آزاد کشمیر انتخابات:میرپور ڈویژن کے 13 حلقوں میں پولنگ کا آغاز،سیکیورٹی کے سخت انتظامات

آزاد کشمیر انتخابات:میرپور ڈویژن کے 13 حلقوں میں پولنگ کا آغاز،سیکیورٹی کے سخت انتظامات

آزاد کشمیر انتخابات:میرپور ڈویژن کے 13 حلقوں میں پولنگ کا آغاز- آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کے 13 انتخابی حلقوں میں پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں ووٹرز حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کر رہے ہیں۔

انتخابی عمل صبح 8 بجے شروع ہوا، جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا۔ میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے مختلف حلقوں میں متعدد سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

الیکشن حکام کے مطابق میرپور ڈویژن میں ووٹنگ کے لیے مجموعی طور پر 2 ہزار 454 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں میرپور میں 597، کوٹلی میں ایک ہزار 107 اور بھمبر میں 608 پولنگ اسٹیشن شامل ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 14 لاکھ سے زائد ہے، جبکہ انتخابی میدان میں مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں سمیت متعدد امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔

حساس اور انتہائی حساس قرار دیے گئے پولنگ اسٹیشنز پر اضافی سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ ووٹنگ کا عمل پرامن اور شفاف انداز میں مکمل ہو سکے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز کوٹلی میں ڈیوٹی پر تعینات دو پریزائیڈنگ افسران کو ضابطہ کار کی خلاف ورزی پر معطل کر کے گرفتار کر لیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق دونوں افسران پولنگ اسٹیشن پہنچنے کے بجائے ایک نجی رہائش گاہ چلے گئے تھے، جس کے بعد ان کی جگہ نئے پریزائیڈنگ افسران تعینات کر دیے گئے تاکہ انتخابی عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔

فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے لاکھوں صارفین کو خبردار کر دیا،کیو آر کوڈ اسکین کرنا لازمی

فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے لاکھوں صارفین کو خبردار کر دیا،کیو آر کوڈ اسکین کرنا لازمی

فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے لاکھوں صارفین کو خبردار کر دیا-فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) نے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کو ہدایت کی ہے کہ حکومتی سبسڈی کے تسلسل کے لیے اپنے بجلی کے بل پر موجود کیو آر کوڈ کے ذریعے تصدیقی عمل جلد از جلد مکمل کریں۔

فیسکو کے مطابق وزارتِ توانائی کی ہدایات کے تحت صارفین کی رجسٹریشن مہم جاری ہے، جس کا مقصد مستحق صارفین تک حکومتی سبسڈی کی شفاف اور بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا اور بجلی کے نظام کو مزید ڈیجیٹل اور محفوظ بنانا ہے۔

ترجمان فیسکو کا کہنا ہے کہ ریجن میں سبسڈی کے اہل پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد 39 لاکھ 51 ہزار 336 ہے، جن میں سے اب تک 17 لاکھ 13 ہزار 110 صارفین کیو آر کوڈ اسکین کر کے اپنی رجسٹریشن مکمل کر چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 22 لاکھ 38 ہزار 126 صارفین اب بھی رجسٹریشن سے محروم ہیں، جس کے باعث مستقبل میں انہیں حکومتی سبسڈی کے حصول میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

فیسکو نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے تازہ ترین بجلی کے بل پر موجود کیو آر کوڈ کو موبائل فون سے اسکین کریں، قومی شناختی کارڈ نمبر اور رجسٹرڈ موبائل نمبر درج کریں، پھر موصول ہونے والا ون ٹائم پاس ورڈ داخل کر کے تصدیقی عمل مکمل کریں۔

فیسکو انتظامیہ کے مطابق اس نظام کا مقصد سبسڈی کے غلط استعمال کی روک تھام اور حکومتی ریلیف کو صرف مستحق صارفین تک پہنچانا ہے۔

ترجمان نے صارفین کو خبردار کیا کہ وہ صرف اپنے اصل بجلی کے بل پر موجود کیو آر کوڈ استعمال کریں اور کسی بھی جعلی ویب سائٹ، مشکوک لنک یا غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز فراہم نہ کریں۔

اسرائیلی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں دو مساجد کو آگ لگا دی

اسرائیلی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں دو مساجد کو آگ لگا دی

اسرائیلی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں دو مساجد کو آگ لگا دی-مقبوضہ مغربی کنارے میں دو الگ الگ مساجد کو آگ لگائے جانے کے بعد علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ فلسطینی حکام نے ان واقعات کا الزام اسرائیلی آبادکاروں پر عائد کیا ہے، جبکہ اسرائیلی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلا واقعہ نابلس کے جنوب میں واقع قصبہ قصرہ میں پیش آیا، جہاں زیرِ تعمیر ایک مسجد کو آگ لگا دی گئی۔ مقامی حکام کے مطابق آگ سے مسجد کے مرکزی دروازے، داخلی حصے اور پتھروں سے تعمیر شدہ دیواروں کو نقصان پہنچا۔

قصبہ قصرہ کے میئر عبدال عظیم وادی نے بتایا کہ حملہ آوروں نے مسجد کی دیواروں پر عبرانی زبان میں نعرے بھی تحریر کیے، جن میں انتقامی نوعیت کے الفاظ شامل تھے۔ ان کے مطابق واقعے کے بعد مقامی افراد نے آگ بجھانے کی کوشش کی اور متعلقہ حکام کو اطلاع دی۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بتایا کہ اطلاع ملنے کے بعد سکیورٹی اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے، تاہم مشتبہ افراد پہلے ہی فرار ہو چکے تھے۔ فوج کے مطابق مقام سے آتشزدگی اور دیواروں پر تحریر کیے گئے نعروں کے شواہد ملے ہیں، جبکہ اسرائیلی پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ادھر فلسطینی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور نے ایک اور واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ طولکرم کے قریب واقع گاؤں کور میں بھی ایک مسجد کو آگ لگا دی گئی۔ وزارت کے مطابق مسجد کی دیواروں پر نسل پرستانہ نعرے بھی درج کیے گئے، جس پر مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور آبادکاروں کے حملوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں مختلف علاقوں میں جھڑپوں، گرفتاریوں اور تشدد کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز تل نامی گاؤں میں اسرائیلی آبادکاروں اور فلسطینیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد اسرائیلی فورسز نے نابلس اور گردونواح میں سرچ آپریشن کرتے ہوئے متعدد فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔

فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں فوجی کارروائیوں اور آبادکاروں کے حملوں کے نتیجے میں کم از کم 1,097 فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ خطے میں سکیورٹی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔

دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے پر پاکستان اور کویت متفق

دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے پر پاکستان اور کویت متفق

دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے پر پاکستان اور کویت متفق-کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی تفصیلات باضابطہ طور پر جاری کر دی ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک دفاعی شعبے میں تعاون، تربیت، معلومات کے تبادلے اور تکنیکی اشتراک کو مزید فروغ دیں گے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ 2023 میں طے پایا تھا، تاہم اس معاہدے کی تفصیلات کویتی حکومت نے اب اپنے سرکاری گزٹ میں شائع کی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ کوئی نیا معاہدہ نہیں بلکہ پہلے سے موجود دفاعی تعاون کے فریم ورک کی تفصیلات کو عوامی سطح پر جاری کیا گیا ہے۔

معاہدے کے تحت پاکستان اور کویت دفاعی شعبے میں مختلف امور پر مل کر کام کریں گے، جن میں فوجی تربیت، دفاعی تجربات کا تبادلہ، معلومات اور انٹیلی جنس شیئرنگ شامل ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں تعاون کو بھی معاہدے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دفاعی ماہرین، تکنیکی عملے اور متعلقہ شعبوں سے وابستہ اہلکاروں کے تبادلے کا بھی امکان ہے تاکہ دونوں ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں اور تجربات میں اضافہ کر سکیں۔

پاکستان اور کویت کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جن میں دفاع، تجارت، توانائی اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔ پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ سیکیورٹی تعاون میں اہم کردار رکھتا ہے، جبکہ کویت خطے میں اپنے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کی فوجی تربیت اور آپریشنل تجربات کو خطے میں اہم سمجھا جاتا ہے، جبکہ کویت کے ساتھ دفاعی تعاون دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان اور کویت مستقبل میں بھی باہمی مفادات کے تحت دفاعی اور دیگر شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

تربت میں ایف سی کے جدید ہسپتال کا افتتاح

تربت میں ایف سی کے جدید ہسپتال کا افتتاح

تربت میں ایف سی کے جدید ہسپتال کا افتتاح-وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے تربت میں فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان (ساؤتھ) ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جدید طبی سہولتوں سے آراستہ ایف سی ہسپتال کا افتتاح کیا۔

دورے کے دوران وزیرِ داخلہ نے او پی ڈی، مختلف وارڈز، ایم آر آئی، سی ٹی اسکین رومز اور آپریشن تھیٹر کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں دکھی انسانیت کی خدمت جذبے اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دینے کی تلقین کی۔

محسن نقوی نے مختصر مدت میں جدید ہسپتال کی تعمیر اور اسے فعال بنانے پر آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) میجر جنرل بلال سرفراز خان اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ تربت میں جدید طبی سہولتوں سے آراستہ ہسپتال علاقے کی اہم ضرورت تھا، جس سے نہ صرف ایف سی کے اہلکار بلکہ مقامی آبادی بھی معیاری علاج کی سہولت حاصل کر سکے گی۔

اس موقع پر وزیرِ داخلہ کو ہسپتال میں دستیاب طبی سہولتوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے فورس کی پیشہ ورانہ تربیت، سیکیورٹی انتظامات اور جاری فیلڈ آپریشنز سے بھی آگاہ کیا۔

محسن نقوی نے ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) کی پیشہ ورانہ تیاریوں کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف فورس کی کامیاب کارروائیوں کی تعریف کی۔ انہوں نے فتنہ الہندوستان سمیت تمام کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر ایف سی بلوچستان (نارتھ) کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

مون سون بارشیں،دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند،بھکر میں فلڈ الرٹ جاری

مون سون بارشیں،دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند،بھکر میں فلڈ الرٹ جاری

مون سون بارشیں،دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند-پنجاب سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں جاری مون سون بارشوں کے باعث دریائے سندھ میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جس کے پیش نظر ضلع بھکر میں نچلے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق چشمہ بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 61 ہزار 224 کیوسک جبکہ اخراج 3 لاکھ 56 ہزار 977 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران دریا میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، جس پر کڑی نگرانی رکھی جا رہی ہے۔

ڈپٹی کمشنر بھکر احسان علی جمالی کے مطابق ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام حفاظتی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ متعلقہ محکموں کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، انجینئرز کو 24 گھنٹے ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا ہے جبکہ بھاری مشینری بھی حساس مقامات پر منتقل کر دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق حفاظتی بندوں کی مسلسل نگرانی جاری ہے اور دریائی علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپ بھی فعال کر دیے گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ بارشوں کے باعث پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم موجودہ صورتحال قابو میں ہے اور شہریوں کو بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

دوسری جانب گڑھ مہاراجہ میں موسلا دھار بارش کے باعث معمولات زندگی متاثر ہوئے۔ مین بازار گڑھ موڑ میں واقع ایک مسجد میں بارش کا پانی داخل ہونے سے اندرونی حصہ زیرِ آب آ گیا، جس کے باعث نمازیوں اور دینی طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

مقامی شہریوں نے نکاسیٔ آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارش کے بعد بازار اور مذہبی مقامات پر پانی جمع ہونا معمول بن چکا ہے، جس کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

پاسداران انقلاب کا دعویٰ:ایرانی حملوں میں 200 سے زائد امریکی فوجی ہلاک

پاسداران انقلاب کا دعویٰ:ایرانی حملوں میں 200 سے زائد امریکی فوجی ہلاک

پاسداران انقلاب کا دعویٰ:ایرانی حملوں میں 200 سے زائد امریکی فوجی ہلاک-ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران ایرانی جوابی کارروائیوں میں 200 سے زائد امریکی فوجی ہلاک اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے کہا کہ امریکی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے ہلاکتوں اور نقصانات کے اعداد و شمار درست نہیں۔ ان کے بقول ایران کے حملوں میں امریکی فوج کو سرکاری دعوؤں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

جنرل حسین محبی کے مطابق ایرانی کارروائیوں میں خطے میں موجود امریکا کے آٹھ فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایک مقام پر قائم 20 حفاظتی شیلٹرز بھی تباہ کیے گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکی حکومت صحافیوں کو متاثرہ فوجی تنصیبات کا دورہ کرنے کی اجازت دے تاکہ نقصانات کی حقیقت سامنے آ سکے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایرانی حملوں میں امریکی فوج کے 11 جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر تباہ کیے گئے، جن میں ایف-15 جنگی طیارہ، پی-8 بحری نگرانی کا طیارہ، سی-17 ٹرانسپورٹ طیارہ اور آٹھ فضائی ری فیولنگ طیارے شامل ہیں۔ ان کے مطابق 17 جاسوسی اور آپریشنل ڈرونز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں آٹھ جدید ڈرونز بھی شامل تھے۔

پاسداران انقلاب نے اسرائیل کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ دوبارہ جنگ میں شامل ہوا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اسرائیل کی ممکنہ مداخلت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور اس حوالے سے تمام ضروری تیاریاں مکمل ہیں۔

تاہم ایران کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ امریکی حکام یا دیگر متعلقہ فریقوں کی جانب سے بھی ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

ٹرمپ کا بڑا فیصلہ،ایران پر نئے امریکی حملے عارضی طور پر روک دیے

ٹرمپ کا بڑا فیصلہ،ایران پر نئے امریکی حملے عارضی طور پر روک دیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو عارضی طور پر روکنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے فوج کو نئے حملے نہ کرنے کا حکم دیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ فیصلہ وقتی نوعیت کا ہے یا آئندہ بھی برقرار رہے گا۔

رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے ایران کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر امریکی حملوں کی منظوری دی جا رہی تھی، لیکن تازہ منصوبہ صدر ٹرمپ کے سامنے پیش ہونے کے باوجود انہوں نے اس کی منظوری دینے کے بجائے کارروائی روکنے کا فیصلہ کیا۔

ذرائع کے مطابق یہ اقدام اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ سفارتی کوششوں کو موقع دینا چاہتی ہے۔ ساتھ ہی یہ تاثر بھی سامنے آیا ہے کہ اب تک کی فضائی کارروائیوں سے امریکا اپنے اہم فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی فوج ممکنہ بڑے زمینی آپریشن کے مختلف منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے تاحال ایسی کسی کارروائی کی منظوری نہیں دی، جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی اس معاملے پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس ایران کے خلاف کارروائی جاری رکھنے، اسے مزید وسعت دینے اور سخت ترین فوجی اقدامات اختیار کرنے کے تمام آپشن موجود ہیں، تاہم ان کے نزدیک موجودہ حالات میں بہتر حکمت عملی یہ ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے جاری ہیں اور ان کے خیال میں تہران پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ہر ممکن کارروائی کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے باوجود سفارت کاری کا راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے۔

بعد ازاں ایک اور گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ایران اس وقت کسی معاہدے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم وہ ایرانی مؤقف سننے کے خواہاں ہیں۔

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 27 جولائی تک کوئی تبدیلی نہیں ہوگی

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 27 جولائی تک کوئی تبدیلی نہیں ہوگی

وفاقی حکومت نے مسلسل کئی روز تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے بعد آئندہ دو روز کے لیے قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق 26 اور 27 جولائی 2026 کے دوران پیٹرول اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی اور 25 جولائی کو مقرر کیے گئے نرخ ہی نافذ العمل رہیں گے۔

حکومتی فیصلے کے تحت پیٹرول کی قیمت 335 روپے 18 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر برقرار رہے گی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل حکومت نے نئے قیمتوں کے تعین کے نظام کے تحت مسلسل کئی روز تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ تازہ ترین اضافے میں پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 66 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق موجودہ قیمتیں آئندہ دو روز تک برقرار رہیں گی، جس کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی قیمتوں کا اعلان کیا جائے گا۔

سعودی اتحاد کا الحدیدہ میں بڑا فضائی حملہ،حوثی ٹھکانے نشانہ

سعودی اتحاد کا الحدیدہ میں بڑا فضائی حملہ،حوثی ٹھکانے نشانہ

سعودی اتحاد کا الحدیدہ میں بڑا فضائی حملہ،حوثی ٹھکانے نشانہ-سعودی اتحادی افواج نے یمن کے الحدیدہ گورنریٹ میں فضائی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملوں میں حوثیوں سے منسلک فوجی ٹھکانوں اور عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

اتحادی افواج کے جاری کردہ بیان کے مطابق الحدیدہ بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور علاقے کی تمام بندرگاہیں معمول کے مطابق جہاز رانی کے لیے کھلی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کا مقصد ایسے مقامات کو نشانہ بنانا تھا جنہیں بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

سعودی اتحادی افواج نے خبردار کیا کہ اگر حوثیوں کی جانب سے بحری راستوں یا دیگر اہداف کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں تو ان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب حوثیوں سے وابستہ میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی جنگی طیاروں نے الحدیدہ اور جزیرہ کمران میں متعدد فضائی حملے کیے۔ یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق الحدیدہ میں ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی بعض تنصیبات بھی حملوں کی زد میں آئیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثی جماعت انصاراللہ نے ایک روز قبل دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ انصاراللہ کے مطابق مذکورہ جہاز ان کی جانب سے عائد بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل انصاراللہ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدام یمن پر عائد محاصرے اور صنعاء ایئرپورٹ کی بندش کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

تاحال دونوں فریقوں کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کی صورتحال پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔