وزیر دفاع خواجہ آصف نے انکشاف کیا ہے کہ بلوچستان میں تیل کی اسمگلنگ کے ذریعے دہشت گرد عناصر روزانہ تقریباً 4 ارب روپے کماتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب حکومت نے اسمگلنگ اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں تیز کیں تو ان عناصر نے ریاست کے خلاف بغاوت کا راستہ اختیار کرلیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان میں تیل سمیت مختلف اشیا کی اربوں روپے کی اسمگلنگ طویل عرصے سے جاری رہی ہے، تاہم موجودہ حکومت اس غیرقانونی کاروبار کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسمگلرز ایران سے 40 روپے فی لیٹر تیل خرید کر کراچی میں 200 روپے فی لیٹر فروخت کر رہے تھے، جس سے صرف اسمگل شدہ تیل سے یومیہ 4 ارب روپے کا منافع حاصل کیا جا رہا تھا۔
وزیر دفاع کے مطابق جب ایرانی تیل کی اسمگلنگ روکی گئی تو انہی مفادات کے تحفظ کے لیے امن و امان کو خراب کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں تین دہائیوں سے سیکیورٹی مسائل مختلف عوامل کے باعث موجود ہیں، جن میں جرائم پیشہ عناصر، اسمگلرز اور ان کے سہولت کار شامل ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان میں پیش آنے والے واقعات پوری قوم کے لیے ایک بڑا سانحہ ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردی کو افغانستان سے سپورٹ مل رہی ہے، دہشت گردوں کی قیادت وہاں موجود ہے اور بھارت ان سرگرمیوں میں ملوث ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں، جن کے نتیجے میں 177 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جبکہ ان آپریشنز میں 17 سیکیورٹی اہلکار اور دہشت گرد حملوں میں 33 شہری شہید ہوئے۔
وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ پراکسیز سرگرم ہیں، تاہم ان کی کسی بھی علاقے میں رٹ قائم نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کسی کو تشدد کی اجازت نہیں دے گی اور دہشت گردی کا جواب پوری طاقت سے دیا جائے گا۔
خواجہ آصف نے بتایا کہ پاکستان کے قیام کے وقت بلوچستان میں سڑکوں کا جال نہ ہونے کے برابر تھا، جبکہ آج صوبے میں 26 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو ترقیاتی فنڈز کی مد میں 100 ارب روپے دیے جا چکے ہیں جبکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کا حصہ 933 ارب روپے بنتا ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ وفاق اور صوبوں کی سطح پر کرپشن ایک سنگین مسئلہ ہے جو ملک کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے، تاہم انہوں نے بلوچستان میں محرومی کے بیانیے کو بے بنیاد قرار دیا۔
وزیر دفاع کے مطابق بلوچستان میں اس وقت 15 ہزار سے زائد اسکول، 13 کیڈٹ کالجز، 13 بڑے اسپتال اور ملک کے کسی بھی صوبے سے زیادہ ایئرپورٹس موجود ہیں، جن میں سے غیر فعال ایئرپورٹس کو فعال کیا جا رہا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ریاست دشمن عناصر سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ انہوں نے جعفر ایکسپریس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بے گناہ مزدوروں کا قتل کسی بھی بیانیے کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ فساد اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
آخر میں وزیر دفاع نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر دہشت گردی کے خلاف متحد ہوں اور پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہوں، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میں اسی خبر کی مختصر ورژن، سرخی، یا سوشل میڈیا کے لیے الگ کاپی بھی بنا سکتا ہوں۔