اگلی بار اسکور 0-6 نہیں بلکہ 0-60 ہوگا
یومِ دفاع کے موقع پر مزارِ قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب ہوئی، جس میں پاک فضائیہ اکیڈمی اصغر خان کے دستے نے گارڈز کے فرائض سنبھالے۔ مہمانِ خصوصی ایئر وائس مارشل شہریار خان نے مزار پر پھول چڑھائے، تاثرات قلمبند کیے اور پی اے ایف دستے کا معائنہ بھی کیا۔
تقریب سے خطاب میں ایئر وائس مارشل شہریار خان نے کہا کہ پاک فضائیہ ہمیشہ قوم کی امیدوں پر پوری اتری ہے اور دفاعِ وطن کے لیے ہمہ وقت تیار کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا:
اگلی بار اسکور 0-6 نہیں بلکہ 0-60 ہوگا، دشمن کو ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی اور آئندہ بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔”**
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن بنیان مرصوص نے 6 ستمبر کی یاد تازہ کر دی، یہ دن اس عزم کی علامت ہے جب دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا گیا۔
ایئر وائس مارشل نے مزید کہا کہ پاک فضائیہ نہ صرف جنگ بلکہ قدرتی آفات اور ریسکیو آپریشنز میں بھی پیش پیش رہی ہے۔ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں فضائیہ مزید جدید خطوط پر استوار ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہداء نے وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، آج ہم ان کو اور ان کے اہلِ خانہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کی فضائی حدود کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔
ملک بھر میں یومِ دفاع و شہداء قومی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے۔ دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی سے ہوا جبکہ نمازِ فجر کے بعد ملکی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
رواں برس مئی میں ہونے والی جنگ میں بھی پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کا غرور توڑتے ہوئے رافیل طیاروں سمیت کئی جنگی جہاز گرائے اور متعدد ایئر فیلڈز تباہ کیے تھے۔