ٹرمپ کے تجارتی ایجنڈے کو بڑا دھچکا-ٹرمپ کے تجارتی ایجنڈے کو بڑا دھچکا-سپریم کورٹ کے ٹیرف سے متعلق حالیہ فیصلے نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجارتی ایجنڈے کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس سے ان کی ٹیرف پالیسی مکمل طور پر ختم نہیں ہوگی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ امریکی صدر کو کسی بھی وجہ سے کسی بھی ملک پر بڑے پیمانے پر عالمی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں، کیونکہ آئین کے تحت یہ اختیار کانگریس کے پاس ہے۔ تاہم عدالت نے مخصوص ممالک سے مخصوص اشیا پر عائد بعض محصولات کو برقرار رکھتے ہوئے انتظامیہ کو اپنی پالیسی کو قانونی دائرے میں رہتے ہوئے بحال کرنے کا راستہ بھی دکھا دیا ہے۔
ماضی میں بھی امریکی صدور محدود مدت یا مخصوص اشیا پر ٹیرف عائد کرتے رہے ہیں۔ 1971 میں صدر رچرڈ نکسن نے کرنسی بحران سے نمٹنے کے لیے درآمدات پر محصولات لگائے تھے جو چار ماہ تک برقرار رہے۔ اسی طرح 2003 میں صدر جارج ڈبلیو بش نے اسٹیل کی درآمدات پر ٹیرف عائد کیے جو تقریباً نو ماہ تک نافذ رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ ماضی کے ان ماڈلز کی پیروی کرتے تو ان کی بیشتر ٹیرف پالیسیاں قانونی چیلنجز سے محفوظ رہ سکتی تھیں۔ حالیہ عدالتی فیصلہ انتظامیہ کو مستقبل میں زیادہ ٹارگٹڈ اور محدود مدت کے ٹیرف متعارف کرانے پر مجبور کر سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے لیے تجارتی تحفظ پسندی ایک دیرینہ مؤقف ہے اور وہ چین سمیت دیگر معاشی حریفوں کے مقابلے کے لیے جارحانہ ٹیرف پالیسی کے حامی رہے ہیں۔ اس لیے امکان ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی پابندیوں کے باوجود اپنے تجارتی ایجنڈے کو کسی نہ کسی شکل میں آگے بڑھانے کی کوشش جاری رکھیں گے۔
