامی طاقت کے بجائے سیاسی جوڑ توڑ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی اکثریت صرف عوام کے ووٹ سے ہی حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن کسی ایک حلقے کا نتیجہ بھی خود تیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
انہوں نے جماعت میں نئے شامل ہونے والے کارکنان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شمولیت سے جمہوری جدوجہد کو مزید تقویت ملے گی اور سیاسی شعور میں اضافہ ہوگا۔
جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ جماعت عوامی مفاد، شفافیت اور آئین کی بالادستی کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ ان کے مطابق اقتدار کا حصول مقصد نہیں بلکہ عوام کے حقوق کا تحفظ اور جمہوری نظام کی مضبوطی ہی جماعت کی اصل ترجیح ہے۔