اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ کے قریب دھماکے میں 12 نماز شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ریسکیو ٹیمیں اور بم ڈسپوزل اسکواڈ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔
ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکا امام بارگاہ کے مرکزی ہال کے دروازے کے قریب ہوا، جبکہ ذرائع کی جانب سے واقعے کی نوعیت خودکش حملے کے طور پر بھی ظاہر کی جا رہی ہے، تاہم حتمی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر وفاقی دارالحکومت میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور تمام سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد پولی کلینک، پمز اور سی ڈی اے اسپتال میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
ترجمان پمز کے مطابق ای ڈی پمز کی ہدایت پر اسپتال کے تمام اہم شعبے مکمل طور پر فعال کر دیے گئے ہیں، جن میں مین ایمرجنسی، آرتھوپیڈک، برن سینٹر اور نیورو ڈیپارٹمنٹ شامل ہیں۔ زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں امام بارگاہ کے مرکزی ہال اور اطراف میں زخمی افراد کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیوز کے مطابق عمارت کو شدید نقصان نہیں پہنچا تاہم مرکزی دروازے پر دھماکے کے واضح آثار موجود ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور واقعے کی نوعیت اور ذمہ دار عناصر کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔