وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کی منصوبہ بندی داعش خراسان (افغانستان) نے کی جبکہ حملے کا ماسٹر مائنڈ سیکیورٹی اداروں کی حراست میں ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حالیہ حملے نے پوری قوم کو غمزدہ کر دیا ہے اور شہداء کے لیے دعا گو ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے واقعے سے منسلک تمام سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔
وزیر داخلہ کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد پشاور اور نوشہرہ میں چھاپے مارے گئے، جبکہ تفتیش میں شواہد سامنے آئے ہیں کہ حملہ آور کو افغانستان میں تربیت دی گئی اور وہیں حملے کی مکمل منصوبہ بندی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ چھاپوں کے دوران خیبر پختونخوا کا ایک اہلکار شہید اور چند زخمی بھی ہوئے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان اس وقت حالتِ جنگ میں ہے اور دہشت گردی کے خلاف عوامی تعاون اور کمیونٹی انٹیلی جنس نہایت اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے متعدد دہشت گرد تنظیمیں آپریٹ کر رہی ہیں، تاہم سیکیورٹی اداروں نے متعدد ممکنہ حملوں کو بروقت ناکام بنایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت بھارت کر رہا ہے اور مئی میں ہونے والی ناکامی کے بعد دہشت گردی کے لیے فنڈنگ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں حالیہ کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے مؤثر ردعمل دیا ہے۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد دھماکے سے قبل ریکی کرنے والے افراد سمیت چار دہشت گرد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے والی تمام دہشت گرد تنظیمیں ایک ہی دشمن کا حصہ ہیں۔
محسن نقوی نے بتایا کہ دہشت گردی میں استعمال ہونے والے متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے اور متعلقہ پلیٹ فارمز کو ان کے خلاف کارروائی کا کہا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے کبھی دہشت گردی کی حمایت نہیں کی۔
انہوں نے سیکیورٹی نظام میں بہتری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے داخلی راستوں اور پولیس سسٹم کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔