قومی اسمبلی نے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق متنازع بل منظور کر لیا-قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔ اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیرِ صدارت ہوا، جس دوران اپوزیشن کی جانب سے نعرے بازی بھی کی گئی۔
بل پر بحث کے دوران جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے قوانین بناتے ہوئے غیر ضروری تنازعات سے بچنا ضروری ہے، تاکہ کسی گروہ کو غلط فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حساس معاملات میں احتیاط اور وضاحت ناگزیر ہے۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ قانون سازی میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے، تاہم اسلام کے منافی کسی قانون کی منظوری نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے بل پر جامع اور تفصیلی بحث کا مطالبہ کیا۔
جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بل کے چند سیکشنز، خاص طور پر سیکشن 12 کی کلاز ’’ایچ‘‘ اور سیکشن 35 پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان شقوں پر عمل درآمد سے عدالتوں کے موجودہ اختیارات متاثر ہو سکتے ہیں۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو یقین دلایا کہ عدالتوں کے اختیارات برقرار رہیں گے جبکہ کمیشن کے سوموٹو اختیار کے حوالے سے بھی تجاویز قبول کی جا رہی ہیں۔
بحث کے دوران مولانا فضل الرحمان نے متنبہ کیا کہ حساس مذہبی معاملات میں احتیاط ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مسائل میں الجھنے کے بجائے واضح مؤقف اپنانا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے قادر پٹیل اور علامہ راجہ ناصر عباس نے بھی بل پر اعتراضات اٹھائے۔ قادر پٹیل نے کہا کہ وہ مذہبی معاملات میں کسی قسم کی لچک کی حمایت نہیں کریں گے اور بل کی چند مخصوص شقوں پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔
رائے شماری کے دوران اپوزیشن نے ’’نو‘‘ کے نعرے لگائے، تاہم حتمی نتائج کے مطابق 160 اراکین نے بل کے حق میں اور 79 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ شق وار منظوری کے دوران جے یو آئی کی جانب سے سیکشن 35 میں ترمیم اور کمیشن کے سوموٹو اختیار واپس لینے کی تجویز قبول کر لی گئی۔
